سچا روزہ، سچی وفاداری
بیت ایل سے لوگ یہ پوچھنے بھیجے جاتے ہیں کہ کیا وہ روزے رکھتے رہیں۔ سوال پلٹ دیا جاتا ہے: ستر برس کے روزے اپنے لیے تھے، ہمارے باپ کے لیے نہیں۔ جو کچھ اس نے پہلے نبیوں کی معرفت مانگا وہ سچا انصاف، مہربانی، اور بیوہ، یتیم، پردیسی اور غریب پر ظلم نہ کرنا تھا۔
7 1بادشاہ داریوس کے چوتھے سال، نویں مہینے یعنی کِسلیو کی چوتھی تاریخ کو، ہمارے باپ کا کلام زکریاہ پر نازل ہوا۔ 2بیت ایل کے لوگوں نے شراضر اور رجم ملک اور اُن کے آدمیوں کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے باپ کی رضامندی کے طالب ہوں، 3اور آسمانی لشکروں کے باپ کے گھر کے کاہنوں اور نبیوں سے پوچھیں کہ ”کیا مجھے پانچویں مہینے میں ماتم اور روزہ رکھنا چاہیے، جیسا میں اِن بہت سے برسوں سے کرتا آیا ہوں؟“
4تب آسمانی لشکروں کے باپ کا کلام مجھ پر نازل ہوا:
5ملک کے سب لوگوں اور کاہنوں سے کہہ: جب تم نے اِن ستّر برسوں میں پانچویں اور ساتویں مہینے روزہ رکھا اور ماتم کیا، تو کیا واقعی تم نے میرے لیے روزہ رکھا تھا؟ a a v5 پانچویں مہینے کا روزہ بابل کے ہاتھوں سلیمان کی ہیکل کے جلائے جانے کی یادگار تھا؛ ساتویں مہینے کا روزہ یہوداہ کے آخری حاکم جدلیاہ کے قتل کی یادگار تھا۔ 6اور جب تم کھاتے اور پیتے ہو، تو کیا اپنے ہی لیے نہیں کھاتے پیتے؟
7کیا یہ وہی باتیں نہیں جو ہمارے باپ نے پہلے نبیوں کی معرفت اعلان کیں، جب یروشلیم اور اُس کے گرد و نواح کے شہر آباد اور امن میں تھے، اور دشتِ جنوب اور نشیبی میدان بسے ہوئے تھے؟
8اور ہمارے باپ کا کلام زکریاہ پر نازل ہوا:
9آسمانی لشکروں کا باپ یوں فرماتا ہے: سچا انصاف کرو؛ ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرو۔ 10بیوہ، یتیم، پردیسی اور غریب پر ظلم نہ کرو؛ اور اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بُرائی کا منصوبہ نہ باندھو۔
11لیکن اُنہوں نے سننے سے انکار کیا، ہٹ دھرمی سے پیٹھ پھیر لی، اور اپنے کان بند کر لیے تاکہ نہ سنیں۔ 12اُنہوں نے اپنے دلوں کو چقماق کی طرح سخت کر لیا، اور شریعت اور اُن باتوں کو سننے سے انکار کیا جو آسمانی لشکروں کے باپ نے اپنی روح کے ذریعے پہلے نبیوں کی معرفت بھیجی تھیں۔ پس آسمانی لشکروں کے باپ کی طرف سے بڑا غضب نازل ہوا۔
13”جیسے میں نے پکارا اور اُنہوں نے نہ سنا، ویسے ہی جب اُنہوں نے پکارا تو میں نے نہ سنا،“ آسمانی لشکروں کا باپ فرماتا ہے۔ 14میں نے اُنہیں بگولے سے اُن تمام قوموں میں پراگندہ کر دیا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے۔ اُن کے پیچھے ملک ویران رہ گیا، کوئی آتا جاتا اُس میں سے نہ گزرتا تھا۔ یوں اُنہوں نے دلکش سرزمین کو اُجاڑ بنا دیا۔