بکھرے بالوں کا نشان
5 1”اور تُو، اے اِبنِ آدم، ایک تیز تلوار لے، اُسے حجّام کے اُسترے کے طَور پر کام میں لا، اور اُسے اپنے سر اور داڑھی پر پھیر۔ پھر ترازو لے کر بالوں کو بانٹ۔ 2جب محاصرے کے دن پُورے ہوں تو ایک تہائی کو شہر کے اندر آگ میں جلا۔ ایک تہائی کو لے کر شہر کے گِرد تلوار سے مار۔ اور ایک تہائی کو ہوا میں بکھیر دے، اور مَیں اُن کے پیچھے تلوار کھینچوں گا۔ 3اور اُن میں سے تھوڑے سے لے کر اپنے پیراہن کے دامن میں باندھ لے۔ 4پھر اِن میں سے کچھ لے کر آگ میں ڈال دے، اور اُنہیں اُس میں جلا۔ وہاں سے آگ اِسرائیل کے سارے گھرانے میں پھیل جائے گی۔‘
5قادرِ مطلق باپ یوں فرماتا ہے: یہ یروشلیم ہے۔ مَیں نے اُسے قوموں کے درمیان رکھا، اور اُس کے گِرد ممالک قائم کیے۔ 6لیکن اُس نے میرے احکام کے خلاف قوموں سے بھی بڑھ کر بدی سے بغاوت کی، اور میرے قوانین کے خلاف اپنے گِرد کے ملکوں سے بھی زیادہ؛ کیونکہ اُنہوں نے میرے احکام کو رد کیا اور میرے قوانین پر نہ چلے۔
7پس قادرِ مطلق باپ یوں فرماتا ہے: ”چونکہ تُو نے اپنے گِرد کی قوموں سے زیادہ بغاوت کی، نہ میرے قوانین پر چلا اور نہ میرے احکام کو مانا، بلکہ اپنے گِرد کی قوموں کے دستوروں کے مطابق بھی نہ کیا، 8اِس لیے قادرِ مطلق باپ یوں فرماتا ہے: ’دیکھ، مَیں خود تیرے خلاف ہوں، اور قوموں کی نظروں کے سامنے تجھ میں عدالتیں عمل میں لاؤں گا۔ 9تیری تمام مکروہ چیزوں کے سبب سے مَیں تجھ میں وہ کروں گا جو نہ کبھی پہلے کیا اور نہ کبھی پھر کروں گا۔ 10پس تجھ میں والدین اپنے بچوں کو کھائیں گے، اور بچے اپنے والدین کو کھائیں گے۔ مَیں تجھ پر عدالتیں عمل میں لاؤں گا اور تیرے سب باقی ماندہ لوگوں کو ہر ہوا میں بکھیر دوں گا۔‘
11”میری حیات کی قسم، قادرِ مطلق باپ فرماتا ہے، چونکہ تُو نے اپنی تمام گھنونی چیزوں اور مکروہ کاموں سے میرے مقدِس کو ناپاک کیا، اِس لیے مَیں خود پیچھے ہٹ جاؤں گا؛ نہ کسی کو بخشوں گا اور نہ رحم کروں گا۔ 12’تیرا ایک تہائی وبا یا کال سے تجھ میں مرے گا؛ ایک تہائی تیرے گِرد تلوار سے گِرے گا؛ اور ایک تہائی کو مَیں ہر ہوا میں بکھیر دوں گا، اور کھینچی ہوئی تلوار سے اُن کا پیچھا کروں گا۔
13”تب میرا غضب تھم جائے گا، اور مَیں اُن پر اپنے قہر کو پُورا کر کے تسلّی پاؤں گا۔ اور جب مَیں اُن پر اپنا قہر پُورا کر چُکوں گا تو وہ جان لیں گے کہ مَیں، اُن کے باپ، نے اپنی غیرت میں کلام کیا ہے۔
14”مَیں تجھے اُن قوموں کے درمیان جو تیرے گِرد ہیں، اور ہر گزرنے والے کی نظروں کے سامنے، ویران اور رُسوا کر دوں گا۔ 15جب مَیں غضب اور قہر اور سخت سرزنش کے ساتھ تجھ پر عدالتیں عمل میں لاؤں گا تو تُو اپنے گِرد کی قوموں کے لیے رُسوائی اور ٹھٹّھا، عبرت اور دہشت بنے گا۔ مَیں، تیرے باپ، نے فرمایا ہے۔ 16جب مَیں تجھ پر کال کے مہلک تیر چلاؤں گا، جو تجھے ہلاک کرنے کو بھیجے جائیں گے، تو مَیں کال کو اَور بڑھاؤں گا اور تیری روٹی کا سہارا توڑ دوں گا۔ 17مَیں تجھ پر کال اور درندے بھیجوں گا؛ وہ تجھے بے اولاد کر دیں گے۔ وبا اور خونریزی تجھ میں سے گزریں گی، اور مَیں تجھ پر تلوار لاؤں گا۔ مَیں، تیرے باپ، نے فرمایا ہے۔‘“