لوگ ہمارے باپ سے بےوفائی کرتے ہیں
9 1جب یہ کام ہو چکا تو سردار میرے پاس آئے اور کہا: ”اسرائیل کے لوگوں، کاہنوں اور لاویوں نے اپنے آپ کو گرد و نواح کی قوموں سے اُن کی مکروہ چیزوں سمیت الگ نہیں رکھا — یعنی کنعانیوں، حِتّیوں، فرِزّیوں، یبوسیوں، عمّونیوں، موآبیوں، مصریوں اور اموریوں سے۔ 2کیونکہ اُنہوں نے اُن کی بیٹیوں میں سے کچھ کو اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بیویاں بنا لیا، اور یوں مُقدّس نسل کو گرد و نواح کی قوموں سے مِلا دیا۔ اور اِس بےوفائی میں سردار اور رئیس ہی پیش پیش تھے۔“
3یہ سُن کر مَیں نے اپنا لباس اور چوغہ پھاڑ ڈالا، اپنے سر اور داڑھی کے بال نوچے اور حیران و پریشان بیٹھ گیا۔ 4تب وہ سب جو اسرائیل کے خُدا، ہمارے باپ کے کلام سے کانپتے تھے، جلاوطنوں کی بےوفائی کے سبب سے میرے پاس جمع ہو گئے، اور مَیں شام کی قربانی تک حیران و پریشان بیٹھا رہا۔ a a v4 شام کی قربانی وہ روزانہ کی مقررہ قربانی تھی جو سہ پہر کے تقریباً تین بجے چڑھائی جاتی تھی۔
5شام کی قربانی کے وقت مَیں اپنی خاکساری سے اُٹھا، اپنے پھٹے ہوئے لباس اور چوغے سمیت گھٹنوں کے بل جھک گیا اور اپنے باپ کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے، 6اور مَیں نے کہا: ”اے میرے باپ، مَیں شرمندہ اور رُسوا ہوں کہ اپنا چہرہ تیری طرف اُٹھاؤں، اے میرے باپ، کیونکہ ہمارے گناہ ہمارے سروں سے اُونچے ہو گئے ہیں اور ہماری خطاکاری بڑھ کر آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ 7اپنے باپ دادا کے دنوں سے لے کر آج تک ہم بڑی خطاکاری میں پڑے رہے ہیں، اور اپنے گناہوں کے سبب سے ہم — ہمارے بادشاہ اور کاہن — دیگر مُلکوں کے بادشاہوں کے حوالے کیے گئے، تلوار، اسیری، لُوٹ مار اور رُوبرو رُسوائی کے سپرد کیے گئے، جیسا کہ آج ہے۔ 8لیکن اب ایک تھوڑی سی دیر کے لیے ہمارے باپ کی طرف سے فضل ہوا ہے، جس نے ہمارے لیے ایک بقیہ چھوڑا اور ہمیں اپنے مُقدّس مقام میں مضبوط قدم عطا کیا، تاکہ ہماری آنکھیں روشن ہوں اور وہ ہماری غلامی میں ہمیں تھوڑی سی تازگی بخشے۔ 9ہم غلام ہیں؛ توبھی ہمارے باپ نے ہماری غلامی میں ہمیں ترک نہیں کیا۔ اُس نے فارس کے بادشاہوں کے سامنے ہم پر اپنی عہد کی محبت بڑھائی، اور ہمیں تازگی بخشی تاکہ ہم اپنے باپ کے گھر کو کھڑا کریں، اُس کے کھنڈرات کی مرمّت کریں، اور ہمیں یہوداہ اور یروشلیم میں حفاظت کی دیوار عطا کی۔
10اور اب، اے ہمارے باپ، اِس کے بعد ہم کیا کہیں؟ کیونکہ ہم نے تیرے احکام کو ترک کر دیا ہے،
11جو تُو نے اپنے خادِموں یعنی نبیوں کی معرفت فرمائے تھے: ”جس مُلک میں تم قبضہ کرنے کے لیے داخل ہو رہے ہو وہ اُس کی قوموں کی ناپاکی سے آلودہ ہے، جن کی مکروہ رسموں نے اُسے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک اپنی نجاست سے بھر دیا ہے۔ 12پس اب نہ اپنی بیٹیاں اُن کے بیٹوں کو دو اور نہ اُن کی بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لیے لو، اور کبھی اُن کی سلامتی یا اُن کی خوشحالی کے طالب نہ ہو، تاکہ تم مضبوط رہو، مُلک کی اچھی پیداوار کھاؤ، اور اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے بچّوں کے واسطے میراث میں چھوڑ جاؤ۔“
13اُس سب کے بعد جو ہمارے بُرے کاموں اور بڑی خطاکاری کے سبب سے ہم پر آ پڑا — تب بھی تُو نے، اے ہمارے باپ، ہمارے گناہوں کے مطابق سزا سے کم دیا، اور ہمیں ایسا بقیہ عطا کیا، 14تو کیا ہم پھر تیرے احکام کو توڑیں اور اُن قوموں سے رشتہ ناتا جوڑیں جو ایسے مکروہ کام کرتی ہیں؟ کیا تُو ہم پر اِتنا غضبناک نہ ہوگا کہ ہمیں ہلاک کر ڈالے، یہاں تک کہ نہ کوئی بقیہ رہے نہ کوئی بچا ہوا؟ 15اے ہمارے باپ، اسرائیل کے خُدا، تُو راست ہے، کیونکہ ہم ایک بچے ہوئے بقیہ کے طور پر چھوڑے گئے ہیں، جیسا کہ آج ہے۔ دیکھ، ہم اپنی خطاکاری سمیت تیرے حضور حاضر ہیں، اگرچہ اِس سبب سے کوئی تیرے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔“