پڑھیں۔ قبول کریں۔ تجویز دیں۔

♥ آراء

یوحنا 7

کتاب

اُس کا وقت ابھی نہیں آیا

Chapter 7.

اِس کے بعد یسوع گلیل میں پھرتے رہے، اور یہودیہ میں جانا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ وہاں کے یہودی رہنما اُنہیں قتل کرنے کا موقع ڈھونڈ رہے تھے۔ مگر یہودیوں کی جھونپڑیوں کی عید نزدیک تھی۔ a a v2 جھونپڑیوں کی عید (خیموں کی عید) خزاں کے موسم کی ایک ہفتہ بھر جاری رہنے والی عید تھی، جب اسرائیل عارضی جھونپڑیوں میں رہتا تھا، اور بیابان کے اُن برسوں کو یاد کرتا تھا۔ اُس کے بھائیوں نے اُس سے کہا، ”یہاں سے نکل کر یہودیہ کو چلا جا، تاکہ تیرے شاگرد بھی وہ کام دیکھیں جو تُو کرتا ہے۔ کوئی بھی جو عوامی توجہ چاہتا ہے، اپنے کام چھپا کر نہیں کرتا۔ اگر تُو یہ کام کرتا ہے تو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہر کر۔“ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر ایمان نہیں لاتے تھے۔

چنانچہ یسوع نے اُن سے کہا، ”میرا وقت ابھی نہیں آیا، مگر تمہارے لیے ہر وقت مناسب ہے۔ دُنیا تم سے عداوت نہیں رکھ سکتی، مگر مجھ سے عداوت رکھتی ہے، کیونکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اُس کے کام بُرے ہیں۔ تم خود عید میں جاؤ؛ میں اِس عید میں نہیں جا رہا، کیونکہ میرا وقت ابھی پورا نہیں ہوا۔“

یہ کہنے کے بعد وہ گلیل ہی میں ٹھہرا رہا۔ جب اُس کے بھائی عید میں چلے گئے، تو وہ بھی گیا — کھلم کھلا نہیں، بلکہ چھپ کر۔

چنانچہ یہودی رہنما عید میں اُسے تلاش کر رہے تھے اور پوچھ رہے تھے، ”وہ کہاں ہے؟“ بھیڑ میں اُس کے بارے میں بہت چہ مگوئیاں پھیل رہی تھیں: بعض کہتے تھے، ”وہ نیک ہے،“ اور دُوسرے کہتے تھے، ”نہیں، وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔“ پھر بھی یہودی رہنماؤں کے ڈر سے کوئی اُس کے بارے میں کھلم کھلا بات نہ کرتا تھا۔ عید کے تقریباً آدھے دنوں میں یسوع ہیکل میں گیا اور تعلیم دینے لگا۔

یہودی رہنما حیران ہو کر پوچھنے لگے، ”یہ شخص بغیر تعلیم پائے اِتنا کچھ کیسے جانتا ہے؟“

یسوع نے اُنہیں جواب دیا، ”میری تعلیم میری اپنی نہیں—یہ اُسی کی طرف سے ہے جس نے مجھے بھیجا۔ جو کوئی ہمارے باپ کی مرضی پر عمل کرنا چاہتا ہے، وہ جان لے گا کہ میری تعلیم میرے باپ کی طرف سے ہے یا میں اپنی طرف سے کہتا ہوں۔ جو اپنی طرف سے کہتا ہے وہ اپنی ہی عزت چاہتا ہے، مگر جو بھیجنے والے کی عزت چاہتا ہے وہ سچا ہے، اور اُس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ کیا موسیٰ نے تمہیں شریعت نہیں دی؟ پھر بھی تم میں سے کوئی شریعت پر عمل نہیں کرتا۔ تم مجھے کیوں قتل کرنے کی کوشش کرتے ہو؟

بھیڑ نے جواب دیا، ”تجھ میں بدرُوح ہے! کون تجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟“

یسوع نے جواب دیا، ”میں نے ایک کام کیا، اور تم سب حیران ہو۔ موسیٰ نے تمہیں ختنہ دیا — موسیٰ کی طرف سے نہیں، بلکہ باپ دادا کی طرف سے — اور تم سبت کے دن آدمی کا ختنہ کرتے ہو۔ اگر کسی آدمی کا سبت کے دن ختنہ کیا جاتا ہے تاکہ موسیٰ کی شریعت نہ ٹوٹے، تو تم مجھ پر کیوں غصے ہوتے ہو کہ میں نے سبت کے دن ایک پورے آدمی کو تندرست کیا؟ ظاہری صورت سے فیصلہ کرنا چھوڑ دو، اور راست فیصلے سے انصاف کرو۔“

وہ کہاں سے ہے؟

تب یروشلیم کے بعض لوگ کہنے لگے، ”کیا یہ وہی شخص نہیں جسے وہ قتل کرنا چاہتے ہیں؟ پھر بھی وہ کھلم کھلا بات کرتا ہے، اور وہ اُس سے کچھ نہیں کہتے۔ کیا سردار واقعی جان گئے ہیں کہ یہی مسیح ہے؟ مگر ہم اِس شخص کی اصل جانتے ہیں۔ جب مسیح آئے گا تو کوئی نہیں جانے گا کہ وہ کہاں سے ہے۔“

