قدرون کے پار باغ کی طرف
باغ میں گرفتار کرنے والے پیچھے ہٹ کر گر پڑتے ہیں جب یسوع اپنا تعارف کرواتا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ اُس کے شاگردوں کو جانے دیا جائے۔ پطرس تلوار کھینچتا ہے؛ یسوع وہ پیالہ پیئے گا جو اُس کے باپ نے اُسے دیا ہے، پھر پطرس کوئلوں کی آگ کے پاس تین بار اُس کا انکار کرتا ہے۔ اُس کی بادشاہی یہاں کی نہیں۔
18 1یہ باتیں کہنے کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ قدرون کی وادی کے پار گیا، جہاں ایک باغ تھا؛ وہ اور اُس کے شاگرد اُس میں داخل ہوئے۔ 2یہوداہ، جس نے اُسے پکڑوایا، بھی اُس جگہ کو جانتا تھا، کیونکہ یسوع اکثر وہاں اپنے شاگردوں کے ساتھ جمع ہوتا تھا۔ 3چنانچہ یہوداہ سپاہیوں کا ایک دستہ اور سردار کاہنوں اور فریسیوں کی طرف سے پیادے لے کر وہاں آیا، جو لالٹینیں، مشعلیں اور ہتھیار لیے ہوئے تھے۔
4پس یسوع نے، یہ جانتے ہوئے کہ اُس پر کیا آنے والا ہے، آگے بڑھ کر اُن سے کہا، ”تم کس کو ڈھونڈتے ہو؟“
5اُنہوں نے اُسے جواب دیا، ”یسوع ناصری کو۔“ یسوع نے کہا، ”مَیں ہوں۔“ اور یہوداہ، جس نے اُسے پکڑوایا، اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ a a v5 یسوع وہی الٰہی نام بولتا ہے جو ہمارے باپ نے موسیٰ کو جلتی ہوئی جھاڑی میں دیا تھا۔ اگلی آیت میں سپاہیوں کا ردِعمل — پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑنا — ظاہر کرتا ہے کہ اُنہوں نے ٹھیک وہی سنا جس کا اُس نے دعویٰ کیا۔
6جب یسوع نے اُن سے کہا، ”مَیں ہوں،“ تو وہ پیچھے ہٹے اور زمین پر گر پڑے۔
7پس اُس نے اُن سے دوبارہ پوچھا، ”تم کس کو ڈھونڈتے ہو؟“ اُنہوں نے کہا، ”یسوع ناصری کو۔“
8یسوع نے جواب دیا، ”مَیں تم سے کہہ چکا ہوں کہ مَیں ہوں۔ سو اگر تم مجھے ڈھونڈتے ہو تو اِن آدمیوں کو جانے دو۔“ 9یہ اِس لیے ہوا کہ یسوع کا اپنا کلام پورا ہو: ”جو تُو نے مجھے دیے، اُن میں سے مَیں نے ایک کو بھی نہیں کھویا۔“
10تب شمعون پطرس نے اپنی تلوار کھینچی، سردار کاہن کے نوکر پر وار کیا اور اُس کا دہنا کان اُڑا دیا—اُس نوکر کا نام ملخُس تھا۔
11پس یسوع نے پطرس سے کہا، ”اپنی تلوار میان میں رکھ۔ کیا مَیں وہ پیالہ نہ پیوں جو میرے باپ نے مجھے دیا ہے؟“
12تب سپاہیوں نے، اُن کے کماندار اور یہودیوں کے پیادوں نے، یسوع کو پکڑ کر باندھ لیا۔
13اور وہ اُسے پہلے حنّا کے پاس لے گئے، کیونکہ وہ کائفا کا سُسر تھا، جو اُس سال سردار کاہن تھا۔ 14یہ وہی کائفا تھا جس نے یہودیوں کو صلاح دی تھی کہ بہتر ہے کہ ایک آدمی لوگوں کے لیے مر جائے۔
پطرس صحن میں پیچھے پیچھے جاتا ہے
15شمعون پطرس اور ایک اور شاگرد یسوع کے پیچھے پیچھے گئے۔ وہ شاگرد سردار کاہن کا جان پہچان والا تھا، سو وہ یسوع کے ساتھ سردار کاہن کے صحن میں داخل ہوا، 16مگر پطرس باہر دروازے پر کھڑا رہا۔ پس وہ دوسرا شاگرد، جو سردار کاہن کا جان پہچان والا تھا، باہر آیا، دربان لڑکی سے بات کی اور پطرس کو اندر لے آیا۔ 17اُس دربان لڑکی نے، جو دروازے کی نگہبانی کر رہی تھی، پطرس سے کہا، ”کیا تُو بھی اِس آدمی کے شاگردوں میں سے نہیں؟“ اُس نے کہا، ”مَیں نہیں ہوں۔“
18نوکر اور پیادے سردی کے مارے کوئلوں کی آگ جلا کر کھڑے تاپ رہے تھے؛ پطرس بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا۔
رات کے وقت پوچھ گچھ
19تب سردار کاہن نے یسوع سے اُس کے شاگردوں اور اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا۔
