ایک قوم اپنے بادشاہ سے پھر جاتی ہے
سموئیل کے بیٹے رشوت لیتے ہیں، اس لیے بزرگ دوسری قوموں کی طرح ایک بادشاہ مانگتے ہیں۔ ہمارا باپ سموئیل سے کہتا ہے کہ انہوں نے اُسے رد کیا ہے، سموئیل کو نہیں۔ سموئیل کھول کر بتاتا ہے کہ بادشاہ کیا کچھ لے گا: بیٹے، بیٹیاں، کھیت، ہر چیز کا دسواں حصہ۔ لوگ پھر بھی ہاں کہتے ہیں۔
8 1جب سموئیل بوڑھا ہو گیا تو اُس نے اپنے بیٹوں کو اسرائیل پر قاضی مقرر کیا۔ 2اُس کے پہلوٹھے بیٹے کا نام یوایل اور دوسرے کا نام ابیاہ تھا؛ وہ بیرسبع میں قاضی تھے۔ 3لیکن اُس کے بیٹے اُس کی راہوں پر نہ چلے بلکہ ناجائز نفع کے پیچھے لگے، رشوت لی اور انصاف کو بگاڑا۔
4تب اسرائیل کے سب بزرگ اکٹھے ہو کر رامہ میں سموئیل کے پاس آئے۔ 5اور اُس سے کہا، ”تُو بوڑھا ہو گیا ہے اور تیرے بیٹے تیری راہوں پر نہیں چلتے۔ اب ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر جو سب قوموں کی طرح ہم پر حکومت کرے۔“ 6جب اُنہوں نے کہا، ”ہمیں ایک بادشاہ دے جو ہم پر حکومت کرے،“ تو سموئیل کو ناپسند آیا اور اُس نے ہمارے باپ سے دعا کی۔
7تب ہمارے باپ نے سموئیل سے کہا، ”لوگ تجھ سے جو کچھ کہتے ہیں اُن کی سب باتیں سن؛ اُنہوں نے تجھے رد نہیں کیا بلکہ مجھے رد کیا ہے کہ مَیں اُن کا بادشاہ نہ رہوں۔ 8جیسا اُنہوں نے اُس دن سے جب مَیں اُنہیں مصر سے نکال لایا آج تک کیا کہ مجھے چھوڑ کر دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے رہے، ویسا ہی وہ تیرے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ 9اب اُن کی سن، مگر اُنہیں سختی سے خبردار کر اور اُنہیں بتا کہ اُن کا بادشاہ کس طرح حکومت کرے گا۔“
سموئیل بادشاہ کے طور طریقوں سے خبردار کرتا ہے
10چنانچہ سموئیل نے اُن لوگوں کو جو اُس سے بادشاہ مانگ رہے تھے ہمارے باپ کی سب باتیں کہہ سنائیں۔ 11اُس نے کہا، ”جو بادشاہ تم پر حکومت کرے گا اُس کا طور طریقہ یہ ہو گا: وہ تمہارے بیٹوں کو لے کر اپنے رتھوں اور سواروں کے لیے مقرر کرے گا، اور وہ اُس کے رتھوں کے آگے آگے دوڑیں گے۔ 12وہ اپنے لیے ہزار ہزار اور پچاس پچاس کے سردار مقرر کرے گا، بعض کو اپنی زمین جوتنے اور اپنی فصل کاٹنے کے لیے، اور بعض کو اپنے ہتھیار اور رتھوں کا سامان بنانے کے لیے۔ 13وہ تمہاری بیٹیوں کو لے گا تاکہ وہ عطر بنانے والیاں، باورچن اور نان بائی ہوں۔ 14وہ تمہارے سب سے اچھے کھیت، انگورستان اور زیتون کے باغ لے کر اپنے خادموں کو دے دے گا۔ 15وہ تمہارے اناج اور انگورستانوں کا دسواں حصہ لے کر اپنے افسروں اور خادموں کو دے گا۔ 16وہ تمہارے غلاموں اور لونڈیوں، تمہارے بہترین جوانوں اور گدھوں کو لے کر اپنے کام میں لگائے گا۔ 17وہ تمہاری بھیڑ بکریوں کا دسواں حصہ لے گا، اور تم خود اُس کے غلام بن جاؤ گے۔ 18اُس دن تم اپنے چنے ہوئے بادشاہ کے سبب سے فریاد کرو گے، لیکن ہمارا باپ اُس دن تمہیں جواب نہ دے گا۔“
19لیکن لوگوں نے سموئیل کی بات سننے سے انکار کیا۔ اُنہوں نے کہا، ”نہیں! ہم اپنے اوپر ایک بادشاہ چاہتے ہیں، 20تاکہ ہم بھی سب قوموں کی طرح ہوں، اور ہمارا بادشاہ ہم پر حکومت کرے، ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائیاں لڑے۔“
21جب سموئیل نے لوگوں کی سب باتیں سنیں تو اُس نے اُنہیں ہمارے باپ کے حضور دہرایا۔
22ہمارے باپ نے سموئیل سے کہا، ”اُن کی بات سن؛ اُنہیں ایک بادشاہ دے۔“ تب سموئیل نے اسرائیل کے آدمیوں سے کہا، ”جاؤ، ہر ایک اپنے اپنے شہر کو چلا جائے۔“