تمہارا باپ تمہارے لیے لڑتا ہے
جنگ سے پہلے ایک کاہن لشکر سے کہتا ہے کہ نہ ڈرو، کیونکہ تمہارا باپ تمہارے ساتھ جاتا ہے۔ پھر کچھ مردوں کو گھر بھیج دیا جاتا ہے — نئے گھر، نئے تاکستان، منگنی یا محض خوف کے سبب۔ شہروں کو پہلے صلح کی پیشکش کی جاتی ہے، اور محاصرہ کرنے والا لشکر بھی پھل دار درخت نہیں کاٹ سکتا۔
20 1جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو نکلے اور گھوڑے، رتھ اور اپنے سے بڑی فوج دیکھے، تو اُن سے خوف نہ کھا، کیونکہ تیرا باپ تیرے ساتھ ہے—وہی جو تجھے مصر کی سرزمین سے نکال لایا۔ 2اور جب تُم لڑائی میں جانے کو ہو، تو کاہن آگے بڑھ کر لوگوں سے کلام کرے۔ 3اور وہ اُن سے کہے، ”اے اسرائیل، سُن: آج تُم اپنے دشمنوں سے لڑنے جا رہے ہو۔ تمہارا دل نہ ہارے، نہ ڈرو، نہ گھبراؤ، اور نہ اُن سے دہشت کھاؤ، 4کیونکہ تیرا باپ تیرے ساتھ چلتا ہے، تاکہ تیرے دشمنوں سے تیرے لیے لڑے اور تجھے فتح بخشے۔“
5پھر سردار لوگوں سے کہیں گے: ”کیا کسی نے نیا گھر بنایا ہے مگر ابھی اُس کی مخصوصی نہیں کی؟ وہ اپنے گھر لوٹ جائے، ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور کوئی دوسرا اُس کی مخصوصی کرے۔ 6کیا کسی نے تاکستان لگایا ہے مگر ابھی اُس کا پھل نہیں کھایا؟ وہ اپنے گھر لوٹ جائے، ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور کوئی دوسرا اُسے کھائے۔ 7کیا کسی نے کسی عورت سے منگنی کی ہے مگر ابھی اُس سے بیاہ نہیں کیا؟ وہ اپنے گھر لوٹ جائے، ایسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور کوئی دوسرا مرد اُس سے بیاہ کرے۔“ 8اور سردار لوگوں سے یہ بھی کہیں، ”کیا کوئی ایسا ہے جو ڈرتا ہے اور جس کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے؟ وہ اپنے گھر لوٹ جائے، تاکہ اُس کے بھائیوں کے دل بھی اُسی کی طرح پگھل نہ جائیں۔“ 9اور جب سردار لوگوں سے کلام کر چکیں، تو وہ اُن کی قیادت کے لیے فوجی سالار مقرر کریں گے۔
10جب تُو کسی شہر کے نزدیک اُس سے لڑنے کو پہنچے، تو اُسے صلح کی پیشکش کر۔ 11اگر وہ تجھے صلح کا جواب دے اور تیرے لیے دروازے کھول دے، تو اُس کے سب لوگ تیرے بیگاری مزدور بن کر تیری خدمت کریں گے۔ 12لیکن اگر وہ صلح سے انکار کرے اور تجھ سے جنگ کرے، تو تُو اُس کا محاصرہ کر۔ 13اور جب تیرا باپ اُسے تیرے ہاتھ میں کر دے، تو اُس کے سب مردوں کو تلوار سے قتل کر۔ 14مگر عورتوں، بچوں، مویشیوں اور شہر کی باقی ہر چیز—اُس کے سارے مالِ غنیمت کو تُو اپنے لیے لُوٹ لے، اور اپنے دشمنوں کے مالِ غنیمت سے فائدہ اٹھا، جو تیرے باپ نے تجھے دیا ہے۔ 15اُن سب شہروں کے ساتھ جو تجھ سے دُور ہیں اور اِن قوموں کے شہروں میں سے نہیں، ایسا ہی سلوک کر۔ 16لیکن اِن قوموں کے شہروں میں، جو تیرا باپ تجھے میراث کے طور پر دیتا ہے، کسی سانس لینے والے کو زندہ نہ چھوڑ۔ 17بلکہ اُنہیں بالکل نیست و نابود کرنے کے لیے مخصوص کر دے—حِتّیوں، اموریوں، کنعانیوں، فرزّیوں، حِوّیوں اور یبوسیوں کو—جیسا تیرے باپ نے تجھے حکم دیا ہے، 18تاکہ وہ تجھے اُن سب مکروہ کاموں کی نقل کرنا نہ سکھائیں جو وہ اپنے دیوتاؤں کے لیے کرتے ہیں، اور یوں تُو اپنے باپ کے خلاف گناہ نہ کرے۔
19جب تُو کسی شہر کا مدت تک محاصرہ کیے رہے اور اُسے فتح کرنے کو اُس سے لڑتا رہے، تو اُس کے درختوں کو کلہاڑی چلا کر برباد نہ کر۔ تُو اُن سے کھا سکتا ہے، مگر اُنہیں کاٹ نہ ڈال۔ کیونکہ کیا میدان کے درخت انسان ہیں کہ اُن سے تیرے دشمن کی طرح سلوک کیا جائے؟ 20صرف اُن ہی درختوں کو کاٹ جن کے بارے میں تُو جانتا ہے کہ وہ کھانے کے لیے نہیں، تاکہ تُو اُس شہر کے مقابل، جو تجھ سے جنگ کر رہا ہے، محاصرے کے سامان بنا سکے یہاں تک کہ وہ گر جائے۔