یروشلیم میں ایک عید
5 1 اِس کے بعد یہودیوں کی ایک عید ہوئی، اور یسوع یروشلیم کو گیا۔ 2 یروشلیم میں بھیڑ دروازے کے پاس ایک حوض ہے جس کے پانچ برآمدے ہیں، جو ارامی زبان میں بیت حسدا کہلاتا ہے۔ a a v2 بیت حسدا کا مطلب ہے ’رحمت کا گھر‘ — اُس جگہ کے لیے ایک موزوں نام جہاں یسوع نے شفا بخشی۔ 3 اِن میں بیماروں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی رہتی تھی — اندھے، لنگڑے اور مفلوج۔ 4 b b v4 یہ آیت قدیم ترین نسخوں میں نہیں ہے؛ بعد کے نسخے یہ اضافہ کرتے ہیں: ”کیونکہ ایک فرشتہ وقتاً فوقتاً حوض میں اُترتا اور پانی کو ہلاتا تھا؛ ہلائے جانے کے بعد جو کوئی پہلے اُس میں اُترتا وہ جس بیماری میں بھی مبتلا ہوتا اُس سے شفا پاتا۔“ 5 وہاں ایک آدمی تھا جو اڑتیس برس سے بیمار تھا۔
6 یسوع نے اُسے وہاں پڑا دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ بہت عرصے سے اِس حالت میں ہے، اُس سے پوچھا، ”کیا تُو شفا پانا چاہتا ہے؟“
7 بیمار نے اُسے جواب دیا، ”اے خُداوند، میرا کوئی نہیں جو پانی ہلنے پر مجھے حوض میں اُتارے — اور جب تک مَیں پہنچتا ہوں، کوئی اور مجھ سے پہلے اُتر جاتا ہے۔“
8 یسوع نے اُس سے کہا، ”اُٹھ، اپنی چٹائی اُٹھا اور چل پھر۔“
9 فوراً وہ آدمی تندرست ہو گیا، اپنی چٹائی اُٹھائی اور چلنے پھرنے لگا۔ وہ دن سبت کا تھا۔
10 چنانچہ یہودیوں نے اُس شفا پائے ہوئے آدمی سے کہا، ”آج سبت ہے — تجھے اپنی چٹائی اُٹھانا جائز نہیں۔“
11 اُس نے اُنہیں جواب دیا، ”جس نے مجھے شفا دی اُسی نے مجھ سے کہا، ’اپنی چٹائی اُٹھا اور چل پھر۔‘“
12 اُنہوں نے اُس سے پوچھا، ”وہ کون شخص ہے جس نے تجھ سے کہا، ’اُٹھا اور چل پھر‘؟“
13 لیکن شفا پائے ہوئے آدمی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کون تھا، کیونکہ وہاں بھیڑ ہونے کے سبب یسوع چپکے سے نکل گیا تھا۔
14 اِس کے بعد یسوع اُسے ہیکل میں ملا اور اُس سے کہا، ”دیکھ، تُو اب تندرست ہو گیا ہے۔ اب گناہ نہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھ پر اِس سے بُری حالت آ پڑے۔“
15 وہ آدمی چلا گیا اور یہودیوں کو بتایا کہ جس نے اُسے تندرست کیا وہ یسوع ہے۔
وہ اُس کے خلاف ہو جاتے ہیں
16 اِسی سبب سے یہودی یسوع کو ستانے لگے، کیونکہ وہ سبت کے دن یہ کام کرتا تھا۔
17 لیکن یسوع نے اُنہیں جواب دیا، ”میرا باپ اب تک کام کرتا ہے، اور مَیں بھی کام کرتا ہوں۔“
18 اِس پر یہودی اُسے قتل کرنے کے اَور بھی درپے ہو گئے: کیونکہ وہ نہ صرف سبت کو توڑتا تھا بلکہ ہمارے باپ کو اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو اُس کے برابر بناتا تھا۔ c c v18 یہودی سرداروں نے یسوع کی بات صحیح سمجھی: جب اُس نے ہمارے باپ کو اپنا باپ کہا تو وہ ہمارے باپ کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا۔ اِس باب کا باقی حصہ یسوع کا اِسی دعوے کا دفاع اور وضاحت ہے۔
19 چنانچہ یسوع نے اُن سے کہا، ”مَیں تم سے سچ سچ کہتا ہوں: بیٹا اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتا، سوائے اُس کے جو وہ باپ کو کرتے دیکھتا ہے۔ باپ جو کچھ کرتا ہے، بیٹا بھی ویسا ہی کرتا ہے۔ 20 کیونکہ باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اور جو کچھ وہ خود کرتا ہے سب اُسے دکھاتا ہے؛ اور وہ اُسے اِن سے بھی بڑے کام دکھائے گا، تاکہ تم حیران رہ جاؤ۔ 21 کیونکہ جس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زندگی بخشتا ہے، اُسی طرح بیٹا بھی جسے چاہتا ہے زندگی بخشتا ہے۔ 22 کیونکہ باپ کسی کا انصاف نہیں کرتا، بلکہ اُس نے سارا انصاف بیٹے کے سپرد کر دیا ہے، 23 تاکہ سب لوگ بیٹے کی عزت کریں جیسے وہ باپ کی عزت کرتے ہیں۔ جو بیٹے کی عزت نہیں کرتا وہ اُس باپ کی بھی عزت نہیں کرتا جس نے اُسے بھیجا۔
