کیا اِنسان کے لیے کوئی اُمید ہے؟
14 1”اِنسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے، تھوڑے دِنوں والا اور مصیبت سے بھرا ہوتا ہے۔ 2وہ پھول کی طرح نکلتا ہے اور مُرجھا جاتا ہے؛ وہ سائے کی طرح بھاگ جاتا ہے اور ٹھہرتا نہیں۔ 3کیا تُو اَیسے شخص پر اپنی نظر جماتا ہے؟ اور مجھے اپنے ساتھ عدالت میں لاتا ہے؟ 4کون ناپاک میں سے پاک چیز نکال سکتا ہے؟ کوئی نہیں۔ 5چونکہ اُس کے دِن مقرر ہیں، اُس کے مہینوں کی تعداد تیرے پاس ہے، اور تُو نے حدیں ٹھہرا دی ہیں جِنہیں وہ پار نہیں کر سکتا، 6اُس سے اپنی نظر پھیر لے، تاکہ وہ آرام پا سکے، جب تک کہ وہ مزدور کی طرح اپنا دِن پورا نہ کر لے۔
7”کیونکہ درخت کے لیے تو اُمید ہے: اگر وہ کاٹ دیا جائے، تو پھر پھوٹ نکلے گا، اور اُس کی کونپلیں ختم نہ ہوں گی۔ 8اگرچہ اُس کی جڑ زمین میں پُرانی ہو جائے اور اُس کا ٹُنڈ مِٹّی میں مر جائے، 9پانی کی بُو پاتے ہی وہ کونپلیں نکالے گا اور نئے پودے کی طرح شاخیں پھیلائے گا۔ 10لیکن اِنسان مرتا ہے اور پست کیا جاتا ہے؛ آدمی اپنا دم توڑتا ہے، اور پھر وہ کہاں ہے؟ 11جیسے جھیل سے پانی جاتا رہتا ہے، اور دریا گھٹ کر سُوکھ جاتا ہے، 12وَیسے ہی اِنسان لیٹ جاتا ہے اور پھر نہیں اُٹھتا؛ جب تک آسمان قائم ہیں، وہ نہ جاگے گا اور نہ اپنی نیند سے جگایا جائے گا۔
13”کاش کہ تُو مجھے قبر میں چھپا دے، اور مجھے پوشیدہ رکھے جب تک تیرا غضب ٹل نہ جائے، میرے لیے ایک وقت مقرر کرے، اور مجھے یاد رکھے! 14اگر اِنسان مر جائے، تو کیا وہ پھر جیئے گا؟ اپنی سخت خدمت کے سب دِنوں میں مَیں اِنتظار کرتا رہوں گا، جب تک میری تجدید نہ آ جائے۔ 15تُو پکارے گا، اور مَیں تجھے جواب دوں گا؛ تُو اپنے ہاتھوں کی صنعت کا مشتاق ہو گا۔ 16کیونکہ تب تُو میرے قدموں کو گِنے گا؛ تُو میرے گناہ کی نگرانی نہ کرے گا۔ 17میری خطا ایک تھیلی میں مُہربند کر دی جائے گی، اور تُو میرے گناہ کو ڈھانپ دے گا۔
18”لیکن جیسے پہاڑ گِر کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، اور چٹان اپنی جگہ سے سرک جاتی ہے، 19جیسے پانی پتّھروں کو گھِسا دیتا ہے اور اُس کے سیلاب زمین کی مِٹّی بہا لے جاتے ہیں، وَیسے ہی تُو اِنسان کی اُمید کو مِٹا دیتا ہے۔ 20تُو ہمیشہ کے لیے اُس پر غالب آتا ہے، اور وہ گزر جاتا ہے؛ تُو اُس کا چہرہ بگاڑ کر اُسے رُخصت کر دیتا ہے۔ 21اُس کے بیٹے عزت پاتے ہیں، اور وہ نہیں جانتا؛ وہ پست کیے جاتے ہیں، اور وہ خبر نہیں رکھتا۔ 22وہ صِرف اپنے ہی بدن کا درد محسوس کرتا ہے، اور صِرف اپنے ہی لیے ماتم کرتا ہے۔“