ایوب کا جواب: شریر کیوں خوشحال ہوتے ہیں؟
21 1تب ایوب نے جواب دیا: 2”میری باتوں کو غور سے سنو، اور یہی تمہاری طرف سے میری تسلی ہو۔ 3میری برداشت کرو جب میں بولوں، اور میرے بولنے کے بعد تم ٹھٹھا کرتے رہنا۔ 4میری شکایت کیا کسی انسان کے خلاف ہے؟ پھر میں بےصبر کیوں نہ ہوں؟ 5مجھ پر نظر کرو اور دنگ رہ جاؤ، اور اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھو۔ 6جب میں اسے یاد کرتا ہوں تو دہشت کھاتا ہوں، اور میرے بدن پر تھرتھری چھا جاتی ہے۔ 7شریر کیوں جیتے رہتے ہیں، بوڑھے ہوتے اور قوت میں بڑھتے جاتے ہیں؟ 8اُن کی اولاد اُن کے ساتھ اُن کی آنکھوں کے سامنے قائم اور محفوظ رہتی ہے، اور اُن کی نسل اُن کی نگاہ کے سامنے۔ 9اُن کے گھر سلامت اور خوف سے آزاد ہیں، اور خُدا کی چھڑی اُن پر نہیں پڑتی۔ 10اُن کا بیل جفتی کرتا ہے اور کبھی خطا نہیں کرتا؛ اُن کی گائے بچھڑا دیتی ہے اور اُس کا حمل نہیں گرتا۔ 11وہ اپنے چھوٹوں کو ریوڑ کی طرح آزاد چھوڑ دیتے ہیں، اور اُن کے بچے کودتے پھرتے ہیں۔ 12وہ دف اور بربط پر گاتے ہیں اور بانسری کی آواز پر خوشی مناتے ہیں۔ 13وہ اپنے دن خوشحالی میں گزارتے ہیں، اور سلامتی سے قبر میں اُترتے ہیں۔ 14پھر بھی وہ خُدا سے کہتے ہیں، ’ہمیں چھوڑ دے! ہم تیری راہوں کو جاننے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔ 15قادرِ مطلق کیا ہے کہ ہم اُس کی خدمت کریں؟ اور اُس سے دعا کرنے میں ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟‘ 16لیکن اُن کی خوشحالی اُن کے اپنے ہاتھ میں نہیں؛ شریروں کی صلاح سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ 17کتنی بار شریروں کا چراغ بجھایا جاتا ہے؟ کتنی بار اُن پر آفت آ پڑتی ہے؟ کتنی بار خُدا اپنے قہر میں دُکھ بانٹتا ہے؟ 18کتنی بار وہ ہوا کے آگے بھوسے کی مانند ہوتے ہیں، اُس بھوسی کی طرح جسے آندھی اُڑا لے جاتی ہے؟ 19تم کہتے ہو، ’خُدا آدمی کی سزا اُس کے بچوں کے لیے جمع رکھتا ہے۔‘ کاش وہ خود اُسی آدمی کو بدلہ دے، تاکہ وہ اسے جان لے۔ 20اُس کی اپنی آنکھیں اُس کی تباہی دیکھیں، اور وہ قادرِ مطلق کے قہر کا جام پیے۔ 21کیونکہ اُسے اپنے بعد اپنے گھرانے کی کیا پروا، جب اُس کے مہینے کاٹ دیے جائیں؟ 22کیا کوئی خُدا کو علم سکھا سکتا ہے، جبکہ وہی بلندی والوں کا انصاف کرتا ہے؟ 23ایک شخص پوری توانائی میں مرتا ہے، بالکل آسودہ اور محفوظ، 24اُس کا بدن خوب فربہ اور اُس کی ہڈیوں کا گودا ابھی تر ہے۔ 25دوسرا تلخ جان لیے مرتا ہے، اُس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں چکھی۔ 26وہ دونوں مل کر خاک میں لیٹ جاتے ہیں، اور کیڑے اُن دونوں کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ 27دیکھو، میں تمہارے خیالات جانتا ہوں، اور وہ سازشیں بھی جو تم مجھ پر ظلم کرنے کے لیے کرتے ہو۔ 28کیونکہ تم کہتے ہو، ’اب امیر کا گھر کہاں ہے؟ وہ خیمہ کہاں ہے جس میں شریر رہتے تھے؟‘ 29کیا تم نے کبھی راہ چلنے والوں سے نہیں پوچھا؟ کیا تم اُن کی دی ہوئی گواہی قبول نہیں کرو گے، 30کہ بُرا آدمی آفت کے دن بچا لیا جاتا ہے، کہ وہ قہر کے دن چھڑایا جاتا ہے؟ 31کون اُس کے چال چلن کے لیے اُس کے منہ پر اُس کا سامنا کرتا ہے، اور کون اُس کے کیے کا بدلہ اُسے دیتا ہے؟ 32اُسے قبر تک پہنچایا جاتا ہے، اور اُس کی قبر پر پہرہ دیا جاتا ہے۔ 33وادی کی مٹی اُسے میٹھی لگتی ہے؛ ہر کوئی اُس کے پیچھے چلتا ہے، اور جو اُس سے پہلے تھے وہ اَن گنت ہیں۔ 34پس تم مجھے کھوکھلی باتوں سے کیونکر تسلی دے سکتے ہو؟ تمہارے جواب دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔“