آؤ ہم اُس کے گھر چلیں
زیارت کا گیت۔ داؤد کا۔
ہمارے باپ کے گھر پہنچنے پر ایک زائر کی خوشی، اُس کے پاؤں سچ مچ پھاٹکوں کے اندر کھڑے ہیں۔ یہ شہر وہ جگہ ہے جہاں قبیلے اکٹھے ہوتے ہیں اور جہاں انصاف سنایا جاتا ہے، اِس لیے وہ اِس کی سلامتی کے لیے دعا کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ وہ یہ اپنے بھائیوں کی خاطر کرتا ہے، اپنی خاطر نہیں۔
122 1میں اُن کے ساتھ خوش ہوا جنہوں نے مجھ سے کہا، ”آؤ ہم اپنے باپ کے گھر چلیں۔“ 2اے یروشلیم، ہمارے قدم تیرے پھاٹکوں کے اندر کھڑے ہیں۔ 3یروشلیم، جو ایسے شہر کی مانند تعمیر کیا گیا جو مضبوطی سے باہم پیوستہ ہے، 4جہاں قبیلے چڑھ کر جاتے ہیں، ہمارے باپ کے قبیلے، جیسا کہ اسرائیل کے لیے فرمان ہے، کہ ہمارے باپ کے نام کا شکر ادا کریں۔ 5کیونکہ وہاں عدالت کے لیے تخت رکھے گئے تھے، داؤد کے گھرانے کے تخت۔
6یروشلیم کی سلامتی کے لیے دعا کرو: ”جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں وہ آرام میں رہیں۔ 7تیری فصیلوں کے اندر سلامتی ہو، تیرے قلعوں کے اندر امن و امان ہو۔“ 8اپنے بھائیوں اور اپنے ساتھیوں کی خاطر میں کہوں گا، ”تیرے اندر سلامتی ہو۔“ 9ہمارے باپ کے گھر کی خاطر میں تیری بھلائی چاہوں گا۔