شیرِ ببر کی مانند دلیر
28 1شریر بھاگتے ہیں جبکہ کوئی اُن کا پیچھا نہیں کرتا، مگر راستباز شیرِ ببر کی مانند دلیر ہوتے ہیں۔ 2جب کوئی مُلک بغاوت کرتا ہے تو اُس کے حاکم بہت ہوتے ہیں، مگر سمجھ اور علم والے آدمی کے ذریعے وہ قائم رہتا ہے۔ 3وہ غریب آدمی جو بے کسوں پر ظلم کرتا ہے، اُس زوردار بارش کی مانند ہے جو کچھ کھانا باقی نہیں چھوڑتی۔ 4جو شریعت کو ترک کرتے ہیں وہ شریروں کی تعریف کرتے ہیں، مگر جو شریعت پر عمل کرتے ہیں وہ اُن سے مقابلہ کرتے ہیں۔ 5بدکار لوگ انصاف کو نہیں سمجھتے، مگر جو ہمارے باپ کے طالب ہیں وہ اُسے پوری طرح سمجھتے ہیں۔ 6وہ غریب جو راستی میں چلتا ہے اُس دولتمند سے بہتر ہے جو اپنی راہوں میں کج رَو ہے۔ 7جو شریعت پر عمل کرتا ہے وہ سمجھدار بیٹا ہے، مگر پیٹو لوگوں کا ساتھی اپنے باپ کو رُسوا کرتا ہے۔ 8جو سُود اور ناجائز نفع سے اپنی دولت بڑھاتا ہے، وہ اُس کے لیے جمع کرتا ہے جو غریبوں پر فیاض ہے۔ 9اگر کوئی شریعت سُننے سے انکار کرے، تو اُس کی دعا بھی نفرت انگیز ہے۔ 10جو راستبازوں کو بُری راہ پر گمراہ کرتا ہے وہ خود اپنے ہی گڑھے میں گرے گا، مگر بے عیب اچھی چیزوں کے وارث ہوں گے۔ 11دولتمند آدمی اپنی نظر میں دانا ہے، مگر سمجھدار غریب اُس کی حقیقت کو تاڑ لیتا ہے۔ 12جب راستباز فتحیاب ہوتے ہیں تو بڑی شان ہوتی ہے، مگر جب شریر سرفراز ہوتے ہیں تو لوگ چھپ جاتے ہیں۔ 13جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے وہ کامیاب نہ ہوگا، مگر جو اُن کا اقرار کرکے اُنہیں ترک کرتا ہے وہ رحم پائے گا۔ 14مبارک ہے وہ جو ہمیشہ خوفِ خدا میں رہتا ہے، مگر جو اپنے دل کو سخت کرتا ہے وہ آفت میں گرے گا۔ 15غرّاتے ہوئے شیرِ ببر یا حملہ آور ریچھ کی مانند ہے وہ شریر حاکم جو بے کس قوم پر مسلط ہو۔ 16وہ حاکم جو سمجھ سے خالی ہے سخت ظالم ہوتا ہے، مگر جو ناجائز نفع سے نفرت کرتا ہے وہ اپنی عمر دراز کرے گا۔ 17جو آدمی خونریزی کے جُرم کے بوجھ تلے دبا ہو وہ موت تک بھاگتا پھرے گا؛ کوئی اُس کی حمایت نہ کرے۔ 18جو راستی میں چلتا ہے وہ محفوظ رکھا جائے گا، مگر جو اپنی راہوں میں کج رَو ہے وہ اچانک گر پڑے گا۔ 19جو اپنی زمین جوتتا ہے اُس کے پاس روٹی کی فراوانی ہوگی، مگر جو بے کار باتوں کے پیچھے دوڑتا ہے اُس کے پاس غربت کی فراوانی ہوگی۔ 20دیانتدار آدمی برکتوں سے مالا مال ہوگا، مگر جو دولتمند بننے کی جلدی کرتا ہے وہ بے سزا نہ رہے گا۔ 21طرفداری کرنا اچھا نہیں، پھر بھی روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے آدمی بُرائی کر بیٹھتا ہے۔ 22بخیل آدمی دولت کے پیچھے دوڑتا ہے اور نہیں جانتا کہ غربت اُسے آ پکڑے گی۔ 23جو کسی آدمی کو ملامت کرتا ہے وہ آخرکار اُس سے زیادہ منظورِ نظر ہوگا جو اپنی زبان سے خوشامد کرتا ہے۔ 24جو اپنے باپ یا ماں کو لُوٹتا ہے اور کہتا ہے، ”یہ کوئی گناہ نہیں،“ وہ غارت کرنے والے کا ساتھی ہے۔ 25لالچی آدمی جھگڑا کھڑا کرتا ہے، مگر جو ہمارے باپ پر بھروسا کرتا ہے وہ فیض یاب ہوگا۔ 26جو اپنے ہی دل پر بھروسا کرتا ہے وہ احمق ہے، مگر جو دانائی میں چلتا ہے وہ محفوظ رکھا جائے گا۔ 27جو غریبوں کو دیتا ہے اُسے کسی چیز کی کمی نہ ہوگی، مگر جو اُن سے اپنی آنکھیں پھیر لیتا ہے وہ بہت سی لعنتیں پائے گا۔ 28جب شریر سرفراز ہوتے ہیں تو لوگ چھپ جاتے ہیں، مگر جب وہ ہلاک ہو جاتے ہیں تو راستباز پھلتے پھولتے ہیں۔