پڑھیں۔ قبول کریں۔ تجویز دیں۔

♥ آراء

یوحنا 3

کتاب
Chapter 3.

اب فریسیوں میں سے ایک شخص تھا جس کا نام نیکدیمس تھا، جو یہودیوں کا ایک سردار تھا۔ یہ شخص رات کے وقت یسوع کے پاس آیا اور کہنے لگا، ”اے ربّی، ہم جانتے ہیں کہ تُو ایک اُستاد ہے جو ہمارے باپ کی طرف سے آیا ہے، کیونکہ جو نشان تُو دکھاتا ہے وہ کوئی نہیں دکھا سکتا جب تک ہمارا باپ اُس کے ساتھ نہ ہو۔“

یسوع نے جواب دیا، ”میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں: جب تک کوئی اُوپر سے پیدا نہ ہو، وہ ہمارے باپ کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔“ a a v3 anōthen کے دو معنی ہیں: ’اُوپر سے‘ اور ’دوبارہ‘۔ نیکدیمس نے ’دوبارہ‘ سمجھا — اِسی لیے اُس نے ماں کے پیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کا سوال کیا (آیت ۴)۔

نیکدیمس نے پوچھا، ”آدمی بوڑھا ہو کر کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی ماں کے پیٹ میں دوبارہ داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟“

یسوع نے جواب دیا، ”میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں، جب تک کوئی پانی اور رُوحُ القُدس سے پیدا نہ ہو، وہ ہمارے باپ کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جو جسم سے پیدا ہوا وہ جسم ہے، اور جو رُوحُ القُدس سے پیدا ہوا وہ رُوح ہے۔ تعجب نہ کر کہ میں نے تجھ سے کہا، ’تجھے اُوپر سے پیدا ہونا لازم ہے۔‘ ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے؛ تُو اُس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی ہے یا کہاں جاتی ہے۔ ایسا ہی ہر اُس شخص کا حال ہے جو رُوح سے پیدا ہوا ہے۔ b b v8 یہی ایک لفظ ”ہوا“ اور ”رُوح“ دونوں کے معنی رکھتا ہے — یسوع اُس چیز کو، جسے تُو محسوس تو کر سکتا ہے مگر اُس کا سراغ نہیں لگا سکتا، اُس کی مثال کے طور پر استعمال کرتا ہے جو نیا جنم بخشتا ہے۔

نیکدیمس نے اُس سے کہا، ”یہ باتیں کیونکر ہو سکتی ہیں؟“

یسوع نے اُسے جواب دیا، ”کیا تُو اسرائیل کا اُستاد ہے اور پھر بھی اِن باتوں کو نہیں سمجھتا؟ میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں: ہم وہی کہتے ہیں جو ہم جانتے ہیں، اور اُسی کی گواہی دیتے ہیں جو ہم نے دیکھا ہے، پھر بھی تُم ہماری گواہی قبول نہیں کرتے۔ اگر میں نے تُم سے زمینی باتیں کہیں اور تُم یقین نہیں کرتے، تو اگر میں تُم سے آسمانی باتیں کہوں تو تُم کیونکر یقین کرو گے؟ آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوائے اُس کے جو آسمان سے اُترا، یعنی اِبنِ آدم۔ اور جس طرح موسیٰ نے بیابان میں سانپ کو اُونچا کیا، اُسی طرح اِبنِ آدم کا اُونچا کیا جانا لازم ہے، c c v14 موسیٰ نے بیابان میں پیتل کا ایک سانپ ایک لاٹھی پر اُونچا کیا تاکہ سانپ کا ڈسا ہوا کوئی بھی اسرائیلی اُس پر نظر کرے اور زندہ رہے (گنتی ۲۱:۸–۹)۔ تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔ کیونکہ ہمارے باپ نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا، تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ d d v16 جس محبت نے بیٹے کو بخشا وہ باپ کی محبت ہے۔ ہمارے باپ نے دنیا میں کسی اجنبی کو نہیں بھیجا — اُس نے اپنا ہی بیٹا، یسوع، بخش دیا تاکہ ہم اُس کے فرزندوں کی حیثیت سے گھر واپس آ سکیں۔ کیونکہ ہمارے باپ نے اپنے بیٹے کو دنیا میں اِس لیے نہیں بھیجا کہ دنیا کو مجرم ٹھہرائے، بلکہ اِس لیے کہ دنیا اُس کے وسیلے سے نجات پائے۔ جو کوئی اُس پر ایمان لاتا ہے وہ مجرم نہیں ٹھہرتا؛ مگر جو ایمان نہیں لاتا وہ پہلے ہی مجرم ٹھہر چکا ہے، کیونکہ وہ ہمارے باپ کے اِکلوتے بیٹے کے نام پر ایمان نہیں لایا۔ اور مجرم ٹھہرانے کا سبب یہ ہے: کہ نور دنیا میں آیا، اور لوگوں نے نور کی نسبت اندھیرے سے زیادہ محبت رکھی، اِس لیے کہ اُن کے کام بُرے تھے۔ کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نور سے دشمنی رکھتا ہے اور نور کے پاس نہیں آتا، ایسا نہ ہو کہ اُس کے کام ظاہر ہو جائیں۔ مگر جو سچائی پر عمل کرتا ہے وہ نور کے پاس آتا ہے، تاکہ ظاہر ہو جائے کہ اُس کے کام ہمارے باپ میں کیے گئے ہیں۔

یہودیہ میں بپتسمہ دینا

اِس کے بعد یسوع اور اُس کے شاگرد یہودیہ کے دیہات میں گئے، جہاں وہ اُن کے ساتھ ٹھہرا اور بپتسمہ دیتا رہا۔ یوحنّا بھی سالیم کے قریب عینون میں بپتسمہ دیتا تھا، کیونکہ وہاں پانی بکثرت تھا، اور لوگ آ کر بپتسمہ لیتے تھے۔ کیونکہ یوحنّا ابھی تک قید میں نہیں ڈالا گیا تھا۔ پھر یوحنّا کے چند شاگردوں اور ایک یہودی کے درمیان طہارت کے بارے میں بحث چھڑ گئی۔ وہ یوحنّا کے پاس آئے اور کہا، ”اے ربّی، جو شخص یردن کے پار تیرے ساتھ تھا، جس کی تُو نے گواہی دی تھی—دیکھ، وہ بپتسمہ دے رہا ہے، اور سب لوگ اُس کے پاس جاتے ہیں۔“

یوحنّا نے جواب دیا، ”انسان کچھ بھی نہیں پا سکتا جب تک اُسے آسمان سے نہ دیا جائے۔ تُم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا تھا، میں مسیح نہیں ہوں بلکہ اُس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔ دُلہن جس کے ساتھ ہے وہی دُلہا ہے — یسوع۔ مگر دُلہے کا دوست جو کھڑا ہو کر اُس کی سنتا ہے، دُلہے کی آواز سے بہت خوش ہوتا ہے۔ پس میری یہ خوشی اب پوری ہو گئی ہے۔ e e v29 یوحنّا یسوع کو دُلہا ٹھہراتا ہے — وہی جس کے آنے کا ہمارے باپ نے مدت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی دُلہن، یعنی اپنے پیارے لوگوں، کے لیے آئے گا۔ یوحنّا کی خوشی اُس دوست کی خوشی ہے جو شادی کے آخرکار آ جانے پر مسرور ہوتا ہے۔ لازم ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں۔

جو اُوپر سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔ جو زمین سے ہے وہ زمین کا ہے اور زمینی طور پر بولتا ہے۔ جو آسمان سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔ وہ اُسی کی گواہی دیتا ہے جو اُس نے دیکھا اور سنا ہے، پھر بھی کوئی اُس کی گواہی قبول نہیں کرتا۔ جو کوئی اُس کی گواہی قبول کرتا ہے وہ اِس بات پر مہر لگاتا ہے کہ ہمارا باپ سچّا ہے۔ کیونکہ جسے ہمارے باپ نے بھیجا وہ ہمارے باپ کی باتیں کہتا ہے، اِس لیے کہ وہ رُوحُ القُدس بےاندازہ بخشتا ہے۔ ہمارا باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اور اُس نے سب کچھ اُس کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ f f v35 اِس آیت میں ظاہر ہونے والی باپ اور بیٹے کی محبت خود خُدا کی باطنی زندگی ہے — ازلی، اٹل، اور اُس ہر شے کا سرچشمہ جو ہمارے باپ نے بیٹے کو دیا ہے کہ وہ اُسے دنیا میں لے آئے۔ جو کوئی بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی رکھتا ہے؛ مگر جو بیٹے کی نافرمانی کرتا ہے وہ زندگی کو نہ دیکھے گا — ہمارے باپ کا غضب اُس پر رہتا ہے۔

A young man reading the Father's Heart Bible print edition in a coffee shop اب چھپی ہوئی صورت میں دستیاب

تبصرے

کوئی خیال، سوال، یا کوئی بات جو اِس باب نے آپ کے دل میں جگائی — یہاں بانٹیں۔ ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

پڑھنا، نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا سب کے لیے کھلا ہے — کسی اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔ تبصرہ کرنا، نشان لگانا اور اپنی جگہ محفوظ رکھنا مفت اکاؤنٹ کے ساتھ ملتا ہے، اور ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

خاندان میں شامل ہوں — بالکل مفت ←
  • ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلی بات آپ کہیں۔