اُس کی چاہت میرے لیے ہے
7 1اے شریف زادی، تیرے پاؤں جوتیوں میں کتنے خوبصورت ہیں! تیری رانوں کے خم جواہرات کی مانند ہیں، جو کسی ماہر کاریگر کے ہاتھوں کی صنعت ہو۔ 2تیری ناف ایک گول پیالہ ہے جس میں آمیختہ مَے کبھی کم نہیں ہوتی۔ تیرا پیٹ گیہوں کا ڈھیر ہے جو سوسنوں سے گِھرا ہوا ہے۔ 3تیری دونوں چھاتیاں دو ہرنوٹوں کی مانند ہیں، جو غزال کے جُڑواں بچے ہوں۔ 4تیری گردن ہاتھی دانت کے بُرج کی مانند ہے۔ تیری آنکھیں حسبون کے حوض ہیں، بت ربّیم کے پھاٹک کے پاس۔ تیری ناک لبنان کے بُرج کی مانند ہے، جو دمشق کی طرف تکتا ہے۔ 5تیرا سر کرمل کی مانند تجھ پر تاج ہے، اور تیری لہراتی زُلفیں ارغوانی رنگ کی مانند ہیں؛ ایک بادشاہ اُن کی لٹوں میں اسیر ہے۔ 6اے محبوبہ، تُو کتنی خوبصورت اور کتنی دلکش ہے، اپنی تمام لطافتوں کے ساتھ! 7تیرا قد کھجور کے درخت کی مانند ہے، اور تیری چھاتیاں اُس کے گُچھوں کی مانند۔ 8میں نے کہا، ”میں کھجور کے درخت پر چڑھوں گا اور اُس کے پھل کو تھام لوں گا۔“ تیری چھاتیاں انگور کے گُچھوں کی مانند ہوں، اور تیرے سانس کی خوشبو سیبوں کی مانند، 9اور تیرا منہ بہترین مَے کی مانند ہو۔ وہ میرے محبوب کے لیے نرمی سے بہتی ہے، ہونٹوں اور دانتوں پر آہستگی سے پھسلتی ہوئی۔
10میں اپنے محبوب کی ہوں، اور اُس کی چاہت میرے لیے ہے۔ 11آ، اے میرے محبوب، ہم کھیتوں میں نکل چلیں اور گاؤں میں رات گزاریں۔ 12ہم صبح سویرے تاکستانوں میں چلیں اور دیکھیں کہ انگور کی بیلوں میں کونپلیں پھوٹیں یا نہیں، کہ شگوفے کھلے یا نہیں اور انار پھولے یا نہیں۔ وہاں میں تجھے اپنی محبت دوں گی۔ 13مردم گیاہ اپنی خوشبو دیتے ہیں، اور ہمارے دروازوں پر ہر طرح کے بہترین پھل ہیں، نئے اور پرانے، جو میں نے تیرے لیے، اے میرے محبوب، جمع کر رکھے ہیں۔ a a v13 مردم گیاہ خوشبودار پودے تھے جن کے بارے میں قدیم دنیا میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عشق کی خواہش کو اُبھارتے اور زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