بیت عنیاہ کا لعزر
یسوع دو دن ٹھہرتا ہے، چار دن دیر سے پہنچتا ہے، اور اپنے دوست کی قبر پر روتا ہے۔ وہ مرتھا سے کہتا ہے کہ قیامت اور زندگی وہی ہے، اپنے باپ کا بلند آواز سے شکر کرتا ہے کہ اُس نے اُس کی سنی، اور لعزر کو باہر بلاتا ہے۔ اِسی وقت عدالتِ عالیہ اُسے قتل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
11 1بیت عنیاہ کا رہنے والا لعزر نام کا ایک شخص بیمار تھا۔ یہ مریم اور اُس کی بہن مرتھا کا گاؤں تھا۔ 2یہ وہی مریم تھی جس نے خُداوند پر خوشبودار تیل ملا تھا اور اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے تھے، اور جس کا بھائی لعزر بیمار تھا۔ 3پس دونوں بہنوں نے اُسے کہلا بھیجا، ”اے خُداوند، دیکھ، جسے تُو پیار کرتا ہے وہ بیمار ہے۔“
4یہ سُن کر یسوع نے کہا، ”یہ بیماری موت پر ختم نہ ہوگی، بلکہ ہمارے باپ کے جلال کے لیے ہے، تاکہ ہمارے باپ کا بیٹا اِس کے وسیلے سے جلال پائے۔“
5اور یسوع مرتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے محبت رکھتا تھا۔ 6پس جب اُس نے سُنا کہ لعزر بیمار ہے تو جس جگہ وہ تھا وہیں دو دن اور ٹھہرا رہا۔
7اِس کے بعد اُس نے شاگردوں سے کہا، ”آؤ، ہم پھر یہودیہ کو چلیں۔“
8شاگردوں نے اُس سے کہا، ”اے ربّی، ابھی تو یہودی تجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے، اور تُو پھر وہیں جا رہا ہے؟“
9یسوع نے جواب دیا، ”کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ جو کوئی دن کو چلتا ہے وہ ٹھوکر نہیں کھاتا، کیونکہ وہ اِس دنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔ 10لیکن جو کوئی رات کو چلتا ہے وہ ٹھوکر کھاتا ہے، کیونکہ روشنی اُس میں نہیں۔“ 11یہ کہہ کر اُس نے اُن سے کہا، ”ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے، لیکن مَیں جاتا ہوں کہ اُسے جگاؤں۔“
12پس شاگردوں نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، اگر وہ سو گیا ہے تو اچھا ہو جائے گا۔“ 13یسوع نے تو یہ اُس کی موت کے بارے میں کہا تھا، مگر اُنہوں نے سمجھا کہ اُس نے نیند کے آرام کے بارے میں کہا ہے۔
14تب یسوع نے اُن سے صاف صاف کہہ دیا، ”لعزر مر گیا ہے، 15اور مَیں تمہاری خاطر خوش ہوں کہ مَیں وہاں نہ تھا، تاکہ تم ایمان لاؤ۔ لیکن آؤ، ہم اُس کے پاس چلیں۔“
16پس تھوما نے، جو توام کہلاتا ہے، دوسرے شاگردوں سے کہا، ”آؤ، ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مریں۔“
17پس جب یسوع پہنچا تو اُس نے پایا کہ لعزر کو قبر میں رکھے ہوئے چار دن ہو چکے ہیں۔ 18بیت عنیاہ یروشلیم کے قریب تھا، کوئی دو میل کے فاصلے پر، a a v18 پندرہ فرلانگ تقریباً دو میل (کم و بیش تین کلومیٹر) کے برابر تھے۔ 19اور بہت سے یہودی مرتھا اور مریم کے پاس آئے تھے کہ اُنہیں اُن کے بھائی کے بارے میں تسلی دیں۔ 20جب مرتھا نے سُنا کہ یسوع آ رہا ہے تو وہ اُس سے ملنے گئی، مگر مریم گھر ہی میں بیٹھی رہی۔ 21مرتھا نے یسوع سے کہا، ”اے خُداوند، اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔ 22لیکن اب بھی مَیں جانتی ہوں کہ جو کچھ تُو ہمارے باپ سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔“
23یسوع نے اُس سے کہا، ”تیرا بھائی پھر جی اُٹھے گا۔“
24مرتھا نے اُس سے کہا، ”مَیں جانتی ہوں کہ وہ آخری دن قیامت میں جی اُٹھے گا۔“
25یسوع نے اُس سے کہا، ”قیامت اور زندگی مَیں ہی ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ اگرچہ مر جائے تو بھی جیتا رہے گا، 26اور جو کوئی جیتا ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ہرگز کبھی نہ مرے گا۔ کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟“
27اُس نے اُس سے کہا، ”ہاں، اے خُداوند، مَیں ایمان رکھتی ہوں کہ تُو ہی مسیح ہے، ہمارے باپ کا بیٹا، جو دنیا میں آنے والا تھا۔“
28یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور اپنی بہن مریم کو چپکے سے بُلا کر کہا، ”اُستاد یہاں ہے اور تجھے بُلا رہا ہے۔“ 29وہ یہ سُنتے ہی جلدی سے اُٹھی اور اُس کے پاس گئی۔ 30یسوع ابھی گاؤں میں داخل نہ ہوا تھا بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مرتھا اُس سے ملی تھی۔ 31جو یہودی گھر میں اُس کے ساتھ تھے اور اُسے تسلی دے رہے تھے، اُنہوں نے مریم کو جلدی سے اُٹھ کر باہر جاتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ وہ قبر پر رونے جا رہی ہے، اُس کے پیچھے ہو لیے۔ 32مریم جب وہاں پہنچی جہاں یسوع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قدموں پر گِر پڑی اور کہا، ”اے خُداوند، اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔“
33جب یسوع نے اُسے روتے اور اُن یہودیوں کو بھی جو اُس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو اُس کی رُوح میں سخت اضطراب ہوا اور وہ بےقرار ہو گیا،
34اور اُس نے کہا، ”تم نے اُسے کہاں رکھا ہے؟“ اُنہوں نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، آ کر دیکھ لے۔“
35یسوع رو پڑا۔
36پس یہودی کہنے لگے، ”دیکھو، وہ اُس سے کتنی محبت رکھتا تھا!“ 37لیکن اُن میں سے بعض نے کہا، ”کیا یہ شخص جس نے اندھے کی آنکھیں کھولیں، اِسے مرنے سے نہ روک سکتا تھا؟“
38پس یسوع اپنے دل میں پھر سخت مضطرب ہو کر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھی جس پر پتھر دھرا ہوا تھا۔
39یسوع نے کہا، ”پتھر ہٹا دو۔“ مُردے کی بہن مرتھا نے اُس سے کہا، ”اے خُداوند، اب تو اُس سے بو آتی ہوگی، کیونکہ اُسے مرے چار دن ہو چکے ہیں۔“
40یسوع نے اُس سے کہا، ”کیا مَیں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ اگر تُو ایمان لائے تو ہمارے باپ کا جلال دیکھے گی؟“
41پس اُنہوں نے پتھر ہٹا دیا۔ تب یسوع نے اپنی نظر اُٹھا کر کہا، ”اے باپ، مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تُو نے میری سُن لی۔ 42مَیں تو جانتا تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے، مگر یہ مَیں نے اُس بھیڑ کی خاطر کہا جو آس پاس کھڑی ہے، تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔“ 43یہ کہہ کر اُس نے بلند آواز سے پکارا، ”لعزر، باہر نکل آ!“
44اور وہ جو مر گیا تھا کفن میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے باہر نکل آیا، اور اُس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا، ”اِسے کھول دو اور جانے دو۔“
مجلس کا اجتماع
45پس اُن یہودیوں میں سے بہتیرے جو مریم کے پاس آئے تھے اور جو کچھ یسوع نے کیا اُسے دیکھا، اُس پر ایمان لائے۔ 46لیکن اُن میں سے بعض فریسیوں کے پاس گئے اور جو کچھ یسوع نے کیا اُنہیں بتا دیا۔ 47پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے مجلس کو اکٹھا کیا اور کہا، ”ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ شخص تو بہت سے نشان دکھاتا ہے۔ 48اگر ہم اُسے یونہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر ایمان لے آئیں گے، اور رومی آ کر ہماری جگہ اور ہماری قوم دونوں کو چھین لیں گے۔“
49لیکن اُن میں سے ایک نے، یعنی کائفا نے، جو اُس سال سردار کاہن تھا، اُن سے کہا، ”تم کچھ نہیں جانتے، 50اور نہ یہ سوچتے ہو کہ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ ایک آدمی اُمّت کے لیے مرے، بجائے اِس کے کہ ساری قوم ہلاک ہو جائے۔“ 51اُس نے یہ اپنی طرف سے نہ کہا، بلکہ اُس سال کا سردار کاہن ہونے کے سبب سے اُس نے نبوّت کی کہ یسوع اُس قوم کے لیے مرے گا، 52اور نہ صرف اُس قوم کے لیے بلکہ اِس لیے بھی کہ ہمارے باپ کے بکھرے ہوئے فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے۔ b b v52 کائفا نے اپنی سمجھ سے بڑھ کر بات کہی۔ یسوع نہ صرف یہودی قوم کے لیے مرنے والا تھا بلکہ اِس لیے کہ ہمارے باپ کے ہر بکھرے ہوئے فرزند کو ایک ہی خاندان میں جمع کرے۔ 53پس اُسی دن سے وہ اُسے قتل کرنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ 54اِس لیے یسوع اُس کے بعد یہودیوں میں کھلم کھلا نہ پھرا بلکہ وہاں سے بیابان کے قریب ایک شہر کو، جو افرائیم کہلاتا ہے، چلا گیا اور اپنے شاگردوں کے ساتھ وہیں رہا۔
55اور یہودیوں کی عیدِ فسح نزدیک تھی، اور بہت سے لوگ عید سے پہلے دیہات سے یروشلیم کو گئے تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں۔ 56پس وہ یسوع کو ڈھونڈنے لگے اور ہیکل میں کھڑے ہو کر آپس میں کہنے لگے، ”تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ عید میں ہرگز نہ آئے گا؟“ 57اور سردار کاہنوں اور فریسیوں نے حکم دے رکھا تھا کہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ وہ کہاں ہے تو اُس کی خبر دے، تاکہ وہ اُسے پکڑ لیں۔