باپ اپنی آواز بھیجتا ہے
یوحنا بیابان میں منادی کرتا ہے اور اُس سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ لوگ اصل میں کیا کریں: اپنا کرتا بانٹو، زیادہ وصول نہ کرو، زبردستی نہ چھینو۔ وہ ہیرودیس کے گناہ کا نام لیتا ہے اور اسی وجہ سے قید کیا جاتا ہے۔ یسوع باقی سب لوگوں کے ساتھ بپتسمہ لیتا ہے، اور اُس کا باپ اُسے پیارا بیٹا کہتا ہے۔
3 1طبریُس قیصر کی حکومت کے پندرھویں سال میں، جب پنطیُس پیلاطُس یہودیہ کا حاکم تھا، ہیرودیس گلیل کا حاکمِ رُبع تھا، اُس کا بھائی فِلپُّس اِتوریہ اور ترخونیتِس کے علاقے کا، اور لُسانیاس ابِلینے کا، 2حنّاہ اور کائفا کے سردار کاہنوں کے زمانے میں، ہمارے باپ کا کلام بیابان میں زکریاہ کے بیٹے یوحنّا پر نازل ہوا۔ 3اور وہ یردن کے تمام گِردونواح میں گیا اور گناہوں کی معافی کے لیے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کرتا رہا، 4چنانچہ یسعیاہ نبی کے کلام کی کتاب میں لکھا ہے: ”بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز: خُداوند کی راہ تیار کرو، اُس کے راستے سیدھے بناؤ۔ 5ہر ایک وادی بھر دی جائے گی، اور ہر ایک پہاڑ اور ٹیلا پست کیا جائے گا۔ ٹیڑھی راہیں سیدھی ہو جائیں گی، اور ناہموار راستے ہموار، 6اور ہر بشر ہمارے باپ کی نجات دیکھے گا۔“
7پھر یوحنّا نے اُن بھیڑوں سے جو اُس سے بپتسمہ لینے آتی تھیں کہا: ”اے سانپ کے بچّو! تمہیں کس نے آگاہ کیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟ 8پس توبہ کے لائق پھل لاؤ۔ اور اپنے دلوں میں یہ کہنا شروع نہ کرو کہ ’ابرہام ہمارا باپ ہے۔‘ کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ ہمارا باپ اِن پتھروں سے ابرہام کے لیے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔ 9اب تو درختوں کی جڑ پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے؛ پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“
10اور لوگوں نے اُس سے پوچھا: ”تو ہم کیا کریں؟“
11اُس نے جواب میں اُن سے کہا: ”جس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو دے جس کے پاس نہیں؛ اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔“
12محصول لینے والے بھی بپتسمہ لینے آئے اور اُس سے کہا: ”اے اُستاد، ہم کیا کریں؟“
13اُس نے اُن سے کہا: ”جتنا تمہارے لیے مقرر ہے اُس سے زیادہ نہ لینا۔“
14سپاہیوں نے بھی اُس سے پوچھا: ”اور ہم؟ ہم کیا کریں؟“ اُس نے اُن سے کہا: ”کسی پر زبردستی یا جھوٹے اِلزام سے ظلم نہ کرنا؛ اپنی تنخواہ پر قناعت کرنا۔“
15لوگ منتظر تھے اور سب اپنے دلوں میں یوحنّا کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ کہیں یہی مسیح تو نہیں۔ 16یوحنّا نے اُن سب کو جواب دیا: ”میں تو تمہیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔ لیکن ایک مجھ سے زورآور آنے والا ہے، میں اِس لائق نہیں کہ اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولوں۔ وہ تمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔ 17اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کرے گا اور گندم کو اپنے کھتّے میں جمع کرے گا، مگر بھوسے کو اُس آگ میں جلائے گا جو بجھتی نہیں۔“
18اور یوحنّا بہت سی اور نصیحتوں کے ساتھ لوگوں کو خوشخبری سناتا رہا۔ 19لیکن یوحنّا نے ہیرودیس حاکمِ رُبع کو اُس کے بھائی کی بیوی ہیرودیاس کے بارے میں اور اُن تمام بُرائیوں کے بارے میں جو ہیرودیس نے کی تھیں، ملامت کی، 20تو ہیرودیس نے اِن سب کے علاوہ یہ بھی کیا کہ یوحنّا کو قید خانے میں بند کر دیا۔
باپ اپنے بیٹے کو پیارا کہتا ہے
21جب سب لوگ بپتسمہ لے چکے تو یسوع نے بھی بپتسمہ لیا۔ اور جب وہ دعا کر رہا تھا تو آسمان کھل گیا،
22اور رُوحُ القُدس جسمانی صورت میں کبوتر کی مانند اُس پر اُترا۔ اور آسمان سے ایک آواز آئی: ”تُو میرا پیارا بیٹا ہے؛ تجھ سے میں خوش ہوں۔“
23اور یسوع جب اپنی خدمت شروع کرنے لگا تو قریباً تیس برس کا تھا، اور (جیسا کہ سمجھا جاتا تھا) یوسف کا بیٹا تھا، جو ہیلی کا، 24جو مَتّات کا، جو لاوی کا، جو ملکی کا، جو ینّا کا، جو یوسف کا، 25جو متّتیاہ کا، جو عاموس کا، جو ناحوم کا، جو اسلی کا، جو نجی کا، 26جو ماۃ کا، جو متّتیاہ کا، جو سمعی کا، جو یوسیک کا، جو یوداہ کا، 27جو یوحنّان کا، جو ریسا کا، جو زرُبّابل کا، جو سالتی ایل کا، جو نیری کا، 28جو ملکی کا، جو ادّی کا، جو قوسام کا، جو المودام کا، جو عیر کا، 29جو یشوع کا، جو الِیعزر کا، جو یوریم کا، جو مَتّات کا، جو لاوی کا، 30جو شمعون کا، جو یہوداہ کا، جو یوسف کا، جو یونام کا، جو الیاقیم کا، 31جو ملیا کا، جو مِنّاہ کا، جو متّاتاہ کا، جو ناتن کا، جو داؤد کا، 32جو یسّی کا، جو عوبید کا، جو بوعز کا، جو سلمون کا، جو نحسون کا، 33جو عمّینداب کا، جو ادمین کا، جو ارنی کا، جو حصرون کا، جو فارص کا، جو یہوداہ کا، 34جو یعقوب کا، جو اِضحاق کا، جو ابرہام کا، جو تارح کا، جو نحور کا، 35جو سروج کا، جو رعو کا، جو فلج کا، جو عابر کا، جو صلح کا، 36جو قینان کا، جو ارفکسد کا، جو سِم کا، جو نوح کا، جو لمک کا، 37جو متوسلح کا، جو حنوک کا، جو یارد کا، جو مہلل ایل کا، جو قینان کا، 38جو انوس کا، جو سیت کا، جو آدم کا، جو ہمارے باپ کا۔