آسمانوں کو چاک کر دے
64 1کاش کہ تُو آسمانوں کو چاک کر کے اُتر آئے، کہ پہاڑ تیری حضوری سے کانپ اُٹھیں، 2جیسے آگ جھاڑ جھنکار کو بھڑکا دیتی اور پانی کو جوش پر لے آتی ہے—تاکہ تُو اپنے مخالفوں پر اپنا نام ظاہر کرے، اور قومیں تیری حضوری سے تھرّا اُٹھیں! 3جب تُو نے ایسے مہیب کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تُو اُتر آیا، اور پہاڑ تیری حضوری سے کانپ اُٹھے۔ 4قدیم زمانے سے نہ کسی نے سُنا، نہ کان نے بھانپا، نہ کسی آنکھ نے تیرے سوا کسی کو دیکھا، جو اُس کے لیے کام کرے جو اُس کا انتظار کرتا ہے۔ 5تُو اُن کا استقبال کرتا ہے جو خوشی سے راستی کے کام کرتے ہیں، جو تجھے یاد رکھتے ہوئے تیری راہوں پر چلتے ہیں۔ لیکن تُو ناراض ہوا، اور ہم نے گناہ کیا؛ ہم مدّت سے اپنے گناہوں میں پڑے ہیں—کیا ہم بچائے جا سکتے ہیں؟ 6ہم سب ناپاک شخص کی مانند ہو گئے، اور ہماری ساری راستبازی کے کام ناپاک لباس کی مانند ہیں۔ ہم سب پتّے کی طرح مُرجھا جاتے ہیں، اور ہمارے گناہ ہوا کی مانند ہمیں اُڑا لے جاتے ہیں۔ 7کوئی نہیں جو تیرا نام پکارے، جو اُبھر کر تجھے تھام لے؛ کیونکہ تُو نے اپنا چہرہ ہم سے چھپا لیا اور ہمیں ہمارے گناہوں کے حوالے کر دیا۔
8لیکن اب، تُو ہمارا باپ ہے؛ ہم مٹی ہیں، اور تُو ہمارا کُمہار ہے؛ ہم سب تیرے ہاتھ کی صنعت ہیں۔ 9اے ہمارے باپ، اِتنا سخت ناراض نہ ہو، اور ہمارے گناہ کو ہمیشہ کے لیے یاد نہ رکھ۔ دیکھ، ذرا نظر کر—ہم سب تیرے لوگ ہیں۔ 10تیرے مُقدّس شہر بیابان ہو گئے؛ صیّون بیابان ہو گیا، یروشلیم ویران۔ 11ہمارا مُقدّس اور خوبصورت گھر، جہاں ہمارے باپ دادا تیری ستائش کرتے تھے، آگ سے جلا دیا گیا، اور جو کچھ ہمیں عزیز تھا، سب کھنڈر بن گیا۔ 12اے ہمارے باپ، اِن سب باتوں کے بعد، کیا تُو رُکا رہے گا؟ کیا تُو خاموش رہ کر ہمیں اِتنی سختی سے دُکھ دے گا؟