ایک اور آفت
ایک وبا باقی ہے۔ آدھی رات کو مصر کا ہر پہلوٹھا مر جائے گا، تخت سے لے کر چکی تک، اور ایسی چیخ اُٹھے گی جیسی پہلے کبھی نہ اُٹھی۔ پھر بھی اسرائیل پر ایک کتا بھی نہیں غرّائے گا — ہمارا باپ یہ فرق صاف ظاہر کر دیتا ہے۔ موسیٰ سخت غصے میں فرعون کے سامنے سے نکل جاتا ہے۔
11 1ہمارے باپ نے موسیٰ سے کہا، ”ایک اور آفت میں فرعون اور مصر پر لاؤں گا۔ اِس کے بعد وہ تمہیں یہاں سے رخصت کر دے گا؛ اور جب وہ ایسا کرے گا تو تمہیں پوری طرح یہاں سے نکال باہر کرے گا۔ 2اِن لوگوں سے کہہ دے کہ ہر مرد اپنے پڑوسی سے اور ہر عورت اپنی پڑوسن سے چاندی اور سونے کی چیزیں مانگ لے۔“
3اور ہمارے باپ نے اِن لوگوں کو مصریوں کی نظر میں مقبول بنایا۔ علاوہ ازیں، موسیٰ خود ملکِ مصر میں فرعون کے خادموں اور لوگوں کی نظر میں بہت بزرگ تھا۔
4موسیٰ نے کہا، ”ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: آدھی رات کے قریب میں مصر میں سے گزروں گا،
5اور ملکِ مصر کا ہر پہلوٹھا مر جائے گا، فرعون کے پہلوٹھے سے لے کر جو اُس کے تخت پر بیٹھتا ہے، اُس لونڈی کے پہلوٹھے تک جو چکّی کے پیچھے رہتی ہے، اور جانوروں کا ہر پہلوٹھا بھی۔ 6تمام ملکِ مصر میں ایسی بڑی چیخ و پکار مچے گی جیسی نہ کبھی پہلے ہوئی اور نہ اُس کے بعد کبھی ہوگی۔ 7لیکن بنی اسرائیل میں سے کسی پر، خواہ انسان ہو یا جانور، کوئی کتّا تک نہ غُرّائے گا، تاکہ تم جان لو کہ ہمارا باپ مصر اور اسرائیل میں فرق رکھتا ہے۔ 8تیرے یہ سب خادم میرے پاس آئیں گے اور میرے آگے جھک کر کہیں گے، ’نکل جا، تُو اور وہ سب لوگ جو تیرے پیچھے چلتے ہیں۔‘ اِس کے بعد میں نکل جاؤں گا۔“ پھر موسیٰ سخت غصّے میں فرعون کے پاس سے چلا گیا۔
9ہمارے باپ نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون تمہاری نہ سنے گا، تاکہ ملکِ مصر میں میرے عجائب بڑھ جائیں۔“
10موسیٰ اور ہارون نے یہ سب عجائب فرعون کے سامنے دکھائے، لیکن ہمارے باپ نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا، اور اُس نے بنی اسرائیل کو اپنے ملک سے جانے نہ دیا۔