محبوب گیُس کے نام
1 1بزرگ کی طرف سے، محبوب گیُس کے نام، جسے میں سچائی میں محبت کرتا ہوں۔
2اے محبوب، میں دعا کرتا ہوں کہ جس طرح تیری روح ترقی کرتی ہے، اُسی طرح تُو ہر بات میں کامیاب رہے اور تندرست رہے۔ 3جب بھائی آئے اور تیری سچائی کی وفاداری کی گواہی دی تو میں نہایت خوش ہوا—کیونکہ تُو واقعی اُسی میں چلتا ہے۔ 4مجھے اِس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں کہ میں سنوں کہ میرے فرزند سچائی میں چل رہے ہیں۔
5اے محبوب، تُو بھائیوں کے لیے جو کچھ کرتا ہے اُس سب میں وفاداری سے کام لیتا ہے، خواہ وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہوں۔ 6اُنہوں نے کلیسیا کے سامنے تیری محبت کی گواہی دی۔ اُنہیں اِس طرح رخصت کر جو ہمارے باپ کے لائق ہو۔ 7کیونکہ وہ اُس نام کی خاطر نکلے، اور غیرقوموں سے کچھ قبول نہ کیا۔ a a v7 ”وہ نام“ سے مراد یسوع ہے—یہ مبشّر اُس کی نمائندگی کرتے ہوئے نکلے اور اُنہوں نے بےایمانوں سے کوئی مالی مدد قبول نہ کی۔ 8پس ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، تاکہ ہم سچائی کے ہمکار بنیں۔
9میں نے کلیسیا کو کچھ لکھا تھا، لیکن دیُترفیس، جو اُن میں اوّل رہنے کا شوقین ہے، ہمیں قبول نہیں کرتا۔ 10اِس لیے اگر میں آؤں تو اُس کے اُن کاموں کو ظاہر کروں گا جو وہ کر رہا ہے—وہ بدنیّتی کی باتوں سے ہم پر تہمت لگاتا ہے۔ اور اِتنے پر بھی بس نہیں کرتا، بلکہ خود بھائیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، اور جو قبول کرنا چاہتے ہیں اُنہیں روکتا ہے، اور کلیسیا سے نکال دیتا ہے۔
11اے محبوب، بُرائی کی نہیں بلکہ نیکی کی نقل کر۔ جو نیکی کرتا ہے وہ ہمارے باپ سے ہے؛ جو بُرائی کرتا ہے اُس نے ہمارے باپ کو نہیں دیکھا۔ 12دیمیتریُس کی سب اچھی گواہی دیتے ہیں، اور خود سچائی بھی۔ ہم بھی گواہی دیتے ہیں، اور تُو جانتا ہے کہ ہماری گواہی سچی ہے۔
13مجھے تجھے بہت کچھ لکھنا تھا، لیکن میں قلم اور روشنائی سے لکھنا نہیں چاہتا۔ 14مجھے اُمید ہے کہ میں جلد تجھ سے ملوں گا، اور ہم رُوبرُو بات کریں گے۔ 15تجھے سلامتی ملے۔ دوست تجھے سلام کہتے ہیں۔ دوستوں میں سے ہر ایک کو نام لے کر سلام کہنا۔