یوسیاہ باپ کے حضور راستی کے کام کرتا ہے
22 1یوسیاہ آٹھ برس کا تھا جب بادشاہ بنا، اور اُس نے یروشلیم میں اِکتیس برس حکومت کی۔ اُس کی ماں یدیدہ تھی، جو بُصقت کے عدایاہ کی بیٹی تھی۔ 2اُس نے ہمارے باپ کی نظر