پڑھیں۔ قبول کریں۔ تجویز دیں۔

♥ آراء

یوحنا 18

کتاب

قدرون کے پار باغ کی طرف

Chapter 18.

یہ باتیں کہنے کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ قدرون کی وادی کے پار گیا، جہاں ایک باغ تھا؛ وہ اور اُس کے شاگرد اُس میں داخل ہوئے۔ یہوداہ، جو اُسے پکڑوانے والا تھا، اِس جگہ کو بھی جانتا تھا، کیونکہ یسوع اکثر اپنے شاگردوں کے ساتھ وہاں جمع ہوتا تھا۔ چنانچہ یہوداہ سرداری کاہنوں اور فریسیوں کی طرف سے سپاہیوں کے ایک دستے اور پیادوں کو لے کر وہاں آیا، جو فانوس، مشعلیں اور ہتھیار لیے ہوئے تھے۔

پس یسوع نے، جو کچھ اُس پر آنے والا تھا سب جانتے ہوئے، آگے بڑھ کر اُن سے کہا، ”تم کس کو ڈھونڈتے ہو؟“

اُنہوں نے اُسے جواب دیا، ”ناصرت کے یسوع کو۔“ یسوع نے کہا، ”میں ہوں۔“ اور یہوداہ، جو اُسے پکڑوانے والا تھا، اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ a a v5 یسوع وہی الٰہی نام بولتا ہے جو ہمارے باپ نے موسیٰ کو جلتی جھاڑی میں بتایا تھا۔ اگلی آیت میں سپاہیوں کا ردِعمل — پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑنا — ظاہر کرتا ہے کہ اُنہوں نے بالکل وہی سنا جو اُس نے اپنے بارے میں کہا تھا۔

جب یسوع نے اُن سے کہا، ”میں ہوں،“ تو وہ پیچھے ہٹے اور زمین پر گر پڑے۔

پس اُس نے اُن سے پھر پوچھا، ”تم کس کو ڈھونڈتے ہو؟“ اُنہوں نے کہا، ”ناصرت کے یسوع کو۔“

یسوع نے جواب دیا، ”میں تم سے کہہ چکا کہ میں ہوں۔ پس اگر تم مجھے ڈھونڈتے ہو تو اِن لوگوں کو جانے دو۔“ یہ اِس لیے ہوا کہ یسوع کا اپنا کلام پورا ہو: ”جو تُو نے مجھے دیے، اُن میں سے مَیں نے ایک کو بھی نہیں کھویا۔“

تب شمعون پطرس نے، جس کے پاس تلوار تھی، اُسے کھینچا اور سردار کاہن کے نوکر پر وار کر کے اُس کا دہنا کان اُڑا دیا—اُس نوکر کا نام ملخُس تھا۔

پس یسوع نے پطرس سے کہا، ”اپنی تلوار میان میں رکھ۔ کیا مَیں وہ پیالہ نہ پیوں جو میرے باپ نے مجھے دیا ہے؟“

تب سپاہیوں، اُن کے سردار اور یہودیوں کے پیادوں نے یسوع کو پکڑ کر باندھ لیا۔

وہ اُسے پہلے حنّاس کے پاس لے گئے، کیونکہ وہ کائفا کا سُسر تھا، جو اُس سال سردار کاہن تھا۔ یہ وہی کائفا تھا جس نے یہودیوں کو یہ صلاح دی تھی کہ بہتر ہے کہ ایک آدمی لوگوں کے لیے مرے۔

پطرس صحن میں پیچھے چلا جاتا ہے

شمعون پطرس اور ایک اور شاگرد یسوع کے پیچھے پیچھے گئے۔ وہ شاگرد سردار کاہن کا جان پہچان والا تھا، اِس لیے وہ یسوع کے ساتھ سردار کاہن کے صحن میں داخل ہوا، لیکن پطرس باہر دروازے پر کھڑا رہا۔ پس وہ دوسرا شاگرد، جو سردار کاہن کا جان پہچان والا تھا، باہر گیا، دربان لڑکی سے بات کی اور پطرس کو اندر لے آیا۔ دروازے کی نگہبان نوکرانی نے پطرس سے کہا، ”کیا تُو بھی اِس آدمی کے شاگردوں میں سے نہیں؟“ اُس نے کہا، ”مَیں نہیں ہوں۔“

نوکر اور پیادے، چونکہ سردی تھی، کوئلوں کی آگ کے پاس کھڑے تاپ رہے تھے؛ پطرس بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا۔

رات کے وقت پوچھ گچھ

تب سردار کاہن نے یسوع سے اُس کے شاگردوں اور اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔

یسوع نے اُسے جواب دیا، ”مَیں نے دنیا سے کھلے عام کہا؛ مَیں ہمیشہ عبادت خانوں اور ہیکل میں تعلیم دیتا رہا، جہاں سب یہودی جمع ہوتے ہیں۔ مَیں نے پوشیدہ میں کچھ نہیں کہا۔ تُو مجھ سے کیوں پوچھتا ہے؟ اُن سے پوچھ جنہوں نے سنا کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا؛ وہ جانتے ہیں کہ مَیں نے کیا کہا۔“

یہ سن کر پاس کھڑے پیادوں میں سے ایک نے یسوع کو تھپڑ مارا اور کہا، ”کیا تُو سردار کاہن کو اِس طرح جواب دیتا ہے؟“

یسوع نے اُسے جواب دیا، ”اگر مَیں نے غلط کہا تو اُس غلطی کی گواہی دے؛ لیکن اگر ٹھیک کہا تو مجھے کیوں مارتا ہے؟“

تب حنّاس نے اُسے بندھا ہوا ہی سردار کاہن کائفا کے پاس بھیج دیا۔

پطرس پھر انکار کرتا ہے

پطرس کھڑا تاپ رہا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ”کیا تُو بھی اُس کے شاگردوں میں سے نہیں؟“ اُس نے انکار کیا: ”مَیں نہیں ہوں۔“

سردار کاہن کے نوکروں میں سے ایک، جو اُس آدمی کا رشتہ دار تھا جس کا کان پطرس نے کاٹا تھا، بولا، ”کیا مَیں نے تجھے باغ میں اُس کے ساتھ نہیں دیکھا؟“

پطرس نے پھر انکار کیا، اور فوراً مرغ نے بانگ دی۔

پیلاطُس کے حوالے کیا گیا

تب وہ یسوع کو کائفا کے پاس سے حاکم کے دیوان خانے میں لے گئے۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ وہ خود اندر نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہو جائیں بلکہ فسح کھا سکیں۔ پس پیلاطُس نکل کر اُن کے پاس آیا اور کہا، ”تم اِس آدمی پر کیا الزام لگاتے ہو؟“

اُنہوں نے اُسے جواب دیا، ”اگر یہ آدمی بدکار نہ ہوتا تو ہم اُسے تیرے حوالے نہ کرتے۔“

پیلاطُس نے کہا، ”تم خود ہی اِسے لے جاؤ اور اپنی شریعت کے مطابق اِس کا فیصلہ کرو۔“ یہودیوں نے کہا، ”ہمیں کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔“

یہ اِس لیے ہوا کہ یسوع کا وہ کلام پورا ہو جو اُس نے کہا تھا، اور یہ ظاہر ہو کہ وہ کس طرح کی موت مرنے والا تھا۔

پس پیلاطُس پھر دیوان خانے کے اندر گیا، یسوع کو بلایا اور پوچھا، ”کیا تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟“

یسوع نے جواب دیا، ”کیا تُو یہ اپنی طرف سے کہتا ہے، یا اوروں نے تجھے میرے بارے میں بتایا؟“

پیلاطُس نے جواب دیا، ”کیا مَیں یہودی ہوں؟ تیری اپنی قوم اور سرداری کاہنوں نے تجھے میرے حوالے کیا۔ تُو نے کیا کیا ہے؟“

یسوع نے جواب دیا، ”میری بادشاہی اِس دنیا کی نہیں۔ اگر ہوتی تو میرے خادم لڑتے تاکہ مَیں یہودیوں کے حوالے نہ کیا جاتا۔ لیکن میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔“

تب پیلاطُس نے اُس سے کہا، ”تو پھر تُو بادشاہ ہے؟“ یسوع نے جواب دیا، ”تُو کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہوں۔ مَیں اِسی لیے پیدا ہوا، اور اِسی لیے دنیا میں آیا—کہ سچائی کی گواہی دوں۔ ہر وہ شخص جو سچائی سے ہے میری آواز سنتا ہے۔“

پیلاطُس نے پوچھا، ”سچائی کیا ہے؟“ پھر وہ دوبارہ یہودیوں کے پاس نکل آیا اور کہا، ”مجھے اِس میں کوئی خطا نہیں ملتی۔

لیکن تمہارا ایک دستور ہے کہ مَیں فسح پر تمہارے لیے ایک آدمی چھوڑ دوں۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیے یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دوں؟“

اُنہوں نے پھر چلّا کر کہا، ”اِس آدمی کو نہیں بلکہ برابّاس کو!“ اور برابّاس ایک ڈاکو تھا۔

A young man reading the Father's Heart Bible print edition in a coffee shop اب چھپی ہوئی صورت میں دستیاب

تبصرے

کوئی خیال، سوال، یا کوئی بات جو اِس باب نے آپ کے دل میں جگائی — یہاں بانٹیں۔ ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

پڑھنا، نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا سب کے لیے کھلا ہے — کسی اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔ تبصرہ کرنا، نشان لگانا اور اپنی جگہ محفوظ رکھنا مفت اکاؤنٹ کے ساتھ ملتا ہے، اور ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

خاندان میں شامل ہوں — بالکل مفت ←
  • ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلی بات آپ کہیں۔