ہمارا باپ ساؤل کے ذریعے اسرائیل کو نجات دیتا ہے
ناحس یبیس جلعاد کو صلح کی پیشکش کرتا ہے، اس قیمت پر کہ ہر ایک کی دہنی آنکھ نکال لی جائے۔ خبر آتی ہے تو ساؤل ہل چلا رہا ہوتا ہے۔ روح اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، وہ اسرائیل کو بلانے کے لیے اپنے بیلوں کے ٹکڑے کرتا ہے، اور صبح تک عمونیوں کو شکست دے دیتا ہے۔ وہ اپنے نکتہ چینوں کو قتل کرنے سے انکار کرتا ہے: آج ہمارے باپ نے نجات بخشی ہے۔
11 1پھر ناحاس عمونی نے چڑھائی کی اور یبیس جِلعاد کے مقابل خیمہ زن ہوا۔ یبیس کے سب لوگوں نے ناحاس سے کہا، ”ہمارے ساتھ عہد باندھ، تو ہم تیری خدمت کریں گے۔“
2ناحاس عمونی نے جواب دیا، ”میں تم سے اِس شرط پر عہد باندھوں گا کہ میں ہر ایک کی دہنی آنکھ نکال ڈالوں اور یوں سارے اسرائیل کو رُسوا کروں۔“
3یبیس کے بزرگوں نے اُس سے کہا، ”ہمیں سات دن کی مہلت دے کہ ہم سارے اسرائیل کی حدود میں قاصد بھیجیں۔ اگر کوئی ہمیں نہ بچائے تو ہم تیرے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔“ 4قاصد ساؤل کے جِبعہ میں پہنچے اور لوگوں کو سارا ماجرا سنایا، تو وہ سب بلند آواز سے رونے لگے۔
5اُسی وقت ساؤل اپنے بیلوں کے پیچھے کھیت سے چلا آ رہا تھا۔ اُس نے پوچھا، ”لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ کیوں رو رہے ہیں؟“ چنانچہ اُنہوں نے یبیس کے لوگوں کی خبر اُسے سنائی۔ 6جب ساؤل نے یہ باتیں سنیں تو ہمارے باپ کا روح زور سے اُس پر نازل ہوا، اور اُس کا غصہ سخت بھڑک اٹھا۔ 7اُس نے بیلوں کی ایک جوڑی لے کر اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا اور قاصدوں کے ہاتھ سارے اسرائیل کی حدود میں بھیج دیا اور کہلا بھیجا، ”جو کوئی ساؤل اور سموئیل کے پیچھے نہ نکلے، اُس کے بیلوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا۔“ تب ہمارے باپ کا خوف لوگوں پر چھا گیا، اور وہ ایک تن ہو کر نکل آئے۔ 8اُس نے بزق میں اُن کو گِنا: تین لاکھ اسرائیلی اور تیس ہزار یہوداہ کے مرد تھے۔ 9اُنہوں نے آنے والے قاصدوں سے کہا، ”یبیس جِلعاد کے لوگوں سے کہو کہ کل دھوپ تیز ہونے تک تمہیں چھٹکارا مل جائے گا۔“ قاصدوں نے جا کر یبیس کے لوگوں کو یہ بتایا تو وہ خوش ہوئے۔ 10یبیس کے لوگوں نے کہا، ”کل ہم تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ جو تمہیں اچھا لگے وہ ہمارے ساتھ کرنا۔“ 11دوسرے دن ساؤل نے لوگوں کو تین دستوں میں تقسیم کیا۔ صبح کے پہر اُنہوں نے لشکرگاہ میں گھس کر عمونیوں کو دن کی دھوپ تیز ہونے تک مارا؛ اور جو بچ رہے وہ ایسے تِتّر بِتّر ہو گئے کہ اُن میں سے دو بھی اکٹھے نہ رہے۔
ہمارے باپ کے حضور بادشاہی کی تجدید
12لوگوں نے سموئیل سے کہا، ”وہ کون تھا جس نے کہا تھا کہ ’کیا ساؤل ہم پر سلطنت کرے گا؟‘ اُن آدمیوں کو حوالے کر دو کہ ہم اُنہیں مار ڈالیں۔“
13لیکن ساؤل نے کہا، ”آج کے دن کوئی قتل نہ کیا جائے گا، کیونکہ آج ہمارے باپ نے اسرائیل کو نجات بخشی ہے۔“
14سموئیل نے لوگوں سے کہا، ”آؤ، ہم جِلجال کو چلیں اور وہاں سلطنت کی تجدید کریں۔“ 15چنانچہ سب لوگ جِلجال کو گئے اور وہاں ہمارے باپ کے حضور ساؤل کو بادشاہ بنایا۔ وہاں اُنہوں نے ہمارے باپ کے حضور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں، اور ساؤل اور اسرائیل کے سب مرد بہت خوش ہوئے۔