وہ قوانین جو محتاجوں کو لُوٹتے ہیں
10 1اُن پر افسوس جو ناانصاف احکام جاری کرتے ہیں، اور اُن لکھنے والوں پر جو ظالمانہ قوانین صادر کرتے ہیں، 2تاکہ غریبوں کو انصاف سے محروم رکھیں اور میری قوم کے محتاجوں کو اُن کے حق سے لُوٹ لیں، بیواؤں کو اپنی غنیمت اور یتیموں کو اپنا شکار بنائیں۔ 3حساب کے دن تم کیا کرو گے، جب تباہی دُور سے آئے گی؟ مدد کے لیے کس کے پاس بھاگو گے؟ اپنی دولت کہاں چھوڑو گے؟ 4سوائے اِس کے کچھ نہ بچے گا کہ قیدیوں کے درمیان جھک جاؤ یا مقتولوں کے بیچ گِر پڑو۔ تو بھی اِس سب کے باوجود اُس کا غضب نہیں ٹلا؛ اُس کا ہاتھ اب بھی بڑھا ہوا ہے۔
اسور، اُس کے ہاتھ کی لاٹھی
5”اسور پر افسوس، جو میرے غضب کی لاٹھی ہے، جس کے ہاتھ میں میرے قہر کا سونٹا ہے! 6میں اُسے ایک بے دین قوم کے خلاف بھیجتا ہوں؛ اپنے غضب کی قوم کے خلاف میں اُسے حکم دیتا ہوں، کہ مالِ غنیمت چھینے اور لُوٹ کا مال لے جائے، اور اُنہیں گلیوں کی کیچڑ کی طرح روند ڈالے۔“
7لیکن اُس کا ارادہ ایسا نہیں؛ اُس کا دل ایسا منصوبہ نہیں باندھتا۔ اُس کا مقصد تو ہلاک کرنا ہے، اور یکے بعد دیگرے قوموں کو کاٹ ڈالنا ہے۔ 8کیونکہ وہ کہتا ہے، ”کیا میرے سب سردار بادشاہ نہیں؟ 9کیا کلنو کرکمیس جیسا نہیں؟ کیا حمات ارفاد جیسا نہیں؟ کیا سامریہ دمشق جیسا نہیں؟ 10جیسے میرے ہاتھ نے اُن بادشاہتوں کو پکڑا جو بُتوں کی تھیں، جن کی کھودی ہوئی مورتیں یروشلیم اور سامریہ کی مورتوں سے بڑھ کر تھیں، 11تو کیا میں یروشلیم اور اُس کی مورتوں سے وہی سلوک نہ کروں گا جو میں نے سامریہ اور اُس کے بُتوں سے کیا؟“
12جب حاکمِ اعلیٰ باپ کوہِ صیّون اور یروشلیم کے خلاف اپنا سارا کام پورا کر چکے گا، تو میں اسور کے بادشاہ کے مغرور دل کے پھل اور اُس کی آنکھوں کے تکبّر کی سزا دوں گا۔
13کیونکہ وہ کہتا ہے: ”میں نے یہ اپنے ہاتھ کے زور سے کیا، اور اپنی حکمت سے، کیونکہ میں سمجھ رکھتا ہوں۔ میں نے قوموں کی سرحدیں مٹا دیں اور اُن کے خزانے لُوٹ لیے؛ میں نے تخت نشینوں کو کسی زبردست کی طرح نیچے گرا دیا۔ 14میرے ہاتھ نے قوموں کی دولت تک یوں رسائی پائی جیسے کسی گھونسلے تک؛ جیسے کوئی چھوڑے ہوئے انڈے جمع کرتا ہے، میں نے ساری زمین کو سمیٹ لیا۔ نہ کسی نے پر پھڑپھڑایا، نہ چونچ کھول کر چہچہایا۔ 15کیا کلہاڑا اُس پر فخر کرتا ہے جو اُسے چلاتا ہے؟ کیا آری اُس کے مقابل شیخی مارتی ہے جو اُسے پکڑتا ہے؟ گویا لاٹھی اُسے گھمائے جو اُسے اُٹھاتا ہے، گویا عصا اُسے اُٹھائے جو لکڑی نہیں!“ 16اِس لیے حاکمِ اعلیٰ باپ، آسمانی لشکروں کا باپ، اُس کے تنومند جنگجوؤں میں ایک گھلا دینے والی بیماری بھیجے گا، اور اُس کے جلال کے نیچے ایک آگ بھڑکتے شعلے کی طرح جل اُٹھے گی۔ 