نعومی کی تدبیر
نعومی روت کو رات کے وقت کھلیہان پر بھیجتی ہے کہ بوعز سے کہے کہ اپنا دامن اُس پر پھیلائے۔ وہ چونک اُٹھتا ہے، پھر خوش ہوتا ہے: وہ اُسے نیک خاتون کہتا ہے، ہمارے باپ کے نام سے اُسے برکت دیتا ہے، اور قسم کھاتا ہے کہ اگر کوئی قریبی رشتہ دار نہ چھڑائے تو وہ اُسے چھڑائے گا۔
3 1پھر اُس کی ساس نعومی نے اُس سے کہا، ”اے میری بیٹی، کیا مجھے تیرے لیے ایسا ٹھکانا نہ ڈھونڈنا چاہیے جہاں تیرا بھلا ہو؟ 2کیا بوعز، جس کی جوان عورتوں کے ساتھ تُو رہی، ہمارا رشتہ دار نہیں؟ دیکھ، آج رات وہ کھلیان میں جَو پھٹکے گا۔ 3پس تُو نہا، خوشبو لگا، اپنی چادر اوڑھ کر کھلیان کو جا، لیکن جب تک وہ کھا پی نہ چکے اُس مرد پر اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا۔ 4اور جب وہ لیٹ جائے تو اُس جگہ کو یاد رکھنا جہاں وہ لیٹا ہو؛ پھر جا کر اُس کے پاؤں کھول دینا اور لیٹ جانا، اور وہ تجھے بتا دے گا کہ تجھے کیا کرنا ہے۔“
5روت نے اُس سے کہا، ”جو کچھ تُو کہتی ہے میں سب کروں گی۔“ 6چنانچہ وہ کھلیان کو گئی اور جو کچھ اُس کی ساس نے اُسے بتایا تھا سب کیا۔ 7جب بوعز کھا پی چکا اور اُس کا دل خوش ہوا تو وہ اناج کے ڈھیر کے کنارے لیٹ گیا۔ تب وہ چپکے سے آئی اور اُس کے پاؤں کھول کر لیٹ گئی۔ 8آدھی رات کو وہ مرد چونک اُٹھا اور کروٹ بدلی تو دیکھا کہ ایک عورت اُس کے پاؤں کے پاس لیٹی ہے! 9اُس نے پوچھا، ”تُو کون ہے؟“ اُس نے کہا، ”میں تیری خادمہ روت ہوں۔ اپنی چادر کا دامن اپنی خادمہ پر پھیلا دے، کیونکہ تُو ولی ہے۔“ a a v9 کسی پر اپنے کپڑے کا دامن پھیلانا شادی اور پناہ کی درخواست تھی۔
10اُس نے کہا، ”اے میری بیٹی، تُو ہمارے باپ کی طرف سے مبارک ہو۔ تُو نے یہ آخری مہربانی پہلی سے بھی بڑھ کر دکھائی، کیونکہ تُو غریب یا امیر جوانوں کے پیچھے نہ گئی۔ 11اور اب، اے میری بیٹی، مت ڈر۔ جو کچھ تُو کہے گی میں تیرے لیے کروں گا، کیونکہ میرا سارا شہر جانتا ہے کہ تُو نیک عورت ہے۔ 12اب یہ سچ ہے کہ میں ولی ہوں، تو بھی مجھ سے قریب تر ایک اَور ولی موجود ہے۔ 13آج رات یہیں رہ۔ صبح کو اگر وہ تیرا ولی بننا چاہے تو اچھا، وہ ولی بنے؛ لیکن اگر وہ تجھے چھڑانا نہ چاہے تو ہمارے باپ کی حیات کی قسم، میں تجھے چھڑاؤں گا۔ صبح تک لیٹی رہ۔“
14پس وہ صبح تک اُس کے پاؤں کے پاس لیٹی رہی، اور اِس سے پہلے کہ کوئی کسی کو پہچان سکے وہ اُٹھ گئی، کیونکہ اُس نے کہا تھا، ”کسی کو معلوم نہ ہو کہ کوئی عورت کھلیان میں آئی تھی۔“ 15پھر اُس نے کہا، ”جو چادر تُو نے اوڑھ رکھی ہے وہ لا اور اُسے تھام لے۔“ اُس نے اُسے تھام لیا، اور اُس نے جَو کے چھ پیمانے ناپ کر اُس پر رکھ دیے اور شہر میں چلا گیا۔
16جب روت اپنی ساس کے پاس آئی تو نعومی نے پوچھا، ”اے میری بیٹی، کیا ہوا؟“ تب اُس نے سب کچھ بتا دیا جو اُس مرد نے اُس کے لیے کیا تھا۔ 17اور اُس نے کہا، ”اُس نے مجھے جَو کے یہ چھ پیمانے دیے اور کہا، ’اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ لوٹنا۔‘“
18نعومی نے کہا، ”اے میری بیٹی، ٹھہری رہ جب تک تُو نہ جان لے کہ اِس کا کیا انجام ہوتا ہے، کیونکہ وہ مرد چین سے نہ بیٹھے گا جب تک آج ہی اِس بات کو طے نہ کر لے۔“