ضوفر جواب دیتا ہے
11 1تب ضوفر نعماتی نے جواب دیا: 2”کیا اِن الفاظ کے سیلاب کا کوئی جواب نہ دیا جائے؟ کیا اِتنی باتوں سے بھرا شخص سچّا ثابت ہو؟ 3کیا تیری بےہودہ باتیں دوسروں کو خاموش کر دیں؟ کیا تُو ٹھٹّھا کرے اور کوئی تجھے شرمندہ نہ کرے؟ 4کیونکہ تُو کہتا ہے، ’میری تعلیم پاک ہے، اور مَیں تیری نظر میں بےگناہ ہوں۔‘ 5لیکن کاش کہ خُدا بولے اور اپنے ہونٹ تیرے خلاف کھولے، 6اور تجھ پر حکمت کے راز ظاہر کرے—کیونکہ سچّی حکمت کے دو پہلو ہیں۔ تب جان لے کہ خُدا نے تجھ سے تیرے گناہ کے استحقاق سے کم حساب لیا ہے۔ 7کیا تُو خُدا کی گہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے؟ کیا تُو قادرِ مطلق کی حد کو پا سکتا ہے؟ 8وہ آسمانوں سے بلند ہیں—تُو کیا کر سکتا ہے؟ پاتال سے گہری ہیں—تُو کیا جان سکتا ہے؟ 9اُن کی پیمائش زمین سے لمبی اور سمندر سے چوڑی ہے۔ 10اگر وہ گزر کر قید کرے اور عدالت کے لیے طلب کرے، تو کون اُسے روک سکتا ہے؟ 11کیونکہ وہ نکمّے لوگوں کو جانتا ہے؛ جب وہ بدی دیکھتا ہے، تو کیا وہ اُس پر دھیان نہ دے گا؟ 12لیکن کھوکھلے دماغ والا شخص تب دانا بنے گا جب جنگلی گدھے کا بچّہ اِنسان پیدا ہو۔ 13اگر تُو اپنے دل کو تیار کرے اور اپنے ہاتھ اُس کی طرف پھیلائے، 14اگر تیرے ہاتھ میں گناہ ہو، تو اُسے دور کر دے، اور اپنے خیموں میں کسی ناراستی کو بسنے نہ دے، 15تو یقیناً تُو اپنا چہرہ اُٹھائے گا، شرم سے آزاد؛ تُو قائم رہے گا اور نہ ڈرے گا۔ 16تُو اپنی مصیبت کو بھول جائے گا، اُسے اُس پانی کی طرح یاد کرے گا جو بہ گیا ہو۔ 17تیری زندگی دوپہر سے زیادہ روشن ہو گی؛ اُس کی تاریکی صبح کی مانند ہو گی۔ 18تُو محفوظ محسوس کرے گا، کیونکہ اُمید ہے؛ تُو ارد گرد نظر ڈالے گا اور سلامتی سے لیٹ جائے گا۔ 19تُو لیٹ جائے گا اور کوئی تجھے نہ ڈرائے گا، اور بہت سے تیری خوشنودی کے طالب ہوں گے۔ 20لیکن شریروں کی آنکھیں دُھندلا جائیں گی؛ ہر پناہ اُن سے جاتی رہے گی، اور اُن کی واحد اُمید یہی ہے کہ دم توڑ دیں۔“