عبادت میں عزت اور ترتیب
اجتماع میں دو مسئلے: ہمارے باپ سے دعا کرتے وقت سر ڈھکا ہو یا ننگا، اور ایسا عشائے ربانی جس میں امیر پہلے کھا لیتے ہیں جبکہ غریب بھوکے رہتے ہیں۔ یہی آخری بات اس کی وجہ ہے کہ کچھ کمزور اور بیمار ہیں — وہ بدن کو پہچانے بغیر کھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کا انتظار کرو۔
11 1میری مانند بنو، جیسے میں بھی مسیح کی مانند ہوں۔
2اب میں تمہاری تعریف کرتا ہوں کہ تم ہر بات میں مجھے یاد رکھتے ہو اور اُن روایتوں پر قائم رہتے ہو جو میں نے تمہیں سونپی تھیں۔ 3اب میں چاہتا ہوں کہ تم جان لو: ہر مرد کا سر مسیح ہے، عورت کا سر مرد ہے، اور مسیح کا سر ہمارا باپ ہے۔ 4ہر وہ مرد جو اپنے سر کو ڈھانپ کر دعا یا نبوّت کرتا ہے، اپنے سر کی بے حُرمتی کرتا ہے۔ 5لیکن ہر وہ عورت جو بے پردہ سر کے ساتھ دعا یا نبوّت کرتی ہے، اپنے سر کی بے حُرمتی کرتی ہے—یہ اُس کے سر منڈوانے کے برابر ہے۔ 6اگر کوئی عورت اپنا سر ڈھانپنے سے انکار کرے، تو وہ اپنے بال کٹوا لے؛ لیکن چونکہ عورت کے لیے بال کٹوانا یا سر منڈوانا شرم کی بات ہے، اِس لیے وہ اپنا سر ڈھانپ لے۔ 7مرد کو اپنا سر نہیں ڈھانپنا چاہیے، کیونکہ وہ ہمارے باپ کی صورت اور جلال ہے؛ اور عورت مرد کا جلال ہے۔ 8کیونکہ مرد عورت سے نہیں نکلا، بلکہ عورت مرد سے۔ 9اور نہ مرد عورت کے لیے پیدا کیا گیا، بلکہ عورت مرد کے لیے۔ 10اِس لیے عورت کو فرشتوں کے سبب اپنے سر پر اختیار کا نشان رکھنا چاہیے۔
11تاہم، خُداوند میں نہ عورت مرد سے آزاد ہے، اور نہ مرد عورت سے۔ 12کیونکہ جیسے عورت مرد سے نکلی، ویسے ہی مرد عورت کے وسیلہ سے آتا ہے؛ اور سب کچھ ہمارے باپ سے ہے۔ 13تم خود ہی فیصلہ کرو: کیا یہ مناسب ہے کہ عورت بے پردہ سر کے ساتھ ہمارے باپ سے دعا کرے؟ 14کیا خود فطرت تمہیں نہیں سکھاتی کہ مرد کے لیے لمبے بال رکھنا اُس کے لیے رُسوائی ہے، 15لیکن اگر عورت کے لمبے بال ہوں، تو یہ اُس کا جلال ہے، کیونکہ اُس کے بال اُسے پردے کے طور پر دیے گئے ہیں۔ 16اور اگر کوئی اِس بارے میں جھگڑا کرنا چاہے، تو ہماری ایسی کوئی رِیت نہیں، اور نہ ہمارے باپ کی کلیسیاؤں کی۔
خُداوند کی میز کی بے حُرمتی
17یہ حکم دیتے ہوئے میں تمہاری تعریف نہیں کرتا، کیونکہ تمہارا اکٹھا ہونا بہتری کے لیے نہیں بلکہ خرابی کے لیے ہوتا ہے۔ 18کیونکہ اوّل تو، جب تم کلیسیا کے طور پر جمع ہوتے ہو، تو میں سنتا ہوں کہ تمہارے درمیان تفرقے ہیں، اور مجھے کچھ کچھ اِس کا یقین بھی ہے۔ 19کیونکہ تمہارے درمیان تفرقوں کا ہونا بھی ضرور ہے، تاکہ تم میں سے جو کھرے ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔ 20پس جب تم ایک جگہ جمع ہوتے ہو، تو یہ خُداوند کا عشائے ربانی نہیں جو تم کھاتے ہو۔ 21کیونکہ کھاتے وقت ہر ایک اپنا کھانا کھانے میں جلدی کرتا ہے—ایک بھوکا رہتا ہے، اور دوسرا مست ہو جاتا ہے۔ 22کیا کھانے پینے کے لیے تمہارے پاس گھر نہیں؟ یا تم ہمارے باپ کی کلیسیا کو حقیر جانتے ہو اور اُنہیں شرمندہ کرتے ہو جن کے پاس کچھ نہیں؟ میں تم سے کیا کہوں؟ کیا تمہاری تعریف کروں؟ اِس بات میں تو میں تمہاری تعریف نہیں کرتا۔
23کیونکہ مجھے خُداوند سے وہ ملا جو میں نے تمہیں بھی سونپا: خُداوند یسوع نے، جس رات وہ پکڑوایا گیا، روٹی لی،
24اور شکر کرنے کے بعد اُسے توڑا اور کہا، ”یہ میرا بدن ہے، جو تمہارے لیے ہے؛ یہ میری یادگاری کے لیے کرو۔“ 25اِسی طرح، عشائیے کے بعد، اُس نے پیالہ بھی لیا اور کہا، ”یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔ جب کبھی تم اِسے پیو، تو میری یادگاری کے لیے یہ کرو۔“
26کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اور یہ پیالہ پیتے ہو، تو تم خُداوند کی موت کا اعلان کرتے ہو، جب تک وہ نہ آئے۔
27پس جو کوئی ناحق طور پر خُداوند کی روٹی کھائے یا اُس کا پیالہ پیے، وہ خُداوند کے بدن اور خون کا قصوروار ٹھہرے گا۔ 28پس ہر شخص اپنے آپ کو آزمائے، پھر اُس روٹی میں سے کھائے اور اُس پیالے میں سے پیے۔ 29کیونکہ جو کوئی بدن کی تمیز کیے بغیر کھاتا اور پیتا ہے، وہ اپنے اوپر سزا کھاتا اور پیتا ہے۔ 30اِسی سبب سے تم میں سے بہت سے کمزور اور بیمار ہیں، اور کئی سو گئے ہیں۔ 31لیکن اگر ہم اپنے آپ کو صحیح طور پر پرکھتے، تو ہم پر سزا نہ آتی۔ 32جب خُداوند ہماری عدالت کرتا ہے، تو وہ ہمیں تنبیہ کرتا ہے، تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مجرم نہ ٹھہریں۔ 33پس اے میرے بھائیو اور بہنو، جب تم کھانے کے لیے اکٹھے ہو، تو ایک دوسرے کا انتظار کرو۔ 34اگر کوئی بھوکا ہو، تو وہ گھر میں کھا لے، تاکہ تمہارا اکٹھا ہونا سزا کا باعث نہ بنے۔ باقی باتوں کا فیصلہ میں آ کر کروں گا۔