ہمارے باپ کی تنبیہ: ملک ہی میں رہو
42 1پھر تمام فوجی سرداروں نے، یوحنان بن قریح اور یزنیاہ بن ہوسعیاہ سمیت، اور سب لوگوں نے، چھوٹے سے بڑے تک، پاس آ کر 2یرمیاہ نبی سے کہا، ”براہِ کرم ہماری التجا سنیں: ہمارے لیے، اِس سارے بقیہ کے لیے اپنے باپ سے دعا کریں، کیونکہ جیسا آپ دیکھتے ہیں، ہم بہت سوں میں سے تھوڑے سے رہ گئے ہیں، 3تاکہ آپ کا باپ ہمیں وہ راہ بتائے جس پر ہمیں چلنا چاہیے اور وہ کام جو ہمیں کرنا چاہیے۔“
4یرمیاہ نبی نے اُن سے کہا، ”میں نے تمہاری سن لی۔ میں تمہاری درخواست کے مطابق تمہارے باپ سے دعا کروں گا اور جو کچھ تمہارا باپ جواب دے گا وہ سب تمہیں بتا دوں گا، کچھ نہیں چھپاؤں گا۔“
5اُنہوں نے یرمیاہ سے کہا، ”ہمارا باپ ہمارے خلاف سچا اور وفادار گواہ ہو اگر ہم اُس ہر بات پر عمل نہ کریں جو تمہارا باپ تمہیں ہمیں بتانے کے لیے بھیجے۔ 6اچھی ہو یا بُری، ہم اپنے باپ کی آواز کی فرمانبرداری کریں گے، جس کے پاس ہم تمہیں بھیجتے ہیں، تاکہ جب ہم اپنے باپ کی آواز کی فرمانبرداری کریں تو ہمارا بھلا ہو۔“
7دس دن کے بعد ہمارے باپ کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا۔ 8چنانچہ اُس نے یوحنان بن قریح کو، اُس کے ساتھ کے سب سرداروں کو، اور سب لوگوں کو، چھوٹے سے بڑے تک، بلایا
9اور کہا، ”اسرائیل کا ہمارا باپ یوں فرماتا ہے، جس کے پاس تم نے مجھے اپنی التجا پیش کرنے کے لیے بھیجا:
10اگر تم واقعی اِس ملک میں رہو، تو میں تمہیں تعمیر کروں گا، ڈھاؤں گا نہیں؛ تمہیں لگاؤں گا، اکھاڑوں گا نہیں—کیونکہ جو آفت میں نے تم پر نازل کی اُس سے میں باز آتا ہوں۔
11بابل کے بادشاہ سے مت ڈرو جس سے تم اب ڈرتے ہو۔ اُس سے مت ڈرو، ہمارا باپ فرماتا ہے، کیونکہ میں تمہیں بچانے اور اُس کے ہاتھ سے چھڑانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔
12میں تم پر رحم کروں گا، تاکہ بابل کا بادشاہ تم پر رحم کرے اور تمہیں تمہارے ملک میں لوٹنے دے۔
13لیکن اگر تم کہو، ’ہم اِس ملک میں نہیں رہیں گے،‘ اور اپنے باپ کی آواز کی نافرمانی کرو، 14یہ کہتے ہوئے، ’نہیں، ہم مصر کو جائیں گے، جہاں ہم نہ جنگ دیکھیں گے، نہ نرسنگے کی آواز سنیں گے، نہ کبھی روٹی کے لیے بھوکے ہوں گے، اور وہیں رہیں گے،‘ 15تو ہمارے باپ کا کلام سنو، اے یہوداہ کے بقیہ۔ آسمانی لشکروں کا باپ، اسرائیل کا باپ، یوں فرماتا ہے: اگر تم مصر جانے پر تلے ہوئے ہو کہ وہاں بس جاؤ، 16تو جس تلوار سے تم ڈرتے ہو وہ مصر میں تمہیں آ لے گی، اور جس کال سے تم خوف کھاتے ہو وہ مصر میں تمہارے پیچھے پیچھے آئے گا، اور وہیں تم مرو گے۔ 17وہ سب جو مصر میں بسنے پر تلے ہوئے ہیں تلوار، کال اور وبا سے مریں گے؛ کوئی بھی نہ بچے گا اور نہ اُس آفت سے نکل پائے گا جو میں اُن پر نازل کروں گا۔
18آسمانی لشکروں کا باپ، اسرائیل کا باپ، یوں فرماتا ہے: جیسے میرا غصہ اور قہر یروشلیم کے باشندوں پر انڈیلا گیا، ویسے ہی میرا قہر تم پر انڈیلا جائے گا جب تم مصر میں داخل ہو گے۔ تم لعنت، دہشت، مذاق اور رسوائی کا نشانہ بن جاؤ گے، اور اِس جگہ کو پھر کبھی نہ دیکھو گے۔“
19”ہمارے باپ نے تم سے کہا ہے، اے یہوداہ کے بقیہ: مصر کو مت جاؤ۔ یقین جانو کہ میں آج تمہیں تنبیہ کرتا ہوں۔ 20تم نے اپنی جانوں کے عوض اپنے آپ کو گمراہ کیا، کیونکہ تم نے مجھے اپنے باپ کے پاس بھیجا، یہ کہتے ہوئے، ’ہمارے لیے ہمارے باپ سے دعا کرو؛ جو کچھ وہ کہے، ہمیں بتاؤ اور ہم اُسے کریں گے۔‘ 21آج میں نے تمہیں بتا دیا، لیکن تم نے کسی بات میں اپنے باپ کی آواز کی فرمانبرداری نہیں کی جو اُس نے مجھے تمہیں بتانے کے لیے بھیجی۔ 22تو یقین جانو: تم اُس جگہ میں تلوار، کال اور وبا سے مرو گے جہاں تم بسنا چاہتے ہو۔“