آسف کا اعتماد کا گیت
میر مغنی کے لیے: طرز ”ہلاک نہ کر“ پر۔ آسف کا مزمور۔ ایک گیت۔
75 1 اے ہمارے باپ، ہم تیرا شکر کرتے ہیں؛ ہم شکر کرتے ہیں، کیونکہ تیرا نام نزدیک ہے۔ لوگ تیرے عجیب کاموں کا بیان کرتے ہیں۔
2 ”مقررہ وقت پر جو میں چنتا ہوں، میں انصاف سے عدالت کروں گا۔
3 جب زمین اور اُس کے سب باشندے کانپتے ہیں، تو میں ہی ہوں جو اُس کے ستونوں کو قائم رکھتا ہوں۔ سِلاہ 4 میں شیخی بازوں سے کہتا ہوں، ’شیخی نہ مارو،‘ اور شریروں سے، ’اپنی طاقت کی نمائش نہ کرو۔‘ a a v4 یہاں ”سینگ“ طاقت اور غرور کی علامت ہے — ”سینگ اونچا کرنا“ اپنی ہی طاقت کو بڑھانا ہے۔ 5 اپنی طاقت کی اِتنے غرور سے نمائش نہ کرو؛ اِتنے تکبر سے بات نہ کرو۔“
6 کیونکہ نہ مشرق سے، نہ مغرب سے، اور نہ بیابان سے کوئی اپنے آپ کو سربلند کر سکتا ہے۔ 7 ہمارا باپ ہی ہے جو عدالت کرتا ہے؛ وہ ایک کو پست کرتا اور دوسرے کو سربلند کرتا ہے۔ 8 ہمارے باپ کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہے جھاگ دار مے سے بھرا، پوری طرح ملایا ہوا، اور وہ اُسے اُنڈیلتا ہے؛ زمین کے سب شریروں کو اُسے تلچھٹ تک پینا ہوگا۔ 9 لیکن میں بیان کروں گا اِسے ہمیشہ کے لیے؛ میں یعقوب کے ہمارے باپ کی مدح سرائی کروں گا۔
10 ”میں کاٹ ڈالوں گا شریروں کی ساری طاقت، لیکن راستبازوں کی طاقت سربلند کی جائے گی۔“