اُن کے شہروں میں تعلیم
قید میں پڑا یوحنا پچھوا بھیجتا ہے کہ کیا یسوع واقعی وہی ہے۔ جواب تسلی نہیں بلکہ اُن باتوں کی فہرست ہے جو ہو رہی ہیں۔ پھر یسوع اُن شہروں کو ملامت کرتا ہے جنہوں نے اُس کے معجزے دیکھے اور ویسے کے ویسے رہے، اپنے باپ کا شکر کرتا ہے، اور ہر تھکے ماندے کو آرام کی دعوت دیتا ہے۔
11 1جب یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو ہدایت دے چکا، تو وہ وہاں سے اُن کے شہروں میں تعلیم دینے اور منادی کرنے کو روانہ ہوا۔
قید سے یوحنّا کا سوال
2یوحنّا نے قید میں مسیح کے کاموں کا حال سُن کر اپنے شاگردوں کے ذریعے پیغام بھیجا، 3اور اُس سے پوچھا، ”کیا آنے والا تُو ہی ہے، یا ہم کسی اَور کی راہ دیکھیں؟“
4یسوع نے اُنہیں جواب دیا، ”جاؤ اور جو کچھ تم سُنتے اور دیکھتے ہو یوحنّا کو بتا دو:
5اندھے دیکھتے ہیں، لنگڑے چلتے ہیں، کوڑھی پاک صاف کیے جاتے ہیں، بہرے سُنتے ہیں، مُردے جِلائے جاتے ہیں، اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ 6اور مبارک ہے وہ جو میرے سبب ٹھوکر نہیں کھاتا۔“
7جب وہ روانہ ہوئے، تو یسوع بھیڑ سے یوحنّا کے بارے میں کہنے لگا: ”تم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ ایک سرکنڈا جو ہوا سے ہلتا ہے؟ 8پھر تم کس لیے گئے تھے—کسی ایسے شخص کو دیکھنے جو نرم پوشاک پہنے ہو؟ دیکھو، جو نرم پوشاک پہنتے ہیں وہ بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں۔ 9پھر تم کس لیے گئے تھے؟ کسی نبی کو دیکھنے؟ ہاں، میں تم سے کہتا ہوں، بلکہ نبی سے کہیں بڑھ کر۔ 10یہ وہی ہے جس کے بارے میں لکھا ہے: ’دیکھ، مَیں اپنے پیغامبر کو تیرے آگے بھیجتا ہوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیار کرے گا۔‘ 11میں تم سے سچ کہتا ہوں: عورتوں سے پیدا ہونے والوں میں یوحنّا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں اُٹھا؛ پھر بھی جو ہمارے باپ کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔ 12یوحنّا بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اب تک ہمارے باپ کی بادشاہی زور برداشت کرتی ہے، اور زور آور اُسے چھین لیتے ہیں۔ 13کیونکہ سب نبیوں اور شریعت نے یوحنّا تک نبوّت کی، 14اور اگر تم قبول کرنا چاہو، تو یہی ایلیّاہ ہے جسے آنا تھا۔ 15جس کے کان ہوں، وہ سُنے۔
16مَیں اِس نسل کو کس سے تشبیہ دوں؟ یہ اُن بچّوں کی مانند ہے جو بازاروں میں بیٹھ کر دوسروں کو پکارتے ہیں: 17’ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی، اور تم نہ ناچے؛ ہم نے ماتم کا گیت گایا، اور تم نے نوحہ نہ کیا۔‘ 18کیونکہ یوحنّا نہ کھاتا آیا نہ پیتا، اور وہ کہتے ہیں، ’اُس میں بدروح ہے۔‘ 19اِبنِ آدم کھاتا پیتا آیا، اور وہ کہتے ہیں، ’دیکھو، ایک کھاؤُ اور شرابی، محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا دوست!‘ پھر بھی حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت ہوتی ہے۔“
توبہ نہ کرنے والے شہروں پر افسوس
20پھر وہ اُن شہروں کو ملامت کرنے لگا جن میں اُس نے اپنے اکثر معجزے کیے تھے، کیونکہ اُنہوں نے توبہ نہ کی تھی۔
21”اے کورزین، تجھ پر افسوس! اے بیت صیدا، تجھ پر افسوس! کیونکہ جو معجزے تم میں کیے گئے، اگر وہ صور اور صیدا میں کیے جاتے، تو وہ کب کے ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ میں بیٹھ کر توبہ کر چکے ہوتے۔ 22لیکن میں تم سے کہتا ہوں: عدالت کے دن صور اور صیدا کا حال تمہارے حال سے زیادہ برداشت کے قابل ہوگا۔ 23اور اے کفرنحوم—کیا تُو آسمان تک بلند کیا جائے گا؟ تُو تو پاتال تک نیچے اُتارا جائے گا۔ کیونکہ جو معجزے تجھ میں کیے گئے، اگر وہ سدوم میں کیے جاتے، تو وہ آج تک قائم رہتا۔ 24لیکن میں تم سے کہتا ہوں: عدالت کے دن سدوم کی سرزمین کا حال تیرے حال سے بہتر ہوگا۔“
بیٹے کے ذریعے باپ کا اظہار
25اُس وقت یسوع نے کہا، ”اے باپ، آسمان و زمین کے مالک، مَیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھپائیں اور بچّوں پر ظاہر کیں۔ 26ہاں، اے باپ، کیونکہ تجھے یہی پسند آیا۔ 27سب کچھ میرے باپ کی طرف سے میرے سپرد کیا گیا۔ باپ کے سوا کوئی بیٹے کو نہیں جانتا، اور بیٹے کے سوا کوئی باپ کو نہیں جانتا، اور وہ جس پر بیٹا باپ کو ظاہر کرنا چاہے۔
28”اے سب محنت کرنے والو اور بوجھ سے دبے ہوئو، میرے پاس آؤ، اور مَیں تمہیں آرام دوں گا۔ 29میرا جوا اپنے اوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو، کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن، اور تم اپنی جانوں کے لیے آرام پاؤ گے۔ 30کیونکہ میرا جوا ملائم ہے، اور میرا بوجھ ہلکا ہے۔“