اِسے چاندی کی طرح ڈھونڈو
2 1اے میرے بیٹے، اگر تو میری باتیں قبول کرے اور میرے احکام اپنے اندر محفوظ رکھے، 2اپنے کان کو حکمت کی طرف مائل کرے اور اپنے دل کو فہم کی طرف پھیرے؛ 3ہاں، اگر تو بصیرت کے لیے پکارے اور فہم کے لیے اپنی آواز بلند کرے، 4اگر تو اِسے چاندی کی طرح ڈھونڈے اور پوشیدہ خزانے کی طرح اِس کی تلاش کرے، 5تب تو ہمارے باپ کے خوف کو سمجھے گا اور ہمارے باپ کے علم کو پائے گا۔ 6کیونکہ ہمارا باپ حکمت بخشتا ہے؛ اُس کے منہ سے علم و فہم نکلتے ہیں۔ 7وہ راستبازوں کے لیے کامل حکمت ذخیرہ کرتا ہے؛ وہ اُن کی سپر ہے جو دیانتداری سے چلتے ہیں، 8تاکہ انصاف کی راہوں کی حفاظت کرے اور اپنے وفاداروں کی راہ کی نگہبانی کرے۔
9تب تو راستبازی اور انصاف اور راست روی کو سمجھے گا—ہر اچھی راہ کو۔ 10کیونکہ حکمت تیرے دل میں داخل ہوگی، اور علم تیری جان کو خوشگوار لگے گا؛ 11تمیز تیری نگہبانی کرے گی، اور فہم تیری حفاظت کرے گا، 12تجھے بُرائی کی راہ سے بچائے گی، اُن آدمیوں سے جو ٹیڑھی باتیں کرتے ہیں، 13جو راستی کی راہیں چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تاریکی کی راہوں پر چلیں، 14جو بدی کرنے میں خوش ہوتے ہیں اور بُرائی کی کجروی میں شادمان ہوتے ہیں، 15جن کی راہیں ٹیڑھی ہیں، اور جو اپنی روش میں کج رو ہیں۔
16حکمت تجھے ممنوعہ عورت سے بھی بچائے گی، اُس اجنبی عورت سے جس کی باتیں چکنی چپڑی ہیں، 17جو اپنی جوانی کے ساتھی کو چھوڑ دیتی ہے اور اپنے باپ کے عہد کو بھول جاتی ہے۔ 18کیونکہ اُس کا گھر موت کی طرف جھکتا ہے، اور اُس کی راہیں مُردوں کی طرف۔ 19جو اُس کے پاس جاتے ہیں اُن میں سے کوئی واپس نہیں آتا، نہ وہ زندگی کی راہوں تک پہنچتے ہیں۔
20پس تو نیکوں کی راہ پر چلے گا اور راستبازوں کی راہوں پر قائم رہے گا۔ 21کیونکہ راستباز ملک میں بسیں گے، اور دیانتدار اُس میں قائم رہیں گے؛ 22لیکن شریر ملک سے کاٹ ڈالے جائیں گے، اور دغاباز اُس میں سے اُکھاڑ پھینکے جائیں گے۔