میرے دن تو محض ایک سانس ہیں
7 1”کیا انسان کی زندگی زمین پر سخت مشقت نہیں؟ اور کیا اُس کے دن مزدور کے دنوں کی مانند نہیں؟ 2جیسے غلام سائے کے لیے تڑپتا ہے، اور جیسے مزدور اپنی مزدوری کا منتظر رہتا ہے، 3اِسی طرح بےحاصل مہینے میرے نصیب میں آئے، اور رنج کی راتیں میرے لیے مقرر کی گئیں۔ 4جب میں لیٹتا ہوں تو کہتا ہوں، ’میں کب اُٹھوں گا؟‘ لیکن رات لمبی ہوتی جاتی ہے، اور میں پَو پھٹنے تک کروٹیں بدلتا رہتا ہوں۔ 5میرا جسم کیڑوں اور مٹی کے ڈھیلوں سے ڈھکا ہوا ہے؛ میری کھال سخت ہو جاتی ہے، پھر پھٹ کر بہنے لگتی ہے۔ 6میرے دن جولاہے کی نال سے بھی تیز رفتار ہیں، اور بغیر کسی اُمید کے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ 7یاد رکھ کہ میری زندگی محض ایک سانس ہے؛ میں پھر کبھی کوئی بھلائی نہ دیکھوں گا۔ 8جو آنکھ اب مجھے دیکھتی ہے وہ پھر مجھے نہ دیکھے گی؛ تیری نگاہیں مجھ پر ہوں گی، اور میں مِٹ چکا ہوں گا۔ 9جیسے بادل چھٹ کر غائب ہو جاتا ہے، اِسی طرح جو قبر میں اُترتا ہے وہ پھر اوپر نہیں آتا؛ 10وہ پھر کبھی اپنے گھر کو نہیں لوٹتا، اور اُس کا مقام پھر اُسے نہیں پہچانتا۔
11”اِسی لیے میں اپنا منہ بند نہ رکھوں گا؛ میں اپنی رُوح کی تلخی سے بولوں گا، میں اپنی جان کی کڑواہٹ میں فریاد کروں گا۔ 12کیا میں سمندر ہوں، یا سمندری اژدہا، جو تُو نے مجھ پر پہرا بٹھا دیا ہے؟ 13جب میں کہتا ہوں، ’میرا بستر مجھے تسلی دے گا، میرا پلنگ میری فریاد کو ہلکا کرے گا،‘ 14تب تُو مجھے خوابوں سے ڈراتا ہے اور رویاؤں سے دہشت زدہ کرتا ہے، 15یہاں تک کہ میں اِس جسم کی نسبت گلا گھونٹے جانے اور موت کو ترجیح دوں۔ 16میں گھلتا جا رہا ہوں؛ میں ہمیشہ تو نہ جیوں گا۔ مجھے چھوڑ دے، کیونکہ میرے دن محض ایک سانس ہیں۔
17”انسان کیا ہے کہ تُو اُسے اِتنی اہمیت دیتا ہے، اور کہ تُو اپنا دل اُس پر لگاتا ہے، 18کہ تُو ہر صبح اُس کی خبر لیتا ہے اور ہر لمحہ اُسے آزماتا ہے؟ 19تُو کب تک مجھ سے اپنی نظر نہ ہٹائے گا، اور اِتنی دیر کے لیے بھی مجھے تنہا نہ چھوڑے گا کہ میں اپنا تھوک نگل سکوں؟ 20اگر میں نے گناہ کیا ہے، تو اے انسان کے نگہبان، میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے؟ تُو نے مجھے اپنا نشانہ کیوں بنا لیا ہے، یہاں تک کہ میں خود اپنے لیے بوجھ بن گیا ہوں؟ 21تُو میرا گناہ کیوں نہیں بخشتا اور میری خطا کیوں نہیں دور کرتا؟ کیونکہ اب میں جلد ہی خاک میں لیٹ جاؤں گا؛ تُو مجھے ڈھونڈے گا، پر میں نہ ہوں گا۔“