باپ کی حیرت انگیز فیاضی
ہمارے باپ کی فیاضی حیران کر دیتی ہے: شام پانچ بجے رکھے گئے مزدوروں کو پورے دن کی مزدوری ملتی ہے، اور صبح والوں کو یہ بُرا لگتا ہے۔ ایک ماں دو تخت مانگتی ہے؛ یسوع ایک پیالہ پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بڑائی غلامی جیسی دکھتی ہے۔ دو اندھے بھکاری، جنہیں چپ رہنے کو کہا جاتا ہے، اور زور سے پکارتے ہیں اور سنے جاتے ہیں۔
20 1”کیونکہ ہمارے باپ کی بادشاہی اُس زمیندار کی مانند ہے جو صبح سویرے نکلا تاکہ اپنے انگور کے باغ کے لیے مزدور لگائے۔ 2اُس نے مزدوروں کو ایک دن کی پوری مزدوری دینے پر راضی کر لیا اور اُنہیں اپنے انگور کے باغ میں بھیج دیا۔ 3پھر پہر دن چڑھے وہ نکلا اور اُس نے کچھ اَور لوگوں کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔ 4اُس نے اُن سے کہا، ’تم بھی انگور کے باغ میں چلے جاؤ؛ جو کچھ واجب ہوگا میں تمہیں دوں گا۔‘ چنانچہ وہ چلے گئے۔ 5پھر وہ دوپہر کے قریب اور تیسرے پہر پھر نکلا اور اُس نے ویسا ہی کیا۔ 6پھر شام کے پانچ بجے کے قریب وہ نکلا اور اُس نے کچھ اَور لوگوں کو کھڑے پایا۔ اُس نے پوچھا، ’تم دن بھر یہاں بیکار کیوں کھڑے رہے؟‘“
7”اُنہوں نے کہا، ’اِس لیے کہ کسی نے ہمیں کام پر نہیں لگایا۔‘ اُس نے کہا، ’تم بھی انگور کے باغ میں چلے جاؤ۔‘
8”جب شام ہوئی تو انگور کے باغ کے مالک نے اپنے منتظم سے کہا، ’مزدوروں کو بلا اور اُنہیں اُن کی مزدوری دے، پچھلوں سے لے کر پہلوں تک۔‘ 9اور جب وہ آئے جو پانچ بجے کے قریب کام پر لگائے گئے تھے، تو اُن میں سے ہر ایک کو ایک دن کی پوری مزدوری ملی۔ 10جب پہلے آئے تو اُنہوں نے سمجھا کہ ہمیں زیادہ ملے گا، مگر اُن میں سے ہر ایک کو بھی ایک دن کی پوری مزدوری ہی ملی۔ 11اور جب اُنہوں نے یہ لیا تو زمیندار پر بڑبڑانے لگے، 12اور کہنے لگے، ’اِن پچھلوں نے صرف ایک گھنٹہ کام کیا، پھر بھی تُو نے اِنہیں ہمارے برابر کر دیا، جنہوں نے دن بھر کا بوجھ اور جھلسا دینے والی گرمی سہی۔‘
13”اُس نے اُن میں سے ایک کو جواب دیا، ’بھائی، میں تجھ پر ظلم نہیں کر رہا۔ کیا تُو ایک دن کی پوری مزدوری پر مجھ سے راضی نہ ہوا تھا؟ 14جو تیرا ہے وہ لے اور چلا جا۔ میں اِس پچھلے مزدور کو بھی اُتنا ہی دینا چاہتا ہوں جتنا تجھے۔ 15کیا مجھے یہ حق نہیں کہ جو میرا ہے اُس کے ساتھ جو چاہوں کروں؟ یا تُو اِس لیے حسد کرتا ہے کہ میں فیاض ہوں؟‘ 16پس پچھلے پہلے ہوں گے اور پہلے پچھلے۔“
یسوع صلیب کی پیشین گوئی کرتا ہے
17جب یسوع یروشلیم کو جا رہا تھا تو اُس نے اُن بارہ کو الگ لے جا کر راستے میں اُن سے کہا،
18”دیکھو، ہم یروشلیم کو جا رہے ہیں، اور اِبنِ آدم سردار کاہنوں اور فقیہوں کے حوالے کیا جائے گا، جو اُسے قتل کی سزا کا حکم دیں گے، 19اور اُسے غیر قوموں کے حوالے کریں گے تاکہ وہ اُس کا ٹھٹھا اُڑائیں اور کوڑے ماریں اور مصلوب کریں—اور تیسرے دن وہ جی اُٹھے گا۔“
حقیقی بڑائی خدمت میں ہے
20تب زبدی کے بیٹوں کی ماں اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر اُس کے پاس آئی، اور جھک کر اُس سے کچھ مانگنے لگی۔
21اُس نے اُس سے پوچھا، ”تُو کیا چاہتی ہے؟“ اُس نے کہا، ”فرما کہ میرے یہ دونوں بیٹے تیری بادشاہی میں ایک تیرے دہنے اور ایک تیرے بائیں بیٹھیں۔“
22مگر یسوع نے جواب دیا، ”تم نہیں جانتے کہ کیا مانگ رہے ہو۔ کیا تم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے کو ہوں؟“ اُنہوں نے کہا، ”ہم پی سکتے ہیں۔“
23اُس نے کہا، ”تم میرا پیالہ تو پیو گے، مگر میرے دہنے اور بائیں بٹھانا میرے اختیار میں نہیں—یہ اُن کے لیے ہے جن کے لیے میرے باپ نے تیار کیا ہے۔“
24جب اُن دس نے یہ سنا تو وہ اُن دونوں بھائیوں پر ناراض ہوئے۔
25یسوع نے اُنہیں پاس بلا کر کہا، ”تم جانتے ہو کہ غیر قوموں کے حاکم اُن پر حکومت جتاتے ہیں، اور اُن کے بڑے لوگ اُن پر اختیار چلاتے ہیں۔ 26تمہارے درمیان ایسا نہ ہو۔ بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادم بنے، 27اور جو تم میں اوّل ہونا چاہے وہ تمہارا غلام بنے، 28جس طرح اِبنِ آدم اِس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لیے کہ خدمت کرے، اور بہتوں کے فدیے میں اپنی جان دے۔“
دو اندھوں کو بینائی ملتی ہے
29اور جب وہ یریحو سے نکل رہے تھے تو ایک بڑی بھیڑ اُس کے پیچھے ہو لی۔ 30دو اندھے جو راستے کے کنارے بیٹھے تھے، یہ سن کر کہ یسوع اُدھر سے گزر رہا ہے، چلّا اُٹھے، ”اے خُداوند، اے ابنِ داؤد، ہم پر رحم کر!“ a a v30 ’ابنِ داؤد‘ اُس موعودہ بادشاہ کا ایک مشہور یہودی لقب تھا جو داؤد کی شاہی نسل سے آنے والا تھا۔ 31بھیڑ نے اُنہیں ڈانٹا کہ چپ رہیں، مگر وہ اَور زور سے چلّائے، ”اے خُداوند، اے ابنِ داؤد، ہم پر رحم کر!“
32یسوع نے ٹھہر کر اُنہیں بلایا اور کہا، ”تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے کروں؟“
33اُنہوں نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، ہماری آنکھیں کھل جائیں۔“
34اور یسوع نے رحم کھا کر اُن کی آنکھوں کو چھوا، اور فوراً اُنہیں بینائی مل گئی اور وہ اُس کے پیچھے ہو لیے۔