ابی سلوم اسرائیل کے دل چُرا لیتا ہے
15 1اِس کے بعد ابی سلوم نے اپنے لیے ایک رتھ اور گھوڑے حاصل کیے، اور پچاس آدمی اپنے آگے آگے دوڑنے کے لیے رکھے۔ 2ابی سلوم صبح سویرے اُٹھ کر پھاٹک کی راہ کے کنارے کھڑا ہو جاتا۔ جب بھی کوئی اپنے مقدمے کے ساتھ بادشاہ کے پاس فیصلے کے لیے آتا، تو ابی سلوم پُکار کر کہتا، ”تُو کس شہر سے ہے؟“ وہ شخص جواب دیتا، ”تیرا خادم اسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک سے ہے۔“
3تب ابی سلوم اُس سے کہتا، ”دیکھ، تیرے دعوے اچھے اور درست ہیں، لیکن بادشاہ نے تیری بات سننے کے لیے کسی کو مقرر نہیں کیا۔“ 4ابی سلوم مزید کہتا، ”کاش مجھے اِس مُلک میں قاضی مقرر کیا جاتا! تب جس کسی کا کوئی مقدمہ یا معاملہ ہوتا وہ میرے پاس آتا، اور مَیں اُس کے ساتھ انصاف کرتا۔“ 5اور جب بھی کوئی اُس کے سامنے جھکنے کے لیے قریب آتا، تو ابی سلوم اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لیتا اور اُسے چُومتا۔ 6ابی سلوم ہر اُس اسرائیلی کے ساتھ ایسا ہی کرتا جو بادشاہ کے پاس فیصلے کے لیے آتا، اور یُوں اُس نے اسرائیل کے دل چُرا لیے۔
7چار سال کے بعد ابی سلوم نے بادشاہ سے کہا، ”مجھے اجازت دیجیے کہ مَیں حبرون جاؤں تاکہ اُس مَنّت کو پُورا کروں جو مَیں نے ہمارے باپ کے حضور مانی تھی۔ 8کیونکہ جب مَیں اَرام کے جسور میں رہتا تھا تو مَیں نے یہ مَنّت مانی تھی: ’اگر ہمارا باپ مجھے یروشلیم واپس لے آئے، تو مَیں اُس کی عبادت کروں گا۔‘“
9بادشاہ نے اُس سے کہا، ”سلامتی سے جا۔“ چنانچہ ابی سلوم اُٹھ کر حبرون چلا گیا۔
10ابی سلوم نے اسرائیل کے سب قبیلوں میں خفیہ قاصد بھیجے کہ ”جب تم نرسنگے کی آواز سنو تو کہنا، ’ابی سلوم حبرون میں بادشاہی کرتا ہے!‘“
11یروشلیم سے دو سو مدعو مرد ابی سلوم کے ساتھ گئے۔ وہ سادہ دلی سے گئے اور اِس سازش کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ 12جب ابی سلوم قربانیاں چڑھا رہا تھا تو اُس نے جیلوہ میں پیغام بھیج کر داؤد کے مشیر اخِتُفل جیلونی کو بلوایا۔ سازش زور پکڑتی گئی، اور ابی سلوم کے پیروکار بڑھتے گئے۔
داؤد اپنے بیٹے ابی سلوم سے بھاگتا ہے
13ایک قاصد داؤد کے پاس آیا اور کہا، ”اسرائیل کے دل ابی سلوم کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔“
14داؤد نے اپنے اُن سب خادموں سے جو یروشلیم میں اُس کے ساتھ تھے کہا، ”اُٹھو! ہمیں بھاگنا ہو گا، ورنہ ہم میں سے کوئی ابی سلوم سے نہیں بچے گا۔ جلدی کرو، ورنہ وہ جلد ہی ہمیں آ پکڑے گا، ہمیں تباہ کرے گا اور شہر کو تلوار سے مارے گا۔“
15بادشاہ کے خادموں نے اُسے جواب دیا، ”میرا مالک بادشاہ جو کچھ فیصلہ کرے، تیرے خادم حاضر ہیں۔“
16چنانچہ بادشاہ روانہ ہوا اور اُس کا سارا گھرانا اُس کے پیچھے پیچھے چلا، لیکن اُس نے دس داشتاؤں کو محل کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ دیا۔ a a v16 داشتائیں ثانوی بیویاں تھیں جن کے قانونی حقوق اصلی بیوی سے کم ہوتے تھے۔ 17بادشاہ روانہ ہوا اور سب لوگ اُس کے پیچھے چلے، اور وہ آخری گھر کے پاس رُک گئے۔ 18اُس کے سب خادم اُس کے پہلو سے گزرے، اور اُن کے ساتھ سب کریتی اور فلیتی بھی؛ اور وہ سب چھ سو جاتی جو جات سے اُس کے پیچھے آئے تھے بادشاہ کے آگے آگے چلے۔ b b v18 کریتی اور فلیتی داؤد کے خاص چیدہ محافظ دستے تھے۔