17اسرائیل کا نور آگ بن جائے گا، اور ہمارا قُدّوس ایک شعلہ؛ ایک ہی دن میں وہ اُس کے کانٹوں اور جھاڑیوں کو جلا کر بھسم کر دے گا۔ 18اُس کے جنگل اور اُس کے زرخیز کھیت کے جلال کو ہمارا باپ برباد کر دے گا، جان اور جسم دونوں کو؛ یہ ایسا ہوگا جیسے کوئی بیمار آدمی گھلتا جاتا ہے۔ 19اُس کے جنگل کے باقی درخت اِتنے کم ہوں گے کہ ایک بچہ اُنہیں گِن سکے گا۔
پھر سے ہمارے باپ پر ٹیک لگانا
20اُس دن اسرائیل کا بقیہ اور یعقوب کے گھرانے کے بچے ہوئے پھر اُس پر ٹیک نہ لگائیں گے جس نے اُنہیں مارا تھا، بلکہ سچّائی سے ہمارے باپ، اسرائیل کے قُدّوس، پر ٹیک لگائیں گے۔ 21ایک بقیہ لوٹ آئے گا— یعقوب کا بقیہ—قوی خُدا کی طرف۔ 22اگرچہ تیری قوم اسرائیل سمندر کی ریت کی مانند ہو، تو بھی صرف ایک بقیہ لوٹ آئے گا۔ ہلاکت ٹھہرائی جا چکی ہے، جو راستبازی سے لبریز ہے۔ 23کیونکہ حاکمِ اعلیٰ باپ، آسمانی لشکروں کا باپ، اُس ٹھہرائی ہوئی ہلاکت کو ساری زمین میں عمل میں لائے گا۔
24اِس لیے حاکمِ اعلیٰ باپ، آسمانی لشکروں کا باپ، فرماتا ہے: ”اے میری قوم جو صیّون میں بستی ہے، اسور سے خوف نہ کھا، جو تجھے لاٹھی سے مارتا ہے اور تیرے خلاف عصا اُٹھاتا ہے جیسے مصر نے کیا تھا۔ 25کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں میرا قہر تمام ہو جائے گا، اور میرا غضب اُن کی ہلاکت کی طرف پھر جائے گا۔“ 26آسمانی لشکروں کا باپ اُن کے خلاف ایک کوڑا گھمائے گا، جیسے اُس نے عوریب کی چٹان پر مِدیان کو مارا تھا؛ وہ سمندر پر اپنا عصا اُٹھائے گا جیسے اُس نے مصر میں کیا تھا۔ a a v26 عوریب کی چٹان وہ جگہ تھی جہاں جدعون کی فوجوں نے مِدیانی سرداروں کو قتل کیا (قُضاۃ 7:25)۔ 27اُس دن اُن کا بوجھ تیرے کندھے سے اُتار لیا جائے گا، اُن کا جوا تیری گردن سے؛ اور جوا توڑ ڈالا جائے گا۔
28وہ عیّات پر چڑھ آتا ہے، مجرون سے گزرتا ہے، مکماس میں اپنا سامان رکھتا ہے۔ 29وہ گھاٹی پار کرتے ہیں: ”ہم جبع میں خیمہ زن ہوں گے۔“ رامہ کانپتا ہے؛ ساؤل کا جبعہ بھاگ نکلتا ہے۔ 30اے جلیم کی بیٹی، چلّا اُٹھ! اے لیشہ، سُن! اے بیچارے عناتوت! 31مدمینہ بھاگ رہا ہے؛ جبیم کے باشندے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ 32اِسی دن وہ نوب پر ٹھہرتا ہے، صیّون کی بیٹی کے پہاڑ کی طرف اپنی مٹھی ہلاتا ہے، یعنی یروشلیم کی پہاڑی کی طرف۔ 33دیکھو، حاکمِ اعلیٰ باپ، آسمانی لشکروں کا باپ، ہولناک زور کے ساتھ شاخوں کو کاٹ ڈالے گا؛ سب سے اونچے درخت گِرا دیے جائیں گے، اور بلند و بالا پست کیے جائیں گے۔ 34وہ جنگل کی جھاڑیوں کو کلہاڑے سے کاٹ ڈالے گا، اور لبنان اُس پُرجلال ذات کے آگے گِر پڑے گا۔