حِزقیاہ موت کے دروازے پر
38 1اُن دنوں حِزقیاہ ایسا بیمار ہوا کہ مرنے کے قریب تھا۔ آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے اُس کے پاس آ کر کہا، ”ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: اپنے گھر کا بندوبست کر لے، کیونکہ تُو مر جائے گا اور جیتا نہ رہے گا۔“
2تب حِزقیاہ نے اپنا منہ دیوار کی طرف پھیرا اور ہمارے باپ سے دعا کی، 3اور کہا، ”اے میرے باپ، براہِ کرم یاد کر کہ میں کس طرح دیانتداری سے پورے دل کے ساتھ تیرے حضور چلتا رہا اور جو تیری نظر میں بھلا تھا وہی کیا۔“ اور حِزقیاہ زار زار رویا۔
4تب ہمارے باپ کا کلام یسعیاہ پر نازل ہوا:
5”جا کر حِزقیاہ سے کہہ، ’ہمارا باپ، تیرے باپ دادا داؤد کا باپ، یوں فرماتا ہے: میں نے تیری دعا سُنی اور تیرے آنسو دیکھے ہیں۔ دیکھ، میں تیری زندگی میں پندرہ سال اور بڑھا دیتا ہوں۔‘ 6میں تجھے اور اِس شہر کو اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے چھڑاؤں گا؛ میں اِس شہر کی حفاظت کروں گا۔
7”ہمارے باپ کی طرف سے تیرے لیے یہ نشان ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا: 8دیکھ، آخز کی سیڑھیوں پر سورج جو سایہ دس درجے اُتر چکا ہے، میں اُسے دس درجے پیچھے لوٹا دوں گا۔“ چنانچہ سورج جو دس درجے اُتر چکا تھا، وہ پیچھے لوٹ گیا۔
9یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کی تحریر، اُس کی بیماری اور شفا پانے کے بعد: 10میں نے کہا، ”اپنی عمر کے آدھے میں مجھے قبر کے دروازوں سے گزرنا ہے؛ میں اپنی باقی زندگی کے سالوں سے محروم کیا گیا ہوں۔“ 11میں نے کہا، ”میں زندوں کی سرزمین میں ہمارے باپ کو، ہاں خود اُسے، نہ دیکھوں گا؛ میں اِس گزرتی دنیا کے باشندوں کے درمیان بنی آدم پر پھر نظر نہ کروں گا۔ 12میرا مسکن اُکھاڑ کر گلہ بان کے خیمے کی مانند مجھ سے دور لے جایا گیا ہے۔ میں نے جولاہے کی طرح اپنی زندگی لپیٹ لی ہے؛ وہ مجھے کھڈی سے کاٹ ڈالتا ہے؛ دن سے رات تک تُو مجھے تمام کر دیتا ہے۔ 13میں صبح تک چپ چاپ انتظار کرتا رہا، لیکن شیرببر کی طرح وہ میری سب ہڈیاں توڑ ڈالتا ہے؛ دن سے رات تک تُو مجھے تمام کر دیتا ہے۔ 14ابابیل یا کونج کی مانند میں چوں چوں کرتا ہوں؛ میں کبوتر کی طرح کراہتا ہوں۔ میری آنکھیں اوپر تکتے تکتے تھک جاتی ہیں۔ اے قادرِ مطلق باپ، میں تنگی میں ہوں؛ تُو میری سلامتی کا ضامن ہو جا!“ 15میں کیا کہوں؟ اُس نے مجھ سے کلام کیا، اور اُسی نے یہ کر دکھایا۔ میں اپنی جان کی تلخی کے سبب اپنی عمر بھر آہستہ آہستہ چلتا رہوں گا۔ 16اے قادرِ مطلق باپ، ایسی ہی باتوں سے لوگ جیتے ہیں، اور اِن ہی سب میں میری روح کی زندگی ہے۔ پس مجھے پھر تندرست کر دے اور مجھے جینے دے! 17یقیناً یہ میری ہی بھلائی کے لیے تھا کہ میں نے ایسی تلخی جھیلی۔ تُو نے اپنی محبت میں میری جان کو ہلاکت کے گڑھے سے بچا رکھا، کیونکہ تُو نے میرے سب گناہ اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیے ہیں۔ 18کیونکہ قبر تیری حمد نہیں کر سکتی؛ موت تیری ستائش نہیں گا سکتی۔ جو گڑھے میں اُترتے ہیں وہ تیری وفاداری کی اُمید نہیں رکھ سکتے۔ 19زندہ، ہاں زندہ لوگ ہی—وہی تیری حمد کرتے ہیں، جیسا میں آج کرتا ہوں؛ باپ بچوں کو تیری وفاداری سے آگاہ کرتا ہے۔ 20ہمارا باپ مجھے بچا لے گا، اور ہم اپنی زندگی کے تمام دن ہمارے باپ کے گھر میں تاردار سازوں پر میرے گیت بجائیں گے۔
21یسعیاہ نے کہا تھا، ”وہ انجیر کی ٹکیا لے کر پھوڑے پر لگائیں تو وہ شفا پا جائے گا۔“ 22اور حِزقیاہ نے پوچھا تھا، ”اِس بات کا کیا نشان ہے کہ میں ہمارے باپ کے گھر جاؤں گا؟“