ہمارا سردار کاہن، تخت پر بیٹھا ہوا
ایک ہی جملہ ساری بات سمیٹ لیتا ہے: ہمارا سردار کاہن بیٹھ گیا ہے۔ جس کی وہ خدمت کرتا ہے وہ کوئی نقل نہیں بلکہ اصل مقدس ہے، اور جس عہد کا وہ درمیانی ہے وہ وہی ہے جس کا وعدہ یرمیاہ نے کیا، جس میں شریعت ذہنوں اور دلوں پر لکھی جاتی ہے، گناہ پھر یاد نہیں کیے جاتے، اور ہر کوئی ہمارے باپ کو جانتا ہے۔
8 1اِس بات کا خلاصہ یہ ہے: ہمارے پاس ایسا سردار کاہن ہے، جو آسمان پر عظمت والے کے تخت کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔ 2جو مُقدّس مقاموں اور اُس سچّے خیمے کا خادم ہے، جسے باپ نے کھڑا کیا، نہ کہ انسان نے۔ 3ہر سردار کاہن ہدیے اور قربانیاں چڑھانے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے؛ پس لازم ہے کہ اِس کے پاس بھی چڑھانے کو کچھ ہو۔ 4اگر وہ زمین پر ہوتا تو کاہن ہی نہ ہوتا، کیونکہ شریعت کے مطابق ہدیے چڑھانے والے پہلے سے موجود ہیں۔
5وہ آسمانی چیزوں کے نمونے اور سائے کی خدمت کرتے ہیں، جیسا کہ موسیٰ کو خبردار کیا گیا جب وہ خیمہ مکمل کرنے کو تھا: ”دیکھ،“ اُس نے کہا، ”سب کچھ اُسی نمونے کے مطابق بنانا جو تجھے پہاڑ پر دکھایا گیا۔“
6لیکن اب یسوع نے ایک برتر خدمت حاصل کی ہے، کیونکہ جس عہد کا وہ درمیانی ہے وہ بہتر ہے، اور بہتر وعدوں پر قائم کیا گیا ہے۔ 7کیونکہ اگر وہ پہلا عہد بے عیب ہوتا، تو دوسرے کی ضرورت نہ ہوتی۔
8کیونکہ اُن میں عیب پا کر وہ فرماتا ہے: ”دیکھو، وہ دن آ رہے ہیں، ہمارا باپ فرماتا ہے، جب میں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے ساتھ ایک نیا عہد باندھوں گا۔ 9اُس عہد کی مانند نہیں جو میں نے اُن کے باپ دادا کے ساتھ اُس دن باندھا تھا جب میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں مصر کی سرزمین سے نکال لیا۔ کیونکہ وہ میرے عہد میں قائم نہ رہے، اِس لیے میں نے اُن سے چشم پوشی کی، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 10کیونکہ اُن دنوں کے بعد جو عہد میں اِسرائیل کے گھرانے کے ساتھ باندھوں گا وہ یہ ہے، ہمارا باپ فرماتا ہے میں اپنی شریعتیں اُن کے ذہنوں میں ڈالوں گا اور اُن کے دلوں پر لکھوں گا، اور میں اُن کا باپ ہوں گا، اور وہ میرے فرزند ہوں گے۔ 11اور اِس کے بعد نہ کوئی اپنے پڑوسی کو، نہ کوئی اپنے بھائی کو یہ کہہ کر تعلیم دے گا، ”ہمارے باپ کو پہچانو،“ کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک وہ سب مجھے جان لیں گے۔ 12کیونکہ میں اُن کی خطاؤں پر رحم کروں گا، اور اُن کے گناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“
13نئے عہد کا ذکر کر کے اُس نے پہلے کو پرانا کر دیا ہے۔ اور جو پرانا اور بوسیدہ ہوتا جا رہا ہے وہ مٹنے کے قریب ہے۔