اشدود اسور کے ہاتھوں گِر جاتا ہے
20 1جس سال سالارِ اعظم اشدود کے پاس آیا، جسے اسور کے بادشاہ سرجون نے بھیجا تھا، اُس نے اشدود سے جنگ کی اور اُسے فتح کر لیا۔
2اُسی وقت ہمارے باپ نے آموص کے بیٹے یسعیاہ کی معرفت فرمایا، ”اپنی کمر سے ٹاٹ کھول ڈال اور اپنے پاؤں سے جوتیاں اُتار دے۔“ اُس نے ایسا ہی کیا، اور برہنہ اور ننگے پاؤں چلتا رہا۔ 3پھر ہمارے باپ نے فرمایا، ”جس طرح میرا خادم یسعیاہ تین سال برہنہ اور ننگے پاؤں چلتا رہا ہے، تاکہ مصر اور کوش کے خلاف ایک نشان اور شگون ہو، a a v3 کوش اُس علاقے کا قدیم نام ہے جو اب سوڈان اور شمالی ایتھوپیا پر مشتمل ہے۔ 4اُسی طرح اسور کا بادشاہ مصر کے قیدیوں اور کوش کے جلاوطنوں کو، جوان اور بوڑھے سب کو، برہنہ اور ننگے پاؤں، سرینیں کھلی ہوئی، ہانک کر لے جائے گا—مصر کی رُسوائی کو بے پردہ کرتے ہوئے۔ 5تب وہ کوش کے سبب سے، جو اُن کی اُمید تھا، اور مصر کے سبب سے، جو اُن کا فخر تھا، ٹوٹ جائیں گے اور شرمندہ ہوں گے۔ 6اُس دن اِس ساحلی علاقے کے لوگ کہیں گے، ’دیکھو، ہماری اُمید کا کیا انجام ہوا، جہاں ہم مدد کے لیے بھاگے تھے، تاکہ اسور کے بادشاہ سے بچائے جائیں! اب ہم کیونکر بچ سکتے ہیں؟‘“