باپ کا ہاتھ نحمیاہ کو بھیجتا ہے
2 1نیسان کے مہینے میں، بادشاہ ارتخششتا کے بیسویں سال میں، مَے اُس کے سامنے تھی؛ میں نے اُسے لے کر بادشاہ کو دیا—اِس سے پہلے میں کبھی اُس کے حضور میں غمگین نہ ہوا تھا۔ a a v1 نیسان عبرانی سال کا پہلا مہینہ تھا، جو موسمِ بہار کے آغاز میں (تقریباً مارچ–اپریل) آتا تھا۔ 2بادشاہ نے پوچھا، ”تیرا چہرہ کیوں اُداس ہے، حالانکہ تُو بیمار بھی نہیں؟ یہ تو صرف دل کے غم ہی سے ہو سکتا ہے۔“ تب میں بہت ڈر گیا۔
3میں نے بادشاہ سے کہا، ”بادشاہ ابد تک جیتا رہے! میرا چہرہ کیوں نہ اُداس ہو، جب وہ شہر، میرے باپ دادا کی قبروں کی جگہ، ویران پڑا ہے اور اُس کے پھاٹک آگ سے جل چکے ہیں؟“
4بادشاہ نے مجھ سے پوچھا، ”تُو کیا مانگتا ہے؟“ تب میں نے آسمان پر اپنے باپ سے دعا کی، 5اور بادشاہ سے کہا، ”اگر بادشاہ کو منظور ہو، اور اگر تیرے خادم پر تیرا کرم ہو، تو مجھے یہوداہ میں، میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر میں بھیج دے، تاکہ میں اُسے دوبارہ تعمیر کروں۔“
6بادشاہ نے، جبکہ ملکہ اُس کے پہلو میں بیٹھی تھی، مجھ سے پوچھا، ”تیرا سفر کتنا لمبا ہوگا، اور تُو کب لوٹے گا؟“ اُسے مجھے بھیجنا پسند آیا، سو میں نے اُسے ایک وقت مقرر کر دیا۔
7میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا، ”اگر بادشاہ کو منظور ہو، تو مجھے دریا پار کے صوبے کے حاکموں کے نام خط عطا کر، تاکہ وہ مجھے گزرنے دیں یہاں تک کہ میں یہوداہ پہنچ جاؤں۔ 8اور آسف، جو بادشاہ کے جنگل کا نگہبان ہے، کے نام بھی ایک خط، تاکہ وہ مجھے ہیکل کے پاس قلعے کے پھاٹکوں کے شہتیروں کے لیے، اور شہر کی دیوار کے لیے، اور اُس گھر کے لیے جس میں مَیں رہوں گا، لکڑی دے۔“ بادشاہ نے میری درخواستیں منظور کر لیں، کیونکہ میرے باپ کا مہربان ہاتھ مجھ پر تھا۔
9پھر میں دریا پار کے صوبے کے حاکموں کے پاس گیا اور اُنہیں بادشاہ کے خط دیے۔ بادشاہ نے میرے ساتھ فوجی سردار اور سوار بھی بھیجے تھے۔ 10جب سنبلط حورونی اور طوبیاہ عمونی افسر نے یہ سنا، تو وہ نہایت ناخوش ہوئے کہ کوئی اسرائیل کے لوگوں کی بھلائی چاہنے آیا ہے۔
رات کے وقت ٹوٹی ہوئی دیواروں کا معائنہ
11سو میں یروشلیم پہنچا اور وہاں تین دن ٹھہرا۔ 12رات کے وقت میں چند آدمیوں کے ساتھ اُٹھا۔ میں نے کسی کو نہ بتایا کہ میرے باپ نے یروشلیم کے لیے کیا کرنے کی بات میرے دل میں ڈالی ہے۔ میرے ساتھ کوئی جانور نہ تھا سوائے اُس کے جس پر میں سوار تھا۔ 13رات کے وقت میں وادی کے پھاٹک سے ہوتا ہوا، گیدڑ کے چشمے کی طرف، کوڑے کے پھاٹک تک نکلا، اور یروشلیم کی ٹوٹی ہوئی دیواروں اور اُس کے جلے ہوئے پھاٹکوں کا معائنہ کرتا رہا۔ 14پھر میں چشمے کے پھاٹک اور بادشاہ کے تالاب تک گیا، لیکن وہاں میری سواری کے گزرنے کی گنجائش نہ تھی۔ 15رات ہی کو میں وادی سے اوپر چڑھتا گیا، دیوار کا معائنہ کرتا رہا، پھر مُڑ کر وادی کے پھاٹک سے داخل ہوا اور لوٹ آیا۔ 16افسروں کو معلوم نہ تھا کہ میں کہاں گیا یا کیا کر رہا ہوں؛ کیونکہ میں نے ابھی تک نہ یہودیوں کو، نہ کاہنوں کو، نہ رئیسوں کو، نہ افسروں کو، اور نہ باقی اُن لوگوں کو بتایا تھا جو یہ کام کرنے والے تھے۔ 17تب میں نے کہا، ”تم ہماری مصیبت دیکھتے ہو: یروشلیم ویران پڑا ہے، اُس کے پھاٹک جل چکے ہیں۔ آؤ، ہم یروشلیم کی دیوار دوبارہ تعمیر کریں تاکہ ہم اب رُسوا نہ رہیں۔“ 18میں نے اُنہیں بتایا کہ میرے باپ کا مہربان ہاتھ مجھ پر کیسے تھا، اور یہ بھی کہ بادشاہ نے مجھ سے کیا کہا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ”آؤ، ہم اُٹھیں اور تعمیر کریں۔“ سو اُنہوں نے اِس نیک کام کے لیے اپنے ہاتھ مضبوط کیے۔
19جب سنبلط حورونی، طوبیاہ عمونی افسر، اور جشم عربی نے یہ سنا، تو اُنہوں نے ہماری ہنسی اُڑائی اور ہمیں حقیر جانا، اور کہا، ”یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم بادشاہ سے بغاوت کر رہے ہو؟“
20میں نے جواب دیا: ”آسمان پر ہمارا باپ ہمیں کامیابی بخشے گا۔ ہم اُس کے خادم اُٹھ کر تعمیر شروع کریں گے، لیکن یروشلیم میں تمہارا نہ کوئی حصہ ہے، نہ حق، اور نہ کوئی یادگار۔“