19بادشاہ نے اِتّی جاتی سے کہا، ”تُو بھی ہمارے ساتھ کیوں آتا ہے؟ لوٹ جا اور نئے بادشاہ کے ساتھ رہ؛ تُو پردیسی ہے، اپنے وطن سے دُور جلاوطن۔ 20تُو تو کل ہی آیا ہے۔ کیا مَیں آج تجھے اپنے ساتھ آوارہ پھراؤں، جبکہ مجھے خود معلوم نہیں کہ مَیں کہاں جا رہا ہوں؟ لوٹ جا، اور اپنے بھائیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔ ہمارا باپ تجھ پر عہد کی محبت اور وفاداری ظاہر کرے۔“
21اِتّی نے بادشاہ کو جواب دیا، ”ہمارے باپ کی حیات کی قسم اور میرے مالک بادشاہ کی حیات کی قسم، جہاں کہیں میرا مالک بادشاہ ہو گا، خواہ زندگی ہو یا موت، وہیں تیرا خادم بھی ہو گا۔“
22داؤد نے اِتّی سے کہا، ”جا، پار ہو جا۔“ چنانچہ اِتّی جاتی اپنے سب آدمیوں اور اپنے ساتھ کے سب بچّوں سمیت پار ہو گیا۔ 23سارا مُلک بلند آواز سے رویا جب سب لوگ پار ہو رہے تھے۔ بادشاہ وادیِ قدرون کو پار کر گیا، اور سب لوگ بیابان کی طرف پار ہوتے گئے۔ 24صدوق بھی وہاں تھا، اور اُس کے ساتھ سب لاوی ہمارے باپ کے عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ہمارے باپ کا صندوق رکھ دیا، اور ابیاتر قربانیاں چڑھاتا رہا یہاں تک کہ سب لوگ شہر سے نکل چکے۔ 25بادشاہ نے صدوق سے کہا، ”ہمارے باپ کا صندوق واپس شہر میں لے جا۔ اگر ہمارا باپ مجھ سے راضی ہوا، تو وہ مجھے واپس لے آئے گا اور مجھے یہ صندوق اور اُس کی سکونت گاہ دوبارہ دکھائے گا۔ 26لیکن اگر وہ کہے، ’مَیں تجھ سے خوش نہیں،‘ تو مَیں حاضر ہوں—وہ میرے ساتھ جو مناسب سمجھے کرے۔“ 27بادشاہ نے صدوق کاہن سے یہ بھی کہا، ”کیا تُو غیب بین نہیں؟ سلامتی سے شہر کو لوٹ جا، اور اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے ساتھ لے جا—اپنے بیٹے اخیمعض کو اور ابیاتر کے بیٹے یونتن کو۔ 28مَیں بیابان کی گزرگاہوں پر ٹھہرا رہوں گا جب تک تیری طرف سے مجھے خبر دینے کے لیے پیغام نہ آ جائے۔“ 29چنانچہ صدوق اور ابیاتر ہمارے باپ کا صندوق واپس یروشلیم لے گئے اور وہیں ٹھہر گئے۔
30داؤد کوہِ زیتون پر چڑھنے لگا، اور چڑھتے ہوئے روتا جاتا تھا؛ اُس کا سر ڈھکا ہوا اور پاؤں ننگے تھے۔ اُس کے ساتھ کے سب لوگ بھی اپنے سر ڈھانپے ہوئے چڑھتے گئے، اور چلتے چلتے روتے رہے۔ c c v30 دغا کھایا ہوا بادشاہ، جو کوہِ زیتون پر چڑھتے ہوئے رو رہا ہے، یسوع کی پیشین تصویر ہے، جس نے مدّتوں بعد اِسی وادی کو پار کیا اور اِسی پہاڑی پر اُس رات غم کیا جب ایک بھروسے کے دوست نے اُس کے ساتھ دغا کیا۔
31داؤد کو بتایا گیا، ”اخِتُفل بھی ابی سلوم کے ساتھ سازش کرنے والوں میں شامل ہے۔“ تب داؤد نے دعا کی، ”اے ہمارے باپ، اخِتُفل کے مشورے کو حماقت میں بدل دے۔“
32جب داؤد چوٹی پر پہنچا، جہاں ہمارے باپ کی عبادت کی جاتی تھی، تو حوسی ارکی اُس سے ملنے کے لیے وہاں موجود تھا؛ اُس کا لباس پھٹا ہوا اور اُس کے سر پر خاک تھی۔ 33داؤد نے اُس سے کہا، ”اگر تُو میرے ساتھ چلے تو تُو میرے لیے صرف ایک بوجھ ہو گا۔
34لیکن اگر تُو شہر کو لوٹ جائے اور ابی سلوم سے کہے، ’اے میرے بادشاہ، مَیں تیرا خادم ہوں گا؛ جیسے مَیں پہلے تیرے باپ کی خدمت کرتا تھا ویسے ہی اب مَیں تیری خدمت کروں گا،‘ تو تُو میرے لیے اخِتُفل کے مشورے کو ناکام کر سکے گا۔ 35صدوق اور ابیاتر کاہن وہاں تیرے ساتھ ہوں گے۔ جو کچھ تُو بادشاہ کے گھر میں سنے وہ سب اُن کو بتانا۔ 36اُن کے دونوں بیٹے بھی وہاں اُن کے ساتھ ہیں—صدوق کا بیٹا اخیمعض اور ابیاتر کا بیٹا یونتن۔ جو کچھ تُو سنے اُس کی خبر اُن کے ذریعے مجھے بھیجنا۔
37چنانچہ داؤد کا دوست حوسی شہر میں ایسے وقت پہنچا جب ابی سلوم یروشلیم میں داخل ہو رہا تھا۔