تب یسوع نے ہیکل میں تعلیم دیتے ہوئے پکار کر کہا، ”تم مجھے جانتے ہو، اور یہ بھی جانتے ہو کہ میں کہاں سے ہوں۔ پھر بھی میں اپنی طرف سے نہیں آیا—جس نے مجھے بھیجا وہ سچا ہے، اور تم اُسے نہیں جانتے۔ میں اُسے جانتا ہوں، کیونکہ میں اُسی کی طرف سے ہوں، اور اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔“

چنانچہ اُنہوں نے اُسے پکڑنے کی کوشش کی، مگر کسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا، کیونکہ اُس کی گھڑی ابھی نہیں آئی تھی۔ مگر بھیڑ میں سے بہتیرے اُس پر ایمان لائے، اور کہنے لگے، ”جب مسیح آئے گا تو کیا وہ اِس شخص سے زیادہ نشان دکھائے گا؟“ فریسیوں نے بھیڑ کو اُس کے بارے میں یہ چہ مگوئیاں کرتے سنا، چنانچہ سردار کاہنوں اور فریسیوں نے اُسے پکڑنے کے لیے ہیکل کے پہرے دار بھیجے۔

تب یسوع نے کہا، ”میں تھوڑی دیر اَور تمہارے ساتھ ہوں، اور پھر اُس کے پاس جاتا ہوں جس نے مجھے بھیجا۔ تم مجھے تلاش کرو گے اور نہ پاؤ گے؛ اور جہاں میں ہوں وہاں تم نہیں آ سکتے۔“

چنانچہ یہودی رہنما آپس میں پوچھنے لگے، ”یہ کہاں جانے کا اِرادہ رکھتا ہے کہ ہم اُسے نہ پائیں گے؟ کیا یہ اُن لوگوں کے پاس جائے گا جو یونانیوں میں بکھرے ہوئے ہیں، اور یونانیوں کو تعلیم دے گا؟ اِس کا کیا مطلب ہے جو اُس نے کہا: ’تم مجھے تلاش کرو گے، مگر نہ پاؤ گے،‘ اور ’جہاں میں ہوں وہاں تم نہیں آ سکتے‘؟“

عید کے آخری اور بڑے دن یسوع کھڑا ہوا اور پکار کر کہا، ”جو کوئی پیاسا ہو، وہ میرے پاس آئے اور پیے۔ جو کوئی مجھ پر ایمان لائے، جیسا کہ کلامِ مقدس نے کہا، اُس کے دل سے زندگی کے پانی کی ندیاں بہیں گی۔“

اُس نے یہ رُوحُ القُدس کے بارے میں کہا، جسے اُس پر ایمان لانے والوں کو ملنے والا تھا؛ کیونکہ روح ابھی نہیں دیا گیا تھا، اِس لیے کہ یسوع کو ابھی جلال نہیں ملا تھا۔

یہ باتیں سُن کر بھیڑ میں سے بعض کہنے لگے، ”یہ واقعی وہی نبی ہے۔“ دُوسروں نے کہا، ”یہ مسیح ہے۔“ مگر اَور لوگوں نے پوچھا، ”کیا مسیح گلیل سے آ سکتا ہے؟ کیا کلامِ مقدس نہیں کہتا کہ مسیح داؤد کی نسل سے، اور داؤد کے گاؤں بیت لحم سے آتا ہے؟“ چنانچہ بھیڑ اُس کے بارے میں دو گروہ ہو گئی۔ اُن میں سے بعض اُسے پکڑنا چاہتے تھے، مگر کسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔

پھر ہیکل کے پہرے دار سردار کاہنوں اور فریسیوں کے پاس لوٹ آئے، جنہوں نے پوچھا، ”تم اُسے کیوں نہیں لائے؟“

پہرے داروں نے جواب دیا، ”کسی شخص نے کبھی اِس طرح بات نہیں کی جس طرح یہ شخص کرتا ہے۔“

فریسیوں نے جواب دیا، ”کیا تم بھی فریب کھا گئے؟ کیا سرداروں یا فریسیوں میں سے کوئی اُس پر ایمان لایا ہے؟ مگر یہ بھیڑ، جو شریعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتی — یہ لعنتی ہے۔“

نیکدیمس نے، جو اِس سے پہلے یسوع کے پاس گیا تھا اور اُنہی میں سے ایک تھا، اُن سے پوچھا، ”کیا ہماری شریعت کسی آدمی کو پہلے سُنے اور یہ جانے بغیر کہ وہ کیا کرتا ہے، مجرم ٹھہراتی ہے؟“

اُنہوں نے جواب دیا، ”کیا تُو بھی گلیل سے ہے؟ تلاش کر کے دیکھ لے: گلیل سے کوئی نبی نہیں اُٹھتا۔“

پھر وہ سب اپنے اپنے گھر چلے گئے،

A young man reading the Father's Heart Bible print edition in a coffee shop اب چھپی ہوئی صورت میں دستیاب

تبصرے

کوئی خیال، سوال، یا کوئی بات جو اِس باب نے آپ کے دل میں جگائی — یہاں بانٹیں۔ ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

پڑھنا، نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا سب کے لیے کھلا ہے — کسی اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔ تبصرہ کرنا، نشان لگانا اور اپنی جگہ محفوظ رکھنا مفت اکاؤنٹ کے ساتھ ملتا ہے، اور ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

خاندان میں شامل ہوں — بالکل مفت ←
  • ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلی بات آپ کہیں۔