پھاٹک پر انصاف
مار کی حد چالیس کوڑے ہے تاکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بھائی کی تذلیل نہ ہو۔ دائیں چلاتے بیل کا منہ نہ باندھا جائے۔ بیوہ کے مرحوم شوہر کا نام اُس کا بھائی قائم رکھے، ورنہ پھاٹک پر اُس بھائی کو شرمندہ کیا جائے۔ ترازو اور پیمانے دیانت دار ہوں۔
25 1اگر آدمیوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہو اور وہ عدالت میں جائیں، تو قاضی اُن کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے بےقصور کو بری کریں اور قصوروار کو مجرم ٹھہرائیں، 2اور اگر قصوروار آدمی مار کھانے کے لائق ہو، تو قاضی اُسے اپنے سامنے لِٹائے اور اُس کے جُرم کے مطابق گنتی کے کوڑے لگوائے۔ 3چالیس کوڑے، اِس سے زیادہ نہیں؛ اگر وہ اِن سے زیادہ اُسے مارے تو تیرا بھائی تیری آنکھوں کے سامنے ذلیل ہو جائے گا۔
4تُو دائیں چلتے ہوئے بَیل کا مُنہ نہ باندھنا۔
5اگر بھائی مل کر رہتے ہوں اور اُن میں سے ایک بغیر بیٹے کے مر جائے، تو مرے ہوئے کی بیوی کسی غیر شخص سے بیاہ نہ کرے۔ اُس کے شوہر کا بھائی اُسے اپنی بیوی بنائے، اُس کے ساتھ ہمبستر ہو، اور اُس کے ساتھ دیور کا فرض ادا کرے۔ 6اور جو پہلوٹھا وہ جنے وہ مرے ہوئے بھائی کے نام سے کہلائے، تاکہ اُس کا نام اسرائیل میں سے مٹ نہ جائے۔
7اور اگر وہ آدمی اپنے بھائی کی بیوی کو لینا نہ چاہے، تو وہ عورت پھاٹک پر بزرگوں کے پاس جائے اور کہے، ”میرے شوہر کا بھائی اپنے بھائی کا نام اسرائیل میں قائم رکھنے سے انکار کرتا ہے؛ وہ میرے ساتھ دیور کا فرض ادا کرنے کو تیار نہیں۔“ 8تب اُس کے شہر کے بزرگ اُسے بُلا کر اُس سے بات کریں۔ اور اگر وہ اپنی بات پر اڑا رہے اور کہے، ”میں اِسے لینا نہیں چاہتا،“ 9تو اُس کے بھائی کی بیوی بزرگوں کے سامنے اُس کے پاس آئے، اُس کے پاؤں سے اُس کی جوتی اُتارے، اُس کے مُنہ پر تھوکے اور کہے، ”اُس آدمی کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے جو اپنے بھائی کا گھر آباد نہیں کرتا۔“ 10اور اسرائیل میں اُس کا گھرانا ”اُس شخص کا گھر جس کی جوتی اُتاری گئی“ کہلائے گا۔
11اگر دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہوں اور ایک کی بیوی اپنے شوہر کو مارنے والے کے ہاتھ سے چھڑانے آئے، اور وہ ہاتھ بڑھا کر اُس کے شرمگاہ کو پکڑ لے، 12تو تُو اُس عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالنا۔ ذرا رحم نہ کرنا۔
13تُو اپنی تھیلی میں دو طرح کے باٹ، ایک بڑا اور ایک چھوٹا، نہ رکھنا۔ 14تُو اپنے گھر میں دو طرح کے پیمانے، ایک بڑا اور ایک چھوٹا، نہ رکھنا۔ 15تیرے پاس پورا اور ٹھیک باٹ ہو؛ تیرے پاس پورا اور ٹھیک پیمانہ ہو، تاکہ اُس مُلک میں جو تیرا باپ تجھے دے رہا ہے تیری عمر دراز ہو۔ 16کیونکہ ہر وہ شخص جو ایسے کام کرتا ہے، ہر وہ جو بےایمانی سے پیش آتا ہے، تیرے باپ کے نزدیک مکروہ ہے۔
17یاد رکھ کہ عمالیق نے راستے میں تیرے ساتھ کیا کیا، جب تُو مصر سے نکل کر آ رہا تھا، 18کہ اُس نے راہ میں تجھ پر حملہ کیا، اور جب تُو تھکا ماندہ اور نڈھال تھا تو تیرے پیچھے رہ جانے والے سب کمزوروں کو کاٹ ڈالا، اور اُسے ہمارے باپ کا کوئی خوف نہ تھا۔ 19پس جب تیرا باپ تجھے تیرے چاروں طرف کے سب دشمنوں سے آرام بخشے، اُس مُلک میں جو تیرا باپ تجھے میراث کے طور پر قبضہ کرنے کو دے رہا ہے، تو عمالیق کی یاد کو آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالنا۔ اِسے نہ بھولنا۔