آخر تک محبت کی
13 1 اب عیدِ فسح سے پہلے، یسوع جان گیا کہ اُس کا وقت آ پہنچا ہے کہ وہ اِس دنیا سے نکل کر اپنے باپ کے پاس جائے۔ اُس نے دنیا میں اپنے لوگوں سے محبت رکھی تھی، اور اُس نے آخر تک اُن سے محبت رکھی۔ 2 شام کے کھانے کے دوران، ابلیس یہوداہ اِسکریوتی، شمعون کے بیٹے، کے دل میں یسوع کو پکڑوانے کی سازش پہلے ہی ڈال چکا تھا۔ 3 یسوع نے، یہ جانتے ہوئے کہ باپ نے سب کچھ اُس کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے، اور یہ کہ وہ اُسی کے پاس سے آیا ہے اور اُسی کے پاس واپس جا رہا ہے، 4 کھانے سے اُٹھا، اپنے اوپر کے کپڑے اُتار دیے، ایک تولیہ لیا اور اُسے اپنی کمر میں باندھ لیا۔ 5 پھر اُس نے ایک طشت میں پانی ڈالا اور شاگردوں کے پاؤں دھونے لگا، اور اُس تولیے سے جو اُس کی کمر میں بندھا تھا اُنہیں پونچھنے لگا۔ 6 وہ شمعون پطرس کے پاس آیا، جس نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، کیا تُو میرے پاؤں دھوئے گا؟“
7 یسوع نے اُسے جواب دیا، ”جو میں کر رہا ہوں اُسے تُو اب نہیں سمجھتا، لیکن بعد میں سمجھ لے گا۔“
8 پطرس نے کہا، ”تُو میرے پاؤں کبھی نہیں دھوئے گا۔“ یسوع نے جواب دیا، ”اگر میں تجھے نہ دھوؤں تو میرے ساتھ تیرا کوئی حصہ نہیں۔“
9 شمعون پطرس نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، صرف میرے پاؤں ہی نہیں، بلکہ میرے ہاتھ اور سر بھی!“
10 یسوع نے اُس سے کہا، ”جو نہا چکا ہے اُسے صرف اپنے پاؤں دھونے کی ضرورت ہے — وہ پورا پاک ہے۔ تم پاک ہو، لیکن سب کے سب نہیں۔“
11 وہ جانتا تھا کہ کون اُسے پکڑوائے گا؛ اِسی لیے اُس نے کہا، ”تم سب کے سب پاک نہیں ہو۔“ 12 اُن کے پاؤں دھونے اور اپنے کپڑے پہننے کے بعد، وہ پھر بیٹھ گیا اور اُن سے کہا، ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارے لیے کیا کیا ہے؟“ 13 ”تم مجھے اُستاد اور خُداوند کہتے ہو، اور ٹھیک کہتے ہو، کیونکہ میں وہی ہوں۔“ 14 پس اگر میں نے، تمہارے خُداوند اور اُستاد نے، تمہارے پاؤں دھوئے، تو تمہیں بھی ایک دوسرے کے پاؤں دھونے چاہئیں۔ 15 ”کیونکہ میں نے تمہیں ایک نمونہ دیا ہے، تاکہ جیسا میں نے تمہارے لیے کیا ویسا ہی تم بھی کرو۔“ 16 میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں، نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں، اور نہ ہی بھیجا ہوا اپنے بھیجنے والے سے بڑا ہے۔ 17 ”اگر تم یہ باتیں جانتے ہو، تو مبارک ہو تم اگر اِن پر عمل کرو۔“
وہ جس نے میری روٹی میں شریک ہو کر کھائی
18 ”میں تم سب کی بات نہیں کرتا — جنہیں میں نے چُنا ہے اُنہیں میں جانتا ہوں۔ لیکن کتابِ مقدس کا پورا ہونا ضروری ہے: ’جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے میرے خلاف اپنی ایڑی اُٹھائی ہے۔‘ 19 ”میں تمہیں یہ ابھی بتاتا ہوں، اِس کے واقع ہونے سے پہلے، تاکہ جب یہ واقع ہو تو تم ایمان لاؤ کہ ’میں ہوں‘۔“ a a v19 ”میں ہوں“ وہ ہے جس سے ہمارے باپ نے جلتی ہوئی جھاڑی میں موسیٰ کے سامنے اپنی شناخت کرائی۔ یسوع کا دعویٰ وہی الٰہی خود-نامی ہے — جسے وہ اب شاگردوں سے کہہ رہا ہے، بھروسے کے تحفے کے طور پر، اِس سے پہلے کہ دغا بازی ظاہر ہو۔ 20 ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں، جو کسی کو قبول کرتا ہے جسے میں بھیجتا ہوں وہ مجھے قبول کرتا ہے، اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اُس کو قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا۔“
21 یہ کہنے کے بعد، یسوع نے، رُوح میں بے چین ہو کر، گواہی دی، ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں، تم میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا۔“
22 شاگرد ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اِس اُلجھن میں کہ وہ کس کے بارے میں کہہ رہا ہے۔ 23 اُس کے شاگردوں میں سے ایک، جس سے یسوع محبت رکھتا تھا، اُس کے پہلو میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ 24 پس شمعون پطرس نے اُسے اشارہ کیا کہ پوچھے کہ یسوع کس کے بارے میں کہہ رہا ہے۔ 25 یسوع کی طرف ٹیک لگا کر، اُس نے اُس سے پوچھا، ”اے خُداوند، وہ کون ہے؟“
26 یسوع نے جواب دیا، ”وہ وہی ہے جسے میں یہ روٹی دوں گا، جب میں اِسے ڈبو لوں گا۔“ پھر اُس نے روٹی ڈبوئی اور یہوداہ، شمعون اِسکریوتی کے بیٹے، کو دی۔ 27 جب یہوداہ نے روٹی لے لی، تو شیطان اُس میں سما گیا۔ پس یسوع نے اُس سے کہا، ”جو تُو کر رہا ہے جلد کر لے۔“
28 لیکن دسترخوان پر بیٹھے ہوئے کسی نے بھی نہ سمجھا کہ اُس نے اُس سے یہ کیوں کہا۔
29 چونکہ یہوداہ کے پاس تھیلی تھی، بعض نے سمجھا کہ یسوع کہہ رہا ہے، ’عید کے لیے جو ہمیں درکار ہے وہ خرید لے،‘ یا، ’غریبوں کو کچھ دے دے۔‘
30 جیسے ہی یہوداہ نے روٹی لی، وہ باہر نکل گیا۔ اور رات کا وقت تھا۔
ایک دوسرے سے محبت رکھو
31 یہوداہ کے چلے جانے کے بعد، یسوع نے کہا، ”اب اِبنِ آدم جلال پاتا ہے، اور میرا باپ اُس میں جلال پاتا ہے۔“ 32 ”اگر میرا باپ اُس میں جلال پاتا ہے، تو میرا باپ بھی بیٹے کو اپنے میں جلال دے گا، اور اُسے فوراً جلال دے گا۔“ 33 اے پیارے بچو، میں تھوڑی دیر اور تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مجھے ڈھونڈو گے، اور جیسا میں نے یہودی سرداروں سے کہا تھا، ویسا ہی میں اب تم سے کہتا ہوں: جہاں میں جا رہا ہوں، تم نہیں آ سکتے۔ 34 میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں: ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ جیسا میں نے تم سے محبت رکھی، ویسا ہی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ 35 ”اِسی سے سب جان لیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو، اگر تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“
36 شمعون پطرس نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، تُو کہاں جا رہا ہے؟“ یسوع نے جواب دیا، ”جہاں میں جا رہا ہوں تُو اب میرے پیچھے نہیں آ سکتا، لیکن بعد میں آئے گا۔“
37 پطرس نے پوچھا، ”اے خُداوند، میں اب کیوں تیرے پیچھے نہیں آ سکتا؟ میں تیرے لیے اپنی جان دے دوں گا۔“
38 یسوع نے جواب دیا، ”تُو میرے لیے اپنی جان دے گا؟ میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں: مرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تین بار مجھ سے اِنکار نہ کر لے۔“