20یسوع نے اُسے جواب دیا، ”مَیں نے دنیا سے کھلم کھلا بات کی؛ مَیں نے ہمیشہ عبادت خانوں میں اور ہیکل میں تعلیم دی، جہاں سب یہودی جمع ہوتے ہیں۔ مَیں نے پوشیدہ میں کچھ نہیں کہا۔ 21تُو مجھ سے کیوں پوچھتا ہے؟ اُن سے پوچھ جنہوں نے سنا کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا؛ وہ جانتے ہیں کہ مَیں نے کیا کہا۔“
22اِس پر پاس کھڑے پیادوں میں سے ایک نے یسوع کو طمانچہ مارا اور کہا، ”کیا تُو سردار کاہن کو اِسی طرح جواب دیتا ہے؟“
23یسوع نے اُسے جواب دیا، ”اگر مَیں نے بُرا کہا ہے تو اُس بُرائی کی گواہی دے؛ لیکن اگر ٹھیک کہا تو مجھے کیوں مارتا ہے؟“
24تب حنّا نے اُسے بندھا ہوا ہی کائفا سردار کاہن کے پاس بھیج دیا۔
پطرس دوبارہ انکار کرتا ہے
25اِس دوران شمعون پطرس کھڑا تاپ رہا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ”کیا تُو بھی اُس کے شاگردوں میں سے نہیں؟“ اُس نے انکار کیا: ”مَیں نہیں ہوں۔“
26سردار کاہن کے نوکروں میں سے ایک نے، جو اُس آدمی کا رشتہ دار تھا جس کا کان پطرس نے کاٹا تھا، پوچھا، ”کیا مَیں نے تجھے باغ میں اُس کے ساتھ نہیں دیکھا تھا؟“
27پطرس نے پھر انکار کیا، اور اُسی وقت مرغ نے بانگ دی۔
پیلاطُس کے حوالے کیا گیا
28پھر وہ یسوع کو کائفا کے پاس سے حاکم کے دیوان خانے میں لے گئے۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ وہ خود اندر نہ گئے، تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔ 29پس پیلاطُس اُن کے پاس باہر آیا اور کہا، ”تم اِس آدمی پر کیا الزام لگاتے ہو؟“
30اُنہوں نے اُسے جواب دیا، ”اگر یہ آدمی بدکاری نہ کرتا تو ہم اُسے تیرے حوالے نہ کرتے۔“
31پیلاطُس نے کہا، ”تم ہی اِسے لے جاؤ اور اپنی شریعت کے مطابق اِس کا فیصلہ کرو۔“ یہودیوں نے کہا، ”ہمیں کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔“
32یہ اِس لیے ہوا کہ یسوع کا وہ کلام پورا ہو جو اُس نے کہا تھا، ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ کس طرح کی موت مرنے والا ہے۔
33پس پیلاطُس دوبارہ دیوان خانے میں گیا، یسوع کو بلایا اور پوچھا، ”کیا تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟“
34یسوع نے جواب دیا، ”کیا تُو یہ اپنی طرف سے کہتا ہے، یا اَوروں نے تجھے میرے بارے میں بتایا؟“
35پیلاطُس نے جواب دیا، ”کیا مَیں یہودی ہوں؟ تیری ہی قوم اور سردار کاہنوں نے تجھے میرے حوالے کیا۔ تُو نے کیا کِیا ہے؟“
36یسوع نے جواب دیا، ”میری بادشاہی اِس دنیا کی نہیں۔ اگر ہوتی تو میرے خادم لڑتے کہ مَیں یہودیوں کے حوالے نہ کیا جاؤں۔ مگر میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔“
37تب پیلاطُس نے اُس سے کہا، ”تو پھر تُو بادشاہ ہے؟“ یسوع نے جواب دیا، ”تُو کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہوں۔ مَیں اِسی لیے پیدا ہوا، اور اِسی لیے دنیا میں آیا—تاکہ سچائی کی گواہی دوں۔ ہر وہ جو سچائی سے تعلق رکھتا ہے میری آواز سنتا ہے۔“
38پیلاطُس نے پوچھا، ”سچائی کیا ہے؟“ پھر وہ دوبارہ یہودیوں کے پاس باہر گیا اور کہا، ”مَیں اِس میں کوئی بُرائی نہیں پاتا۔
39لیکن تمہارا ایک دستور ہے کہ مَیں فسح پر ایک آدمی تمہارے لیے چھوڑ دوں۔ سو کیا تم چاہتے ہو کہ مَیں یہودیوں کا بادشاہ تمہارے لیے چھوڑ دوں؟“
40وہ پھر چلّا اُٹھے، ”اِس کو نہیں، بلکہ برابّا کو!“ اور برابّا ڈاکو تھا۔