پڑھیں۔ قبول کریں۔ تجویز دیں۔

♥ آراء

یوحنا 11

کتاب

بیت عنیاہ کا لعزر

Chapter 11.

لعزر نام کا ایک شخص بیمار تھا، جو بیت عنیاہ کا رہنے والا تھا، مریم اور اُس کی بہن مرتھا کے گاؤں کا۔ یہ وہی مریم تھی جس کا بھائی لعزر بیمار تھا، جس نے خُداوند کو خوشبودار تیل سے مسح کیا اور اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے۔ چنانچہ بہنوں نے اُسے کہلا بھیجا کہ ”اے خُداوند، دیکھ، جسے تُو پیار کرتا ہے وہ بیمار ہے۔“

یہ سُن کر یسوع نے کہا، ”یہ بیماری موت پر ختم نہ ہوگی، بلکہ ہمارے باپ کے جلال کے لیے ہے، تاکہ ہمارے باپ کا بیٹا اِس کے وسیلے سے جلال پائے۔“

اور یسوع مرتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے محبت رکھتا تھا۔ پس جب اُس نے سُنا کہ لعزر بیمار ہے، تو جہاں تھا وہیں دو دن اَور ٹھہر گیا۔

پھر اِس کے بعد اُس نے شاگردوں سے کہا، ”آؤ، ہم پھر یہودیہ کو چلیں۔“

شاگردوں نے اُس سے کہا، ”اے اُستاد، ابھی تو یہودی تجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے، اور تُو پھر وہیں جا رہا ہے؟“

یسوع نے جواب دیا، ”کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ جو کوئی دن کو چلتا ہے وہ ٹھوکر نہیں کھاتا، کیونکہ وہ اِس دنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے، کیونکہ روشنی اُس میں نہیں ہے۔“ یہ کہنے کے بعد اُس نے اُن سے کہا، ”ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے، لیکن مَیں جاتا ہوں کہ اُسے جگاؤں۔“

چنانچہ شاگردوں نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، اگر وہ سو گیا ہے تو اچھا ہو جائے گا۔“ یسوع نے تو اُس کی موت کے بارے میں کہا تھا، مگر اُنہوں نے سمجھا کہ اُس نے نیند کے آرام کا ذکر کیا ہے۔

تب یسوع نے اُن سے صاف صاف کہا، ”لعزر مر گیا ہے، اور مَیں تمہاری خاطر خوش ہوں کہ مَیں وہاں نہ تھا، تاکہ تم ایمان لاؤ۔ لیکن آؤ، ہم اُس کے پاس چلیں۔“

پس توما نے، جو تواَم کہلاتا ہے، دوسرے شاگردوں سے کہا، ”آؤ، ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مریں۔“

چنانچہ جب یسوع پہنچا تو اُس نے پایا کہ لعزر کو قبر میں پڑے چار دن ہو چکے ہیں۔ بیت عنیاہ یروشلیم کے قریب تھا، تقریباً دو میل کے فاصلے پر، a a v18 پندرہ اسٹادیا تقریباً دو میل (قریباً ۳ کلومیٹر) کے برابر تھے۔ اور بہت سے یہودی مرتھا اور مریم کے پاس آئے تھے تاکہ اُنہیں اُن کے بھائی کے بارے میں تسلّی دیں۔ جب مرتھا نے سُنا کہ یسوع آ رہا ہے تو وہ اُس سے ملنے گئی، مگر مریم گھر ہی میں بیٹھی رہی۔ مرتھا نے یسوع سے کہا، ”اے خُداوند، اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔ لیکن اب بھی مَیں جانتی ہوں کہ جو کچھ تُو ہمارے باپ سے مانگے گا، وہ تجھے دے گا۔“

یسوع نے اُس سے کہا، ”تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔“

مرتھا نے اُس سے کہا، ”مَیں جانتی ہوں کہ وہ آخری دن کی قیامت میں جی اُٹھے گا۔“

یسوع نے اُس سے کہا، ”قیامت اور زندگی مَیں ہی ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مر بھی جائے تو بھی جیئے گا، اور جو کوئی جیتا ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ کبھی نہ مرے گا۔ کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟“

اُس نے اُس سے کہا، ”ہاں اے خُداوند، مَیں ایمان رکھتی ہوں کہ تُو ہی مسیح ہے، ہمارے باپ کا بیٹا، جو دنیا میں آنے والا تھا۔“

یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور اپنی بہن مریم کو چپکے سے بُلا کر کہا، ”اُستاد یہاں ہے اور تجھے بُلا رہا ہے۔“ جب مریم نے یہ سُنا تو وہ جلدی سے اُٹھی اور اُس کے پاس گئی۔ یسوع ابھی گاؤں میں داخل نہیں ہوا تھا، بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مرتھا اُس سے ملی تھی۔ جو یہودی گھر میں اُس کے ساتھ تھے اور اُسے تسلّی دے رہے تھے، اُنہوں نے جب مریم کو جلدی سے اُٹھ کر باہر جاتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ وہ قبر پر رونے جا رہی ہے، اُس کے پیچھے ہو لیے۔ مریم جب اُس جگہ پہنچی جہاں یسوع تھا اور اُسے دیکھا، تو اُس کے پاؤں پر گِر کر کہا، ”اے خُداوند، اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔“

