میرے باپ، میرے بادشاہ
حمد کا زبور۔ داؤد کا۔
145 1 اے میرے باپ، میرے بادشاہ، مَیں تیری بڑائی کروں گا، اور ابدالآباد تک تیرے نام کو مبارک کہوں گا۔
2 مَیں ہر روز تجھے مبارک کہوں گا، اور ابدالآباد تک تیرے نام کی حمد کروں گا۔ 3 ہمارا باپ بزرگ ہے، اور حمد کے لائقِ کمال ہے؛ اُس کی بزرگی کی تھاہ کوئی نہیں پا سکتا۔
4 ایک پُشت دوسری پُشت سے تیرے کاموں کی تعریف کرے گی، اور تیری قدرت کے کاموں کا بیان کرے گی۔ 5 مَیں تیری جلالی شان و شوکت پر غور کروں گا اور تیرے عجائب کاموں پر۔ 6 لوگ تیرے مہیب کاموں کی قدرت کا ذکر کریں گے، اور مَیں تیری بزرگی کا اعلان کروں گا۔ 7 وہ تیری بے پایاں نیکی کی شہرت سے لبریز ہو کر بہ نکلیں گے، اور خوشی سے تیری راستبازی کے گیت گائیں گے۔
8 ہمارا باپ کریم اور رحم سے معمور ہے، قہر کرنے میں دھیما اور اٹل محبت میں عظیم ہے۔ 9 ہمارا باپ سب کے لیے بھلا ہے، اور اُس کے رحم کا دل اپنی ساری مخلوق پر قائم رہتا ہے۔ 10 اے ہمارے باپ، تیری ساری مخلوقات تیرا شکر کریں گی، اور تیرے وفادار تجھے مبارک کہیں گے۔ 11 وہ تیری بادشاہی کے جلال کا ذکر کریں گے اور تیری قدرت کا بیان کریں گے، 12 تاکہ بنی آدم پر تیرے قدرت کے کام ظاہر کریں، اور تیری بادشاہی کی جلالی شان و شوکت۔ 13 تیری بادشاہی ابدی بادشاہی ہے، اور تیری سلطنت پُشت در پُشت قائم رہتی ہے۔ ہمارا باپ اپنی سب باتوں میں وفادار ہے اور اپنے سب کاموں میں کریم ہے۔
14 ہمارا باپ سب گرنے والوں کو سنبھالتا ہے، اور سب جھکے ہوؤں کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔ 15 سب کی آنکھیں تیری طرف لگی رہتی ہیں، اور تُو وقت پر اُن کو اُن کا کھانا دیتا ہے۔ 16 تُو اپنا ہاتھ کھولتا ہے، اور ہر جاندار کی آرزو پوری کرتا ہے۔
17 ہمارا باپ اپنی سب راہوں میں راستباز ہے اور اپنے سب کاموں میں وفادار ہے۔ 18 ہمارا باپ اُن سب کے نزدیک ہے جو اُسے پکارتے ہیں، اُن سب کے جو سچائی سے اُسے پکارتے ہیں۔ 19 وہ اپنے خوف رکھنے والوں کی آرزو پوری کرتا ہے؛ وہ اُن کی فریاد سنتا اور اُنہیں بچاتا ہے۔ 20 ہمارا باپ اپنے سب محبت رکھنے والوں کی نگہبانی کرتا ہے، لیکن سب شریروں کو ہلاک کرے گا۔
21 میرا منہ ہمارے باپ کی حمد کہے گا؛ ہر جاندار اُس کے پاک نام کو مبارک کہے ابدالآباد تک۔