کہیں بھی اُس کی پہنچ سے باہر نہیں
سالارِ نغمہ کے لیے۔ داؤد کا ایک مزمور۔
139 1 تُو نے مجھے جانچ لیا ہے، اے میرے باپ، اور تُو مجھے جانتا ہے۔ 2 تُو جانتا ہے جب میں بیٹھتا ہوں اور جب میں اُٹھتا ہوں؛ تُو دُور ہی سے میرے خیالوں کو پہچان لیتا ہے۔ 3 تُو میری راہ اور میرے آرام کی تلاش کرتا ہے، اور تُو میری سب روِشوں سے واقف ہے۔ 4 اِس سے پہلے کہ کوئی بات میری زبان پر آئے، اے میرے باپ، تُو اُسے پُوری طرح جانتا ہے۔ 5 تُو نے مجھے آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے، اور تُو نے اپنا ہاتھ مجھ پر رکھا ہے۔ 6 ایسا عِلم میرے لیے بہت عجیب ہے؛ یہ بہت بلند ہے، میں اِس تک نہیں پہنچ سکتا۔
7 میں تیرے روح سے کہاں جاؤں؟ میں تیری حضوری سے کہاں بھاگوں؟ 8 اگر میں آسمانوں پر چڑھ جاؤں، تُو وہاں ہے؛ اگر میں قبر میں اپنا بستر بچھاؤں، تُو وہاں ہے۔ 9 اگر میں صبح کے پروں پر سوار ہو جاؤں اور سمندر کے پرلے کنارے جا بسوں، 10 وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا، اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے تھامے رکھے گا۔ 11 اگر میں کہوں، ”یقیناً اندھیرا مجھے ڈھانپ لے گا، اور میرے گِرد کی روشنی رات بن جائے گی،“ 12 تو اندھیرا بھی تیرے لیے اندھیرا نہیں؛ رات دن کی طرح چمکتی ہے، کیونکہ تیرے لیے اندھیرا روشنی کی مانند ہے۔
13 کیونکہ تُو نے میرے باطن کو تشکیل دیا؛ تُو نے میری ماں کے پیٹ میں مجھے بُنا۔ a a v13 ہر شخص کو ہمارا باپ رَحِم ہی سے ذاتی طور پر تشکیل دیتا اور جانتا ہے — کوئی زندگی اتفاقیہ نہیں۔ 14 میں تیری حمد کرتا ہوں، کیونکہ میں مہیب اور عجیب طور پر بنایا گیا ہوں؛ تیرے کام عجیب ہیں، اور میری جان اِسے خُوب جانتی ہے۔ 15 میرا ڈھانچہ تجھ سے پوشیدہ نہ تھا جب میں پوشیدگی میں بنایا جا رہا تھا، زمین کی گہرائیوں میں مہارت سے بُنا جا رہا تھا۔ 16 تیری آنکھوں نے میرے بے صورت جسم کو دیکھا؛ میرے سب دن تیری کتاب میں لکھے گئے اور مقرر کیے گئے میرے لیے، اِس سے پہلے کہ اُن میں سے ایک بھی وجود میں آتا۔ 17 تیرے خیال میرے لیے کتنے قیمتی ہیں، اے میرے باپ! اُن کا شمار کتنا وسیع ہے! 18 اگر میں اُنہیں گِن سکتا، تو وہ ریت کے ذروں سے زیادہ ہوتے۔ جب میں جاگتا ہوں، میں پھر بھی تیرے ساتھ ہوں۔
19 کاش تُو شریروں کو ہلاک کر دے، اے میرے باپ! اے خون کے پیاسو، مجھ سے دُور ہو جاؤ! 20 وہ بُری نیت سے تیرا ذکر کرتے ہیں؛ تیرے دشمن تیرا نام باطل ٹھہراتے ہیں۔ 21 کیا میں اُن سے نفرت نہیں کرتا جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں، اے میرے باپ؟ کیا میں اُن سے کراہت نہیں کرتا جو تیرے خلاف اُٹھتے ہیں؟ 22 میں اُن سے پُوری نفرت کے ساتھ نفرت کرتا ہوں؛ میں اُنہیں اپنے دشمن شمار کرتا ہوں۔
23 اے میرے باپ، مجھے جانچ اور میرے دل کو جان؛ مجھے آزما اور میرے پریشان خیالوں کو جان۔ 24 اور دیکھ کہ کوئی نازیبا روِش تو نہیں مجھ میں، اور مجھے ابدی راہ میں لے چل۔