24 مَیں تم سے سچ سچ کہتا ہوں: جو میرا کلام سنتا اور اُس پر ایمان لاتا ہے جس نے مجھے بھیجا، ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے اور اُس پر عدالت نہ ہوگی — وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ 25 مَیں تم سے سچ سچ کہتا ہوں، وہ گھڑی آتی ہے بلکہ اب ہے، جب مُردے ہمارے باپ کے بیٹے کی آواز سنیں گے، اور جو سنیں گے وہ جئیں گے۔ 26 کیونکہ جس طرح باپ اپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے، اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زندگی رکھے۔ 27 اور اُس نے اُسے عدالت کرنے کا اختیار بھی دیا ہے، کیونکہ وہ اِبنِ آدم ہے۔ 28 اِس پر حیران نہ ہو — وہ گھڑی آتی ہے جب سب جو قبروں میں ہیں اُس کی آواز سنیں گے۔ 29 اور نکلیں گے — جنہوں نے نیکی کی وہ زندگی کی قیامت کے لیے، اور جنہوں نے بدی کی وہ عدالت کی قیامت کے لیے۔ 30 مَیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں ویسا ہی انصاف کرتا ہوں؛ اور میرا انصاف عادلانہ ہے، کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں بلکہ اُس کی مرضی چاہتا ہوں جس نے مجھے بھیجا۔
بیٹے کے گواہ
31 اگر مَیں خود اپنی گواہی دوں تو میری گواہی معتبر نہیں۔ 32 ایک اَور ہے جو میری گواہی دیتا ہے، اور مَیں جانتا ہوں کہ میرے حق میں اُس کی گواہی سچی ہے۔ 33 تم نے یوحنا کے پاس قاصد بھیجے، اور اُس نے سچائی کی گواہی دی۔ 34 یہ نہیں کہ مَیں انسان کی گواہی قبول کرتا ہوں، بلکہ مَیں یہ باتیں اِس لیے کہتا ہوں تاکہ تم نجات پاؤ۔ 35 یوحنا جلتا اور چمکتا ہوا چراغ تھا، اور تم تھوڑی دیر کے لیے اُس کی روشنی میں خوش ہونے پر راضی ہوئے۔ 36 لیکن میرے پاس یوحنا سے بڑی گواہی ہے: وہ کام جو میرے باپ نے مجھے پورا کرنے کو دیے — یعنی وہی کام جو مَیں کر رہا ہوں — گواہی دیتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بھیجا ہے۔ 37 اور میرے باپ نے، جس نے مجھے بھیجا، خود میری گواہی دی ہے۔ تم نے نہ کبھی اُس کی آواز سنی اور نہ اُس کی صورت دیکھی، 38 اور اُس کا کلام تم میں قائم نہیں رہتا، کیونکہ جسے اُس نے بھیجا اُس پر تم ایمان نہیں لاتے۔
39 تم صحیفوں کو کھوجتے ہو، یہ سمجھ کر کہ اُن میں ہمیشہ کی زندگی ہے — حالانکہ وہی میری گواہی دیتے ہیں، 40 پھر بھی تم میرے پاس آنا نہیں چاہتے تاکہ زندگی پاؤ۔ 41 مَیں لوگوں سے عزت قبول نہیں کرتا، 42 لیکن مَیں تمہیں جانتا ہوں — کہ تم میں ہمارے باپ کی محبت نہیں۔ 43 مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہوں، اور تم مجھے قبول نہیں کرتے؛ اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے تم قبول کر لو گے۔ 44 تم کیونکر ایمان لا سکتے ہو، جبکہ تم ایک دوسرے سے عزت قبول کرتے ہو اور اُس عزت کے طالب نہیں جو واحد خُدا کی طرف سے ہے؟
45 یہ نہ سمجھو کہ مَیں میرے باپ کے سامنے تم پر الزام لگاؤں گا۔ موسیٰ، جس پر تم نے اُمید رکھی ہے، تم پر الزام لگاتا ہے۔ 46 کیونکہ اگر تم موسیٰ پر ایمان لاتے تو مجھ پر بھی ایمان لاتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا۔ 47 لیکن اگر تم اُس کی تحریروں پر ایمان نہیں لاتے تو میری باتوں پر کیونکر ایمان لاؤ گے؟