باپ اپنے راستباز بادشاہ کا وعدہ کرتا ہے
23 1”اُن چرواہوں پر افسوس جو میری چراگاہ کی بھیڑوں کو ہلاک اور منتشر کرتے ہیں!‘ ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 2پس اسرائیل کا ہمارا باپ اُن چرواہوں کے بارے میں جو میری قوم کی چرواہی کرتے ہیں یوں فرماتا ہے: ’تم نے میرے گلّے کو منتشر کر دیا اور اُنہیں ہانک کر دُور کر دیا، اور اُن کی خبرگیری نہ کی۔ اب مَیں تمہاری اُس بُرائی کا حساب تم سے لوں گا جو تم نے کی ہے، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 3پھر مَیں اپنے گلّے کے بقیہ کو اُن سب ملکوں سے جمع کروں گا جہاں مَیں نے اُنہیں ہانک دیا تھا، اور اُنہیں اُن کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا، اور وہ برومند اور کثیر ہوں گے۔ 4اور مَیں اُن پر ایسے چرواہے مقرر کروں گا جو اُن کی چرواہی کریں گے؛ وہ پھر نہ ڈریں گے نہ گھبرائیں گے، اور اُن میں سے کوئی گم نہ ہوگا، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 5دیکھو، وہ دن آ رہے ہیں، ہمارا باپ فرماتا ہے، جب مَیں داؤد کے لیے ایک راستباز شاخ برپا کروں گا، اور وہ بادشاہ کی حیثیت سے سلطنت کرے گا اور دانائی سے کام لے گا، اور مُلک میں عدل و راستبازی قائم کرے گا۔ 6اُس کے دنوں میں یہوداہ نجات پائے گا، اور اسرائیل سلامتی سے بسے گا۔ اور یہ وہ نام ہے جس سے وہ پکارا جائے گا: خُداوند ہماری راستبازی۔‘
7پس وہ دن آ رہے ہیں، ہمارا باپ فرماتا ہے، جب لوگ پھر یہ نہ کہیں گے، ’تمہارے باپ کی حیات کی قسم، جو اسرائیل کی قوم کو مصر سے نکال لایا،‘ 8بلکہ یوں کہیں گے، ’تمہارے باپ کی حیات کی قسم، جو اسرائیل کے گھرانے کی نسل کو شمال کے مُلک اور اُن سب ملکوں سے جہاں اُس نے اُنہیں ہانک دیا تھا نکال لایا اور واپس لے آیا۔‘ تب وہ اپنی ہی زمین پر بسیں گے۔“
باپ جھوٹے نبیوں کو بےنقاب کرتا ہے
9نبیوں کے بارے میں: میرا دل ٹوٹ گیا ہے؛ میری سب ہڈیاں کانپتی ہیں۔ مَیں اُس متوالے کی مانند ہوں، اُس شخص کی طرح جس پر مَے غالب آ گئی ہو، ہمارے باپ اور اُس کے مُقدّس کلام کے سبب۔ 10کیونکہ مُلک زناکاروں سے بھرا ہوا ہے؛ لعنت کے سبب مُلک ماتم کرتا ہے، اور بیابان کی چراگاہیں سوکھ گئی ہیں۔ اُن کی راہیں بُری ہیں، اور وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
11”نبی اور کاہن دونوں بےدین ہیں؛ حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی مَیں نے اُن کی بُرائی پائی ہے، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 12اِس لیے اُن کی راہ اُن کے لیے اندھیرے میں پھسلواں راستوں کی مانند ہو جائے گی، جن میں وہ دھکیلے جائیں گے اور گر پڑیں گے؛ کیونکہ مَیں اُن کی سزا کے سال میں اُن پر آفت لاؤں گا، ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 13سامریہ کے نبیوں میں مَیں نے ایک مکروہ بات دیکھی: اُنہوں نے بعل کے نام سے نبوّت کی اور میری قوم اسرائیل کو گمراہ کیا۔ 