ایک تاک جو آگ کے سوا کسی کام کی نہیں
15 1پھر ہمارے باپ کا کلام مجھ پر نازل ہوا:
2”اے اِبنِ آدم، تاک کی لکڑی کسی اور لکڑی سے کیونکر بہتر ہے؟ جنگل کے درختوں میں تاک کی شاخ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ 3کیا اُس کی لکڑی کسی کام میں لائی جا سکتی ہے؟ کیا اُس سے کوئی کھونٹی بنائی جا سکتی ہے جس پر چیزیں لٹکائی جائیں؟ 4دیکھ، اُسے ایندھن کے لیے آگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ آگ اُس کے دونوں سرے کھا جاتی ہے اور اُس کا درمیانی حصہ جل کر کوئلہ ہو جاتا ہے۔ کیا وہ کسی کام کے لائق ہے؟ 5جب وہ سالم ہوتے ہوئے بےکار تھی، تو آگ کے اُسے کھا جانے اور جل کر کوئلہ ہو جانے کے بعد وہ کِس کام کی رہے گی؟“
6پس خُداوند باپ یوں فرماتا ہے: ”جیسے جنگل کے درختوں میں تاک کی لکڑی، جسے میں نے ایندھن کے لیے آگ کے حوالے کیا، ویسے ہی میں نے یروشلیم کے باشندوں کو چھوڑ دیا ہے۔ 7میں اپنا چہرہ اُن کے خلاف کروں گا۔ وہ ایک آگ سے بچ نکلے، مگر دوسری آگ اُنہیں کھا جائے گی؛ اور جب میں اپنا چہرہ اُن کے خلاف کروں گا تو تم جان لو گے کہ میں تمہارا باپ ہوں۔ 8میں اِس ملک کو ویران کر دوں گا، اِس لیے کہ وہ سراسر بےوفا رہے ہیں، خُداوند باپ فرماتا ہے۔“