جنگلی گدھے کو کس نے آزاد کیا؟
39 1”کیا تُو جانتا ہے کہ پہاڑی بکریاں کب بچہ دیتی ہیں؟ کیا تُو ہرنیوں کی نگرانی کرتا ہے جب وہ بچہ جنتی ہیں؟ 2کیا تُو اُن مہینوں کو گِن سکتا ہے جن میں وہ اپنے بچے کو اُٹھائے پھرتی ہیں؟ کیا تُو اُس وقت کو جانتا ہے جب وہ بچہ دیتی ہیں؟ 3وہ جھک جاتی ہیں اور بچہ جنتی ہیں؛ اُن کے دردِ زہ ختم ہو جاتے ہیں۔ 4اُن کے بچے کھلے میدان میں طاقتور ہو جاتے ہیں؛ وہ چلے جاتے ہیں اور واپس نہیں لوٹتے۔
5”جنگلی گدھے کو کس نے آزاد کیا؟ اُس تیز رفتار گدھے کی رسّیاں کس نے کھولیں، 6جسے مَیں نے بیابان کو اُس کا گھر اور شور زمین کو اُس کی رہائش گاہ بخشی؟ 7وہ شہر کے شور کو حقیر جانتا ہے اور ہانکنے والے کی للکار کبھی نہیں سنتا۔ 8وہ اپنی چراگاہ کی تلاش میں پہاڑوں پر پھرتا ہے، ہر ہری چیز کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔
9”کیا جنگلی سانڈ تیری خدمت کرنے پر راضی ہوگا؟ کیا وہ تیری چرنی کے پاس رات گزارے گا؟ 10کیا تُو جنگلی سانڈ کو رسّیوں سے قطار میں باندھ سکتا ہے؟ کیا وہ تیرے پیچھے پیچھے وادیوں میں ہل چلائے گا؟ 11کیا تُو اُس پر بھروسا کرے گا اِس لیے کہ اُس کی طاقت بڑی ہے؟ کیا تُو اپنی محنت اُس کے سپرد کرے گا؟ 12کیا تُو اُس پر اِتنا بھروسا کرے گا کہ وہ تیرا اناج واپس لائے اور اُسے تیرے کھلیان میں جمع کرے؟
13”شترمرغ کے پَر خوشی سے پھڑپھڑاتے ہیں، لیکن کیا وہ لق لق کے پَر و بال ہیں؟ 14وہ اپنے انڈے زمین پر چھوڑ دیتی ہے اور اُنہیں مٹی میں گرم ہونے دیتی ہے، 15یہ بھول کر کہ کوئی پاؤں اُنہیں کچل سکتا ہے، یا کوئی جنگلی جانور اُنہیں روند سکتا ہے۔ 16وہ اپنے بچوں کے ساتھ سختی سے پیش آتی ہے، گویا وہ اُس کے اپنے نہ ہوں؛ اُسے اِس کا کوئی خوف نہیں کہ اُس کی محنت رائیگاں گئی، 17کیونکہ مَیں نے اُسے حکمت بھلا دی اور اُسے سمجھ میں کوئی حصہ نہ دیا۔ 18پھر بھی جب وہ دوڑنے لگتی ہے، تو گھوڑے اور اُس کے سوار پر ہنستی ہے۔
19”کیا تُو گھوڑے کو اُس کی طاقت بخشتا ہے؟ کیا تُو اُس کی گردن کو لہراتی ایال سے سنوارتا ہے؟ 20کیا تُو اُسے ٹِڈّی کی طرح کُدواتا ہے؟ اُس کی مغرور ہنہناہٹ دہشت طاری کر دیتی ہے۔ 21وہ وادی میں سُم مارتا ہے اور اپنی طاقت پر اِتراتا ہے؛ وہ لڑائی میں جھپٹتا ہے۔ 22وہ خوف پر ہنستا ہے اور دہشت زدہ نہیں ہوتا؛ وہ تلوار کے سامنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ 23ترکش اُس پر کھڑکھڑاتا ہے، چمکتا بھالا اور برچھی۔ 24شدید، جوش بھری اُمنگ کے ساتھ وہ زمین کو نگل جاتا ہے؛ جب نرسنگا بجتا ہے تو وہ ٹِک نہیں سکتا۔ 25نرسنگے کی آواز پر وہ کہتا ہے، ’آہا!‘ وہ دُور سے لڑائی کی بُو پا لیتا ہے، سرداروں کی گرج اور جنگی نعرہ۔
26”کیا باز تیری سمجھ سے اُڑان بھرتا اور اپنے پَر جنوب کی طرف پھیلاتا ہے؟ 27کیا تیرے حکم پر عقاب بلند پرواز کرتا اور اونچائی پر اپنا گھونسلا بناتا ہے؟ 28وہ چٹان پر رہتا اور وہیں اپنا ٹھکانا بناتا ہے، پتھریلی چوٹی پر، اپنے قلعے میں۔ 29وہاں سے وہ اپنا شکار ڈھونڈتا ہے؛ اُس کی آنکھیں دُور سے اُسے دیکھ لیتی ہیں۔ 30اُس کے بچے خون پیتے ہیں، اور جہاں کہیں مقتول پڑے ہوں، وہاں وہ موجود ہوتا ہے۔“