14تاہم یروشلیم کے نبیوں میں مَیں نے ایک ہولناک بات دیکھی ہے: وہ زنا کرتے ہیں، جھوٹ میں زندگی بسر کرتے ہیں، بدکاروں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں، تاکہ کوئی اپنی بُرائی سے باز نہ آئے۔ وہ سب میرے نزدیک سدوم کی مانند ہو گئے ہیں، اور اُس کے باشندے عمورہ کی مانند۔‘
15پس آسمانی لشکروں کا باپ نبیوں کے بارے میں یوں فرماتا ہے: مَیں اُنہیں کڑوا کھانا کھلاؤں گا اور زہرآلود پانی پلاؤں گا، کیونکہ یروشلیم کے نبیوں سے بےدینی پورے مُلک میں پھیل گئی ہے۔‘
16آسمانی لشکروں کا باپ یوں فرماتا ہے: اُن نبیوں کی نہ سنو جو تمہارے سامنے نبوّت کرتے ہیں؛ وہ تمہیں جھوٹی اُمید سے بھر دیتے ہیں، اپنے ہی دل کی رویائیں بیان کرتے ہیں، نہ کہ میرے مُنہ کی۔ 17وہ اُن سے جو میرے کلام کو حقیر جانتے ہیں برابر کہتے رہتے ہیں، ’تمہیں سلامتی حاصل ہوگی،‘ اور ہر اُس شخص سے جو ضد کے ساتھ اپنے ہی دل کی پیروی کرتا ہے کہتے ہیں، ’تم پر کوئی آفت نہ آئے گی۔‘“
18کیونکہ اُن میں سے کون ہمارے باپ کی مجلس میں کھڑا ہوا کہ اُس کا کلام دیکھے اور سنے؟ کس نے اُس کے کلام پر توجہ دی اور اُسے سنا؟ 19دیکھو، ہمارے باپ کا طوفان قہر میں نکل پڑا ہے، ایک چکر کھاتی آندھی؛ وہ شریروں کے سروں پر پھٹ پڑے گا۔ 20ہمارے باپ کا غضب اُس وقت تک نہ ٹلے گا جب تک وہ اپنے دل کے ارادوں کو پوری طرح پورا نہ کر لے۔ آنے والے دنوں میں تم اِسے صاف طور پر سمجھ لو گے۔
21”مَیں نے اِن نبیوں کو نہیں بھیجا، پھر بھی وہ دوڑے؛ مَیں نے اُن سے کلام نہیں کیا، پھر بھی اُنہوں نے نبوّت کی۔ 22لیکن اگر وہ میری مجلس میں کھڑے ہوتے، تو میری قوم کو میرا کلام سناتے اور اُنہیں اُن کی بُری راہ سے اور اُن کے اعمال کی بُرائی سے پھیر لاتے۔ 23کیا مَیں صرف نزدیک ہی کا تمہارا باپ ہوں، ہمارا باپ فرماتا ہے، اور دُور کا تمہارا باپ نہیں؟ 24کیا کوئی ایسی پوشیدہ جگہوں میں چھپ سکتا ہے جہاں مَیں اُسے نہ دیکھ سکوں؟ ہمارا باپ فرماتا ہے۔ کیا مَیں آسمان اور زمین کو معمور نہیں کرتا؟ ہمارا باپ فرماتا ہے۔‘
25”مَیں نے اُن نبیوں کو سنا ہے جو میرے نام سے جھوٹی نبوّت کرتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں، ’مَیں نے خواب دیکھا! مَیں نے خواب دیکھا!‘ 26کب تک اُن نبیوں کے دلوں میں جھوٹ بھرا رہے گا جو اپنے ہی دلوں کے فریب کی نبوّت کرتے ہیں؟ 27وہ اُن خوابوں کے ذریعے جو ایک دوسرے کو سناتے ہیں میری قوم کو میرا نام بھلانے کا منصوبہ بناتے ہیں، جیسے اُن کے باپ دادا نے بعل کی خاطر میرا نام بھلا دیا تھا۔ 28جس نبی نے خواب دیکھا ہو وہ خواب بیان کرے، لیکن جس کے پاس میرا کلام ہو وہ میرا کلام دیانتداری سے بیان کرے۔ بھوسے کو گیہوں سے کیا نسبت؟ ہمارا باپ فرماتا ہے۔ 29کیا میرا کلام آگ کی مانند نہیں، ہمارا باپ فرماتا ہے، اور اُس ہتھوڑے کی مانند جو چٹان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے؟‘
30”اِس لیے دیکھو، مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں، ہمارا باپ فرماتا ہے، جو ایک دوسرے سے میرا کلام چُراتے ہیں۔ 31دیکھو، مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں، ہمارا باپ فرماتا ہے، جو اپنی زبانیں ہلاتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں، ’خُدا نے فرمایا ہے۔‘ 32مَیں اُن کے خلاف ہوں جو جھوٹے خوابوں کی نبوّت کرتے ہیں، ہمارا باپ فرماتا ہے؛ وہ اُنہیں بیان کرتے اور اپنے جھوٹ اور بےہودہ لاف زنی سے میری قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔ مَیں نے نہ اُنہیں بھیجا نہ حکم دیا، اور وہ اِس قوم کو ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتے، ہمارا باپ فرماتا ہے۔‘
بوجھ تم ہی ہو
33”جب یہ قوم، کوئی نبی، یا کوئی کاہن پوچھے، ’ہمارے باپ کا بوجھ کیا ہے؟‘ تو اُن سے کہنا، ’بوجھ تم ہی ہو! مَیں تمہیں دُور پھینک دوں گا، ہمارا باپ فرماتا ہے۔‘ a a v33 ”پیغام“ کے لیے استعمال ہونے والے لفظ کا مطلب ”بوجھ“ بھی ہے۔ لوگ ایک پیغام کا مطالبہ کرتے ہیں؛ ہمارا باپ جواب دیتا ہے کہ اُن کی اپنی بےوفائی ہی وہ بوجھ ہے جسے وہ اُتار پھینکے گا۔ 34جو نبی، کاہن، یا شخص کہے، ’ہمارے باپ کا بوجھ،‘ مَیں اُس آدمی اور اُس کے گھرانے کو سزا دوں گا۔ 35تم میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی اور بھائی سے یوں کہے: ’ہمارے باپ نے کیا جواب دیا؟‘ یا ’ہمارے باپ نے کیا فرمایا؟‘ 36لیکن پھر کبھی ’ہمارے باپ کا بوجھ‘ نہ کہنا، کیونکہ ہر شخص کا اپنا ہی کلام اُس کا بوجھ بن جاتا ہے؛ تم نے زندہ باپ، آسمانی لشکروں کے باپ کے کلام کو مسخ کر دیا ہے۔‘ 37نبی سے یوں کہنا: ’ہمارے باپ نے تجھے کیا جواب دیا؟‘ یا ’ہمارے باپ نے کیا فرمایا؟‘ 38لیکن اگر تم کہو، ’ہمارے باپ کا بوجھ،‘ تو ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: چونکہ تم نے یہ الفاظ کہے، ’ہمارے باپ کا بوجھ،‘ حالانکہ مَیں نے تمہیں کہلا بھیجا تھا، ’یہ نہ کہنا، ہمارے باپ کا بوجھ،‘ 39اِس لیے دیکھو، مَیں یقیناً تمہیں بوجھ کی طرح اُٹھا کر اپنے حضور سے دُور پھینک دوں گا—تمہیں اور اُس شہر کو جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو دیا تھا۔ 40اور مَیں تم پر ابدی رُسوائی اور دائمی شرمندگی لاؤں گا جو کبھی نہ بھلائی جائے گی۔‘“