ٹھوکروں اور معافی کے بارے میں
دن میں سات بار معاف کرو۔ ایک بیج جتنا ایمان کافی ہے۔ جو نوکر اپنا فرض ادا کرتے ہیں وہ کوئی داد نہیں مانگتے۔ دس کوڑھی شفا پاتے ہیں اور ایک، جو سامری ہے، ہمارے باپ کی تمجید کرتا ہوا لوٹتا ہے۔ بادشاہی کوئی ایسی جگہ نہیں جس کی طرف اشارہ کیا جائے؛ وہ پہلے ہی اُن کے درمیان ہے۔
17 1اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا، ”ٹھوکریں تو ضرور آئیں گی، لیکن اُس پر افسوس جس کے وسیلے سے وہ آتی ہیں! 2اُس کے لیے بہتر ہوتا کہ اُس کے گلے میں چکّی کا پاٹ باندھ کر اُسے سمندر میں پھینک دیا جاتا، بہ نسبت اِس کے کہ وہ اِن چھوٹوں میں سے کسی ایک کو ٹھوکر کھلائے۔
3”اپنی نگرانی کرو۔ اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اُسے ملامت کر، اور اگر وہ توبہ کرے تو اُسے معاف کر دے۔ 4اور اگر وہ دن میں سات بار تیرا گناہ کرے اور سات بار لوٹ کر کہے، ’میں توبہ کرتا ہوں،‘ تو اُسے معاف کر دے۔“
5رسولوں نے خُداوند سے کہا، ”ہمارا ایمان بڑھا دے!“
6خُداوند نے کہا، ”اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر ہوتا، تو تم اِس شہتوت کے درخت سے کہہ سکتے، ’جڑ سے اُکھڑ کر سمندر میں لگ جا،‘ اور وہ تمہاری فرماں برداری کرتا۔ 7تم میں سے کون ہے جس کا نوکر ہل چلاتا یا بھیڑیں چراتا ہو، اور جب وہ کھیت سے آئے تو وہ اُس سے کہے، ’فوراً آ اور کھانے پر بیٹھ جا‘؟ 8کیا وہ اِس کے بجائے یوں نہ کہے گا، ’میرا کھانا تیار کر، اور کمر باندھ کر میری خدمت کر جب تک میں کھاؤں پیوں، اِس کے بعد تُو کھا پی لینا‘؟
9”کیا وہ اُس نوکر کا شکریہ ادا کرتا ہے، اِس لیے کہ اُس نے وہی کیا جس کا حکم دیا گیا تھا؟ 10اِسی طرح تم بھی، جب سب کچھ کر چکو جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا، تو کہو، ’ہم نکمّے نوکر ہیں؛ ہم نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔‘“
باپ دس کوڑھیوں کو شفا بخشتا ہے
11یروشلیم کی راہ میں وہ سامریہ اور گلیل کے درمیان سے گزر رہا تھا۔ 12جب وہ ایک گاؤں میں داخل ہوا تو دس کوڑھی آدمی اُس سے ملے۔ وہ دُور کھڑے ہو گئے،
13اور بلند آواز سے پکار اُٹھے، ”اے یسوع، اے آقا، ہم پر رحم کر!“
14اُنہیں دیکھ کر اُس نے کہا، ”جاؤ، اپنے آپ کو کاہنوں کو دکھاؤ۔“ اور جاتے جاتے وہ پاک صاف ہو گئے۔
15اُن میں سے ایک نے جب دیکھا کہ وہ شفا پا گیا ہے، تو بلند آواز سے ہمارے باپ کی حمد کرتا ہوا لوٹ آیا، 16اور یسوع کے قدموں پر منہ کے بل گر کر اُس کا شکر ادا کرنے لگا۔ اور وہ سامری تھا۔
17یسوع نے کہا، ”کیا دسوں پاک صاف نہ ہوئے تھے؟ پھر وہ نو کہاں ہیں؟ 18کیا اِس پردیسی کے سوا کوئی ایسا نہ نکلا جو لوٹ کر ہمارے باپ کی تمجید کرے؟“ 19پھر اُس نے اُس سے کہا، ”اُٹھ اور چلا جا؛ تیرے ایمان نے تجھے شفا بخشی ہے۔“
بادشاہی تو پہلے ہی تمہارے درمیان ہے
20جب فریسیوں نے پوچھا کہ ہمارے باپ کی بادشاہی کب آئے گی، تو اُس نے اُنہیں جواب دیا، ”ہمارے باپ کی بادشاہی ظاہری آثار کے ساتھ نہیں آتی، 21اور نہ لوگ کہیں گے، ’دیکھو، یہاں ہے!‘ یا ’وہاں ہے!‘ کیونکہ دیکھو، ہمارے باپ کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔“
22اُس نے شاگردوں سے کہا، ”وہ دن آئیں گے جب تم اِبنِ آدم کے دنوں میں سے ایک دن دیکھنے کی آرزو کرو گے، لیکن نہ دیکھ پاؤ گے۔ 23وہ تم سے کہیں گے، ’دیکھو، وہاں ہے!‘ یا ’دیکھو، یہاں ہے!‘ تم نہ جانا، نہ اُن کے پیچھے دوڑنا۔ 24کیونکہ جس طرح بجلی کوند کر آسمان کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کر دیتی ہے، اُسی طرح اِبنِ آدم اپنے دن میں ہو گا۔ 25لیکن پہلے ضرور ہے کہ وہ بہت دُکھ اُٹھائے اور اِس نسل کے ہاتھوں رد کیا جائے۔ 26اور جیسے نوح کے دن تھے، ویسے ہی اِبنِ آدم کے دن ہوں گے۔ 27لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دن آ گیا جب نوح کشتی میں داخل ہوا، اور طوفان آیا اور اُن سب کو ہلاک کر دیا۔ 28اِسی طرح لوط کے دنوں میں بھی ہوا: لوگ کھاتے پیتے، خریدتے بیچتے، بوتے اور مکان بناتے رہے، 29لیکن جس دن لوط سدوم سے نکلا، آسمان سے آگ اور گندھک برسی اور اُن سب کو ہلاک کر دیا، 30اُسی طرح اُس دن ہو گا جب اِبنِ آدم ظاہر ہو گا۔ 31اُس دن جو کوئی چھت پر ہو اور اُس کا سامان گھر کے اندر ہو، وہ اُسے لینے کے لیے نیچے نہ اُترے؛ اور اِسی طرح جو کوئی کھیت میں ہو، وہ پیچھے کو نہ لوٹے۔ 32لوط کی بیوی کو یاد رکھو۔ 33جو کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا وہ اُسے کھو دے گا، لیکن جو کوئی اپنی جان کھو دے گا وہ اُسے بچائے گا۔ 34میں تم سے کہتا ہوں، اُس رات دو ایک ہی چارپائی پر ہوں گے: ایک اُٹھا لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ 35دو عورتیں ایک ساتھ چکّی پیستی ہوں گی؛ ایک اُٹھا لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔“ a a v35 قدیم ترین نسخوں میں یہاں آیت ۳۶ موجود نہیں؛ بعد کے نسخوں میں یہ اضافہ ہے: ”دو آدمی کھیت میں ہوں گے؛ ایک اُٹھا لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔“
37اُنہوں نے پوچھا، ”کہاں، اے خُداوند؟“ اُس نے کہا، ”جہاں کہیں لاش ہو گی، وہیں گِدھ جمع ہو جائیں گے۔“