جی کی تلخی
10 1”میں اپنی ہی زندگی سے بیزار ہوں۔ میں اپنی فریاد کو کھلی چھوٹ دوں گا؛ میں اپنے جی کی تلخی سے بولوں گا۔ 2میں خُدا سے کہوں گا: مجھے مجرم نہ ٹھہرا؛ بلکہ مجھے بتا کہ تُو کس لیے مجھ سے جھگڑتا ہے۔ 3کیا تجھے ظلم کرنا اچھا لگتا ہے، کہ تُو اپنے ہاتھوں کی کاریگری کو حقیر جانے جبکہ تُو شریروں کی سازشوں پر مسکراتا ہے؟ 4کیا تیری آنکھیں بشری ہیں؟ کیا تُو ویسے ہی دیکھتا ہے جیسے کوئی فانی انسان دیکھتا ہے؟ 5کیا تیرے دن فانی انسان کے دنوں کی مانند ہیں، یا تیرے برس آدمی کے برسوں کی مانند، 6کہ تُو میرے قصور کی تلاش کرے اور میرے گناہ کا کھوج لگائے، 7حالانکہ تُو جانتا ہے کہ میں مجرم نہیں، اور کوئی نہیں جو مجھے تیرے ہاتھ سے چھڑا سکے؟
8”تیرے ہاتھوں نے مجھے تشکیل دیا اور بنایا، میرے ہر عضو کو، اور اب تُو پلٹ کر مجھے فنا کرتا ہے۔ 9یاد کر کہ تُو نے مجھے مٹی کی طرح گوندھا۔ کیا اب تُو مجھے پھر خاک میں ملا دے گا؟ 10کیا تُو نے مجھے دودھ کی طرح نہ اُنڈیلا اور پنیر کی طرح نہ جمایا؟ 11مجھے کھال اور گوشت پہنایا، اور ہڈیوں اور پٹھوں سے مجھے بُن دیا؟ 12تُو نے مجھے زندگی اور اٹل محبت بخشی، اور تیری نگہبانی نے میری روح کی حفاظت کی ہے۔
13”تو بھی تُو نے یہ بات اپنے دل میں چھپا رکھی، اور میں جانتا ہوں کہ یہی تیرا مقصد تھا: 14اگر میں گناہ کرتا تو تُو میری نگرانی کرتا اور مجھے میرے قصور سے بری نہ کرتا۔ 15اگر میں مجرم ہوں تو وائے مجھ پر! اور اگر بےقصور بھی ہوں تو بھی اپنا سر نہیں اٹھا سکتا—میں شرمندگی سے بھرا ہوں، اپنی مصیبت میں ڈوبا ہوا۔ 16اگر میں اپنا سر اونچا رکھوں، تو تُو شیرِ ببر کی طرح میرا شکار کرتا ہے اور پھر میرے خلاف عجیب کام دکھاتا ہے۔ 17تُو میرے خلاف نئے گواہ لاتا ہے اور مجھ پر اپنا غضب اور زیادہ اُنڈیلتا ہے؛ مصیبت کی موج در موج حملہ آور ہوتی ہے مجھ پر۔
18”پھر تُو نے مجھے رحم سے باہر کیوں نکالا؟ کاش میں مر جاتا اِس سے پہلے کہ کوئی آنکھ مجھے دیکھتی۔ 19میں ایسا ہوتا گویا میں کبھی تھا ہی نہیں، رحم سے سیدھا قبر تک پہنچا دیا جاتا۔ 20کیا میرے دن تھوڑے نہیں؟ مجھ سے منہ پھیر لے، مجھے چھوڑ دے، تاکہ مجھے پل بھر کی راحت ملے، 21اِس سے پہلے کہ میں اُس جگہ چلا جاؤں جہاں سے لوٹنا نہیں، اُس تاریکی اور گہرے سائے کی سرزمین کو، 22اُس اندھیرے کی سرزمین کو جو گہری رات کی مانند ہے، گہرے سائے اور بدنظمی کی، جہاں روشنی بھی تاریکی کی مانند ہے۔“