جب یسوع نے اُسے روتے اور اُن یہودیوں کو بھی جو اُس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا، تو وہ رُوح میں کراہا اور بے چین ہوا،

اور کہا، ”تم نے اُسے کہاں رکھا ہے؟“ اُنہوں نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، آ کر دیکھ لے۔“

یسوع رو پڑا۔

چنانچہ یہودیوں نے کہا، ”دیکھو، وہ اُس سے کیسی محبت رکھتا تھا!“ لیکن اُن میں سے بعض نے کہا، ”کیا یہ شخص جس نے اندھے کی آنکھیں کھولیں، اِسے مرنے سے نہ روک سکتا تھا؟“

پس یسوع اپنے دل میں پھر بہت کراہتا ہوا قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا جس پر پتھر دھرا تھا۔

یسوع نے کہا، ”پتھر ہٹا دو۔“ مُردے کی بہن مرتھا نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، اب تو اُس سے بو آتی ہوگی، کیونکہ اُسے مرے چار دن ہو چکے ہیں۔“

یسوع نے اُس سے کہا، ”کیا مَیں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ اگر تُو ایمان لائے تو ہمارے باپ کا جلال دیکھے گی؟“

چنانچہ اُنہوں نے پتھر ہٹا دیا۔ تب یسوع نے اپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں اور کہا، ”اے باپ، مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تُو نے میری سُنی۔ مَیں تو جانتا تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے، لیکن مَیں نے یہ اُس بھیڑ کی خاطر کہا جو یہاں کھڑی ہے، تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔“ یہ کہہ کر اُس نے بلند آواز سے پکارا، ”لعزر، باہر نکل آ!“

اور وہ مُردہ باہر نکل آیا، اُس کے ہاتھ پاؤں کفن کی پٹّیوں سے بندھے ہوئے تھے اور اُس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا، ”اِسے کھول دو اور جانے دو۔“

عدالتی مجلس کا اجتماع

چنانچہ اُن یہودیوں میں سے بہت سے جو مریم کے پاس آئے تھے اور جو کچھ یسوع نے کیا وہ دیکھا، اُس پر ایمان لائے۔ لیکن اُن میں سے بعض فریسیوں کے پاس گئے اور جو کچھ یسوع نے کیا تھا اُنہیں بتایا۔ پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے عدالتی مجلس بُلا کر کہا، ”ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ شخص تو بہت سے نشان دکھاتا ہے۔ اگر ہم اُسے یوں ہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر ایمان لے آئیں گے، اور رومی آ کر ہماری جگہ اور ہماری قوم دونوں کو چھین لیں گے۔“

لیکن اُن میں سے ایک نے، یعنی کائفا نے، جو اُس سال کا سردار کاہن تھا، اُن سے کہا، ”تم کچھ بھی نہیں جانتے، اور نہ یہ سوچتے ہو کہ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ ایک آدمی لوگوں کے لیے مرے، بجائے اِس کے کہ ساری قوم ہلاک ہو جائے۔“ اُس نے یہ اپنی طرف سے نہ کہا، بلکہ اُس سال کا سردار کاہن ہونے کے سبب اُس نے نبوّت کی کہ یسوع اُس قوم کے لیے مرے گا، اور نہ صرف اُس قوم کے لیے، بلکہ اِس لیے بھی کہ ہمارے باپ کے بکھرے ہوئے فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے۔ b b v52 کائفا نے اپنی سمجھ سے بڑھ کر کہہ دیا۔ یسوع صرف یہودی قوم کے لیے نہیں، بلکہ اِس لیے مرنے والا تھا کہ ہمارے باپ کے ہر بکھرے ہوئے فرزند کو ایک ہی خاندان میں جمع کر دے۔ پس اُسی دن سے اُنہوں نے اُسے قتل کرنے کی سازش کی۔ چنانچہ یسوع اِس کے بعد یہودیوں کے درمیان کھلم کھلا نہ پھرتا رہا، بلکہ وہاں سے بیابان کے قریب افرائیم نامی ایک شہر کو چلا گیا، اور اپنے شاگردوں کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہا۔

اور یہودیوں کی عیدِ فسح نزدیک تھی، اور بہت سے لوگ عید سے پہلے دیہات سے یروشلیم کو گئے تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں۔ چنانچہ وہ یسوع کو ڈھونڈنے لگے اور ہیکل میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ عید میں ہرگز نہ آئے گا؟“ اور سردار کاہنوں اور فریسیوں نے حکم دے رکھا تھا کہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ وہ کہاں ہے تو اِطلاع دے، تاکہ وہ اُسے پکڑ لیں۔

A young man reading the Father's Heart Bible print edition in a coffee shop اب چھپی ہوئی صورت میں دستیاب

تبصرے

کوئی خیال، سوال، یا کوئی بات جو اِس باب نے آپ کے دل میں جگائی — یہاں بانٹیں۔ ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

پڑھنا، نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا سب کے لیے کھلا ہے — کسی اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔ تبصرہ کرنا، نشان لگانا اور اپنی جگہ محفوظ رکھنا مفت اکاؤنٹ کے ساتھ ملتا ہے، اور ہر تبصرہ آپ کا نام معاونین کی فہرست پر لکھ دیتا ہے۔

خاندان میں شامل ہوں — بالکل مفت ←
  • ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلی بات آپ کہیں۔