باپ یہوداہ کو اپنا کلام بھیجتا ہے
26 1جب یوسیاہ کا بیٹا یہویقیم یہوداہ پر حکومت کرنے لگا، تو ہمارے باپ کی طرف سے یہ کلام نازل ہوا:
2ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: میرے گھر کے صحن میں کھڑا ہو اور یہوداہ کے اُن سب شہروں سے، جو وہاں عبادت کے لیے آتے ہیں، ہر وہ بات کہہ جس کے کہنے کا میں تجھے حکم دیتا ہوں؛ کوئی بات نہ چھپا۔ 3شاید وہ سنیں اور ہر ایک اپنی بُری راہ سے باز آئے؛ تب میں اُس آفت کے بارے میں جو اُن کے بُرے کاموں کے سبب سے اُن پر لانے کا ارادہ رکھتا ہوں، اپنا ارادہ بدل ڈالوں گا۔ 4اُن سے کہہ: ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: اگر تم میری نہ سنو گے، اور میری اُس شریعت پر نہ چلو گے جو میں نے تمہارے سامنے رکھی ہے، 5اور میرے بندوں یعنی نبیوں کی نہ سنو گے، جنہیں میں بار بار تمہارے پاس بھیجتا رہا ہوں—مگر تم نے کبھی نہ سنا، 6تو میں اِس گھر کو سیلا کی مانند بنا دوں گا، اور اِس شہر کو زمین کی سب قوموں کے لیے لعنت ٹھہراؤں گا۔ a a v6 سیلا وہ مقام تھا جہاں کبھی ہمارے باپ کا مقدس کھڑا تھا، یہاں تک کہ وہ برباد اور ویران کر دیا گیا — یہ ایک تنبیہ تھی کہ یروشلیم کی ہیکل کا بھی وہی انجام ہو سکتا ہے۔
7کاہنوں، نبیوں اور سب لوگوں نے یرمیاہ کو ہمارے باپ کے گھر میں یہ باتیں کہتے سنا۔ 8جب یرمیاہ وہ سب کچھ کہہ چکا جس کا ہمارے باپ نے اُسے سب لوگوں سے کہنے کا حکم دیا تھا، تو کاہنوں، نبیوں اور سب لوگوں نے اُسے پکڑ لیا اور چلّا کر کہا، ”تُو ضرور مارا جائے گا! 9تُو نے ہمارے باپ کے نام سے نبوّت کر کے یہ کیوں کہا کہ ’یہ گھر سیلا کی مانند ہو جائے گا، اور یہ شہر ویران اور غیرآباد ہو جائے گا‘؟“ اور سب لوگ ہمارے باپ کے گھر میں یرمیاہ کے گرد جمع ہو گئے۔
10یہ سن کر یہوداہ کے سردار بادشاہ کے گھر سے ہمارے باپ کے گھر کو گئے اور ہمارے باپ کے گھر کے نئے دروازے کے مدخل پر بیٹھ گئے۔ 11تب کاہنوں اور نبیوں نے سرداروں اور سب لوگوں سے کہا، ”یہ شخص موت کے لائق ہے؛ اِس نے اِس شہر کے خلاف نبوّت کی ہے، جیسا تم نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔“
12یرمیاہ نے سب سرداروں اور لوگوں سے کہا، ”ہمارے باپ نے مجھے بھیجا کہ اِس گھر اور شہر کے خلاف وہ سب کچھ نبوّت کروں جو تم نے سنا۔ 13پس اپنی راہیں اور اپنے کام درست کرو، اپنے باپ کی آواز پر کان دھرو، اور تمہارا باپ اُس آفت کے بارے میں جو اُس نے تمہارے خلاف فرمائی ہے، پچھتائے گا۔ 14لیکن دیکھو، میں تمہارے ہاتھ میں ہوں۔ جو کچھ تمہاری نظر میں اچھا اور مناسب ہو مجھ سے کرو۔ 15مگر یقین جانو: اگر تم مجھے قتل کرو گے تو تم بےگناہ کا خون اپنے اوپر، اِس شہر پر اور اِس کے باشندوں پر لاؤ گے—کیونکہ فی الحقیقت ہمارے باپ ہی نے مجھے تمہارے پاس بھیجا کہ تمہارے سامنے یہ سب باتیں کہوں۔“
16تب سرداروں اور سب لوگوں نے کاہنوں اور نبیوں سے کہا، ”یہ شخص موت کی سزا کے لائق نہیں، کیونکہ اِس نے ہمارے باپ کے نام سے ہم سے کلام کیا ہے۔“
17تب ملک کے کچھ بزرگ اُٹھے اور لوگوں کی ساری جماعت سے کہنے لگے،
18”مورشتی میکاہ نے حزقیاہ کے یہوداہ پر حکومت کرنے کے دنوں میں نبوّت کی اور یہوداہ کے سب لوگوں سے کہا، ’لشکروں کے آسمانی باپ یوں فرماتا ہے: صیون کھیت کی طرح جوتا جائے گا، یروشلیم کھنڈر بن جائے گا، اور ہیکل کا پہاڑ جنگل کی اونچائی ہو جائے گا۔‘“
19کیا یہوداہ کے بادشاہ حزقیاہ اور تمام یہوداہ نے اُسے قتل کیا؟ کیا اُس نے ہمارے باپ کا خوف نہ مانا اور اُس کی رضا نہ چاہی، اور ہمارے باپ نے اُس آفت کے بارے میں جو اُس نے اُن کے خلاف فرمائی تھی نہ پچھتایا؟ ہم تو اپنے اوپر بڑی آفت لانے کو ہیں۔
20اب ایک اور شخص بھی تھا جو ہمارے باپ کے نام سے نبوّت کرتا تھا، یعنی قریت یعریم کا شمعیاہ کا بیٹا اُوریاہ۔ اُس نے اِس شہر اور ملک کے خلاف یرمیاہ ہی کی سی باتوں میں نبوّت کی۔ 21جب بادشاہ یہویقیم، اُس کے سب سورماؤں اور سب سرداروں نے اُس کی باتیں سنیں، تو بادشاہ نے اُسے قتل کرانا چاہا۔ اُوریاہ یہ سن کر ڈر گیا اور بھاگ کر مصر کو نکل گیا۔ 22تب بادشاہ یہویقیم نے مصر میں آدمی بھیجے—عکبور کا بیٹا اِلناتن اور اُس کے ساتھ اور لوگ۔ 23وہ اُوریاہ کو مصر سے بادشاہ یہویقیم کے پاس لے آئے، جس نے اُسے تلوار سے قتل کیا اور اُس کی لاش عام لوگوں کی قبروں میں پھینک دی۔
24لیکن سافن کے بیٹے اخیقام نے یرمیاہ کی حمایت کی، اِس لیے وہ قتل کیے جانے کے لیے لوگوں کے حوالے نہ کیا گیا۔