اپنی بُلاہٹ کے لائق چال چلو
یگانگت یکسانیت نہیں — ایک خداوند اور ایک باپ، لیکن نعمتیں مختلف ہیں، اور رہنما اِس لئے ہیں کہ باقی سب کو کام کے لئے تیار کریں، نہ کہ اُن کی جگہ خود کام کریں۔ بالغ ہونے کا مطلب ہے کہ اب اِدھر اُدھر اُڑائے نہ جائیں۔ پھر بالکل عام ہدایات: سچ بولو، محنت کرو، اپنی زبان کو سنبھالو۔
4 1پس مَیں، جو خُداوند میں قیدی ہوں، تم سے التماس کرتا ہوں کہ جس بُلاہٹ سے تم بُلائے گئے اُس کے لائق چال چلو، 2کمالِ فروتنی اور حلیمی کے ساتھ، صبر کے ساتھ، محبت میں ایک دُوسرے کی برداشت کرتے ہوئے، 3اور صلح کے بندھن میں رُوح کی یگانگت کو قائم رکھنے کے مشتاق رہو۔ 4ایک ہی بدن ہے اور ایک ہی رُوح، جیسا کہ تم اپنی بُلاہٹ کے ساتھ ایک ہی اُمید کے لیے بُلائے گئے۔ 5ایک خُداوند، ایک ایمان، ایک بپتسمہ، 6سب کا ایک باپ جو سب کے اُوپر اور سب کے وسیلہ اور سب میں ہے۔
7لیکن ہم میں سے ہر ایک کو مسیح کی بخشش کے اندازے کے مطابق فضل عطا ہوا۔ 8اِسی لیے کلام کہتا ہے، ”وہ عالمِ بالا پر چڑھا، اُس نے اسیروں کو اسیر کر لیا اور لوگوں کو عطیّے بخشے۔“ a a v8 پولُس زبُور ۶۸:۱۸ کا حوالہ دے رہا ہے، جو ایک فتح مند بادشاہ کی جیت کا جشن مناتا ہوا زبُور ہے۔ وہ اِسے مسیح کے آسمان پر صعود پر لاگو کرتا ہے، جو اُس کی موت اور جی اُٹھنے کے بعد ہوا۔
9اب یہ کہ ”وہ چڑھا“—اِس کا کیا مطلب ہے، سِوائے اِس کے کہ وہ نیچے زمین کے پست حصّوں تک اُترا بھی تھا؟ 10جو اُترا وہی ہے جو سب آسمانوں سے کہیں اُوپر چڑھ گیا، تاکہ سب چیزوں کو معمُور کرے۔
11اور اُسی نے بعض کو رسُول، بعض کو نبی، بعض کو مبشّر اور بعض کو پادری اور اُستاد مقرّر کیا، 12تاکہ مُقدّسوں کو خدمت کے کام کے لیے، مسیح کے بدن کی تعمیر کے لیے تیار کرے، 13جب تک ہم سب ایمان اور ہمارے باپ کے بیٹے کی پہچان میں یگانگت تک نہ پہنچ جائیں، اور بالغ اِنسان بن کر مسیح کے پُورے قد اور معموری کے اندازے تک نہ آ جائیں۔ 14تاکہ ہم آگے کو بچّے نہ رہیں، جو موجوں سے اُچھالے جاتے اور تعلیم کی ہر ہوا سے، آدمیوں کی مکّاری سے اور فریب دینے کی چالاک تدبیر سے اِدھر اُدھر بہک جاتے ہیں۔ 15بلکہ محبت میں سچّائی پر قائم رہتے ہوئے ہم ہر بات میں اُسی کی مانند بڑھتے جائیں جو سر ہے، یعنی مسیح۔ 16جس سے سارا بدن، ہر مددگار جوڑ کے وسیلہ سے جُڑ کر اور مِل کر، بڑھتا جاتا ہے، جوں جوں ہر حصّہ اپنے اندازے کے مطابق کام کرتا ہے، تاکہ بدن محبت میں اپنی تعمیر کرتا رہے۔
نئی اِنسانیت کو پہنو
17پس مَیں یہ کہتا ہوں اور خُداوند میں گواہی دیتا ہوں کہ آگے کو غیرقوموں کی طرح اپنی سوچ کی بطالت میں زندگی نہ گزارو۔ 18جن کی عقل تاریک ہو گئی اور جو اپنے اندر کی جہالت اور دل کی سختی کے سبب سے ہمارے باپ کی زندگی سے بیگانہ ہو گئے۔ 19اُنہوں نے ہر احساس کھو کر خود کو شہوت پرستی کے حوالہ کر دیا اور لالچ سے ہر طرح کی ناپاکی کرنے لگے۔ 20لیکن تم نے مسیح کو اِس طرح نہیں سیکھا، 21بشرطیکہ تم نے واقعی اُس کے بارے میں سُنا اور اُس میں یہ تعلیم پائی، جیسا کہ سچّائی یسوع میں ہے، 22کہ تم اپنی پُرانی اِنسانیت کو، جو تمہارے سابقہ چال چلن سے وابستہ اور فریب دینے والی خواہشوں سے بگڑی ہوئی ہے، اُتار ڈالو، 23اور اپنے ذہنوں کی رُوح میں نئے بن جاؤ، 24اور نئی اِنسانیت کو پہن لو، جو ہمارے باپ کی مانند سچّی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔
25پس جھوٹ کو دُور کر کے تم میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی سے سچ بولے، کیونکہ ہم ایک دُوسرے کے عضو ہیں۔ 26غُصّہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو؛ سُورج تمہارے قہر پر غروب نہ ہونے پائے، 27اور اِبلیس کو کوئی موقع نہ دو۔ 28چور آگے کو چوری نہ کرے؛ بلکہ اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے نیک کام کرے، تاکہ اُس کے پاس محتاج کو دینے کے لیے کچھ ہو۔ 29کوئی گندی بات تمہارے مُنہ سے نہ نکلے، بلکہ صرف وہی جو دُوسروں کی ترقّی کے لیے اور موقع کے مطابق ہو، تاکہ سُننے والوں پر فضل ہو۔ 30اور ہمارے باپ کے رُوحُ القُدس کو غمگین نہ کرو، جس نے تم پر مخلصی کے دن کے لیے مہر لگائی۔ 31ہر طرح کی تلخی، قہر، غُصّہ، شور و غُل اور بدگوئی کو ہر طرح کے بُغض سمیت اپنے میں سے دُور کرو۔ 32اور ایک دُوسرے پر مہربان اور نرم دل ہو، اور ایک دُوسرے کو معاف کرو، جیسے ہمارے باپ نے مسیح کے وسیلہ سے تمہیں معاف کیا۔