اِن میں سب سے بڑی
ہر وہ نعمت جس پر وہ مقابلہ کر رہے ہیں — زبانیں، نبوت، علم، پہاڑ ہٹا دینے والا ایمان، یہاں تک کہ سب کچھ دے دینا — محبت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ محبت صابر ہے، بدیوں کا حساب نہیں رکھتی، اور نعمتوں سے زیادہ دیر قائم رہتی ہے، جو اُس وقت ختم ہو جائیں گی جب ہم روبرو دیکھیں گے۔
13 1اگر میں اِنسانوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں، لیکن محبت نہ رکھوں، تو میں محض ٹھنٹھناتا پیتل اور جھنجھناتی جھانجھ ہوں۔ 2اور اگر مجھے نبوّت کرنے کی توفیق ہو، اور میں تمام بھیدوں اور تمام علم کو سمجھوں، اور مجھے اِتنا اِیمان حاصل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹا دوں، لیکن محبت نہ رکھوں، تو میں کچھ بھی نہیں۔ 3اور اگر میں اپنا سارا مال بانٹ دوں، اور اپنا بدن سپرد کر دوں تاکہ فخر کروں، لیکن محبت نہ رکھوں، تو مجھے کچھ فائدہ نہیں۔
4محبت صبر کرتی ہے، محبت مہربان ہے۔ وہ حسد نہیں کرتی، فخر نہیں کرتی، مغرور نہیں ہوتی۔ 5وہ بے اَدب نہیں، اپنی بہتری نہیں چاہتی، جھنجھلاتی نہیں، بدی کا حساب نہیں رکھتی۔ 6محبت ناراستی سے خوش نہیں ہوتی، بلکہ سچائی کے ساتھ خوشی مناتی ہے۔ 7وہ سب کچھ سہہ لیتی ہے، ہر بات پر اِعتبار کرتی ہے، ہر بات کی اُمید رکھتی ہے، ہر حال میں ثابت قدم رہتی ہے۔
8محبت کبھی زائل نہیں ہوتی۔ لیکن نبوّتیں ختم ہو جائیں گی، زبانیں تھم جائیں گی، اور علم مِٹ جائے گا۔ 9کیونکہ ہمارا علم ادھورا ہے اور ہماری نبوّت ادھوری ہے، 10لیکن جب کمال آئے گا، تو جو ادھورا ہے وہ جاتا رہے گا۔ 11جب میں بچہ تھا، تو بچے کی طرح بولتا تھا، بچے کی طرح سوچتا تھا، بچے کی طرح سمجھتا تھا۔ لیکن جب میں مرد ہوا، تو میں نے بچپن کی باتیں ترک کر دیں۔ 12کیونکہ اب ہم آئینے میں دھندلا عکس دیکھتے ہیں؛ لیکن اُس وقت رُوبرُو دیکھیں گے۔ اب میرا علم ادھورا ہے؛ لیکن اُس وقت میں پورے طور پر جان لوں گا، جیسے میں پورے طور پر جانا گیا ہوں۔ 13اور اب یہ تینوں قائم رہتی ہیں: اِیمان، اُمید اور محبت۔ لیکن اِن میں سب سے بڑی محبت ہے۔