ایوب اپنے دوستوں کو جواب دیتا ہے
13 1”دیکھو، میری آنکھ نے یہ سب کچھ دیکھا ہے؛ میرے کان نے اِسے سُنا اور سمجھا ہے۔ 2جو تم جانتے ہو، وہ میں بھی جانتا ہوں؛ میں تم سے کمتر نہیں۔ 3لیکن میں تو قادرِ مطلق سے بات کروں گا، اور میں چاہتا ہوں کہ خُدا کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کروں۔ 4لیکن تم جھوٹ سے لِیپا پوتی کرتے ہو؛ تم سب نکمّے طبیب ہو۔ 5کاش تم بالکل خاموش رہتے—یہی تمہاری دانائی ہوتی! 6اب میری دلیل سُنو، اور میرے ہونٹوں کی التجا پر کان دھرو۔ 7کیا تم خُدا کی طرف سے جھوٹ بولو گے اور اُس کے لیے فریب کی باتیں کہو گے؟ 8کیا تم اُس کی طرفداری کرو گے؟ کیا تم خُدا کے لیے مقدمہ لڑو گے؟ 9جب وہ تمہاری جانچ کرے گا تو کیا تمہارے لیے بھلا ہوگا؟ یا کیا تم اُسے یوں دھوکا دے سکو گے جیسے کسی آدمی کو دھوکا دیتے ہو؟ 10اگر تم چھپ کر طرفداری کرو گے تو وہ ضرور تمہیں جھِڑکے گا۔ 11کیا اُس کی عظمت تمہیں خوفزدہ نہ کرے گی، اور اُس کا رعب تم پر نہ چھا جائے گا؟ 12تمہارے قول راکھ کی مِثالیں ہیں؛ تمہاری دلیلیں مٹی کی بنی ہوئی ہیں۔
13”میرے سامنے خاموش رہو، اور مجھے بولنے دو؛ پھر جو کچھ ہو مجھ پر آ پڑے۔ 14میں کیوں اپنا ہی گوشت خطرے میں ڈالوں اور اپنی جان اپنی ہی ہتھیلی پر رکھوں؟ 15خواہ وہ مجھے قتل ہی کر دے، تو بھی میں اُسی پر اُمید رکھوں گا؛ پھر بھی میں اُس کے رُوبرو اپنی راہوں کی حمایت کروں گا۔ a a v15 اپنے احتجاج میں بھی ایوب کا بھروسا خُدا کی طرف بڑھتا ہے۔ مکمل رشتے کی پیش رفت بعد میں آتی ہے — کتاب کے آخر میں ایوب ہمارے باپ کو رُوبرو دیکھتا ہے۔ 16یہی میری نجات بھی ہوگی، کیونکہ کوئی بےدین شخص اُس کے حضور آنے کی جرأت نہ کرے گا۔ 17میری باتوں کو غور سے سُنو؛ میرا بیان تمہارے کانوں تک پہنچے۔ 18دیکھو، میں نے اپنا مقدمہ تیار کر لیا ہے؛ میں جانتا ہوں کہ میں بےقصور ٹھہروں گا۔ 19کون مجھ سے جھگڑے گا؟ کیونکہ تب میں خاموش ہو کر مر جاؤں گا۔
20”بس مجھے دو باتیں عطا کر، پھر میں تیرے چہرے سے نہ چھپوں گا: 21اپنا ہاتھ مجھ سے دُور ہٹا لے، اور تیرا رعب مجھے خوفزدہ نہ کرے۔ 22پھر تُو بلا، اور میں جواب دوں گا؛ یا مجھے بولنے دے، اور تُو مجھے جواب دے۔ 23میری خطائیں اور میرے گناہ کتنے ہیں؟ مجھے میری سرکشی اور میرا گناہ دِکھا۔ 24تُو کیوں اپنا چہرہ چھپاتا ہے اور مجھے اپنا دشمن گِنتا ہے؟ 25کیا تُو ہوا کے اُڑائے ہوئے پتّے کو ڈرائے گا اور سُوکھے بھوسے کا پیچھا کرے گا؟ 26کیونکہ تُو میرے خلاف تلخ باتیں لکھتا ہے اور مجھے میری جوانی کے گناہوں کا وارث بناتا ہے۔ 27تُو میرے پاؤں کاٹھ میں ڈالتا ہے اور میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے؛ تُو میرے پاؤں کے تلووں کے لیے حد مقرر کرتا ہے۔
28”یوں انسان گلی ہوئی لکڑی کی طرح فنا ہوتا جاتا ہے، اُس لباس کی مانند جسے کیڑا کھا جائے۔“