حکمت کو تھامے رکھو
7 1اے میرے بیٹے، میری باتوں کو مان، اور میرے حکموں کو اپنے اندر محفوظ رکھ۔
2میرے حکموں کو مان اور جیتا رہ؛ میری تعلیم کو اپنی آنکھ کی پُتلی کی مانند سنبھال کر رکھ۔ 3اُنہیں اپنی اُنگلیوں پر باندھ؛ اُنہیں اپنے دل کی تختی پر لکھ لے۔
4حکمت سے کہہ، ”تُو میری بہن ہے،“ اور سمجھ کو اپنی عزیز ترین سہیلی کہہ، 5تاکہ وہ تجھے ممنوعہ عورت سے بچائے، اُس اجنبی عورت سے جو چِکنی چُپڑی باتیں کرتی ہے۔
6کیونکہ میں نے اپنے گھر کی کھڑکی سے، اپنی جالی میں سے جھانک کر دیکھا، 7اور میں نے سادہ لوحوں میں دیکھا، جوانوں کے درمیان مجھے ایک ایسا نوجوان نظر آیا جو عقل سے خالی تھا، 8وہ اُس عورت کے کونے کے پاس گلی سے گزر رہا تھا، اور اُس کے گھر کی راہ لے رہا تھا، 9دِن ڈھلتے وقت، شام کے دُھندلکے میں، رات کی تاریکی اور اندھیرے میں۔
10اور دیکھو، ایک عورت اُس سے ملنے کو آئی، جو کسبی کے سے لباس میں تھی اور اُس کے دل میں مکاری تھی۔ 11وہ بے باک اور سرکش ہے؛ اُس کے پاؤں گھر میں نہیں ٹکتے۔ 12کبھی گلی میں، کبھی چوکوں میں، وہ ہر کونے پر گھات لگائے رہتی ہے۔ 13اُس نے اُسے پکڑ کر بوسہ دیا، اور بے شرمی سے اُس سے کہنے لگی:
14”مجھے سلامتی کی قربانیاں چڑھانی تھیں؛ آج میں نے اپنی مَنتیں پوری کی ہیں۔ a a v14 سلامتی کی قربانی ایک ضیافت کے طور پر مل کر کھائی جاتی تھی — اُس کا مطلب ہے کہ اُس کے پاس کھانا تیار ہے اور گھر میں جشن منانے کا بہانہ ہے۔ 15اِس لیے میں تجھ سے ملنے نکلی، بڑی بے تابی سے تیری تلاش میں تھی، اور اب میں نے تجھے پا لیا ہے۔ 16میں نے اپنے بستر پر عمدہ چادریں بچھائی ہیں، مصر کے رنگین کتان کی۔ 17میں نے اپنے بستر کو مُر، عود اور دارچینی سے معطر کیا ہے۔ 18آ، ہم صبح تک محبت سے سیر ہوں؛ آ، ہم محبت میں مست ہو جائیں۔ 19کیونکہ میرا شوہر گھر پر نہیں ہے؛ وہ ایک دُور کے سفر پر گیا ہوا ہے۔ 20وہ اپنے ساتھ روپوں کی تھیلی لے گیا ہے اور پورے چاند تک گھر نہیں لوٹے گا۔“
21اُس نے اپنی لبھانے والی باتوں سے اُسے ورغلا لیا؛ اپنے چِکنے چُپڑے ہونٹوں سے اُسے پھانس لیا۔ 22وہ فوراً اُس کے پیچھے ہو لیا، جیسے بیل ذبح ہونے کو جاتا ہے، جیسے ہرن پھندے میں پاؤں رکھتا ہے، 23یہاں تک کہ ایک تیر اُس کا جگر چھید دے؛ جیسے پرندہ جال کی طرف لپکتا ہے، اُسے خبر ہی نہیں کہ اِس سے اُس کی جان جائے گی۔
24پس اب، اے میرے بیٹو، میری سنو، اور جو میں کہتا ہوں اُس پر دھیان دو۔ 25تیرا دل اُس کی راہوں کی طرف مائل نہ ہو؛ اُس کے راستوں میں بھٹک نہ جانا۔ 26کیونکہ اُس نے بہتوں کو گِرا کر ہلاک کیا ہے؛ اُس کے مقتول ایک بڑی جماعت ہیں۔ 27اُس کا گھر پاتال کی راہ ہے، جو موت کی کوٹھڑیوں تک اُترتی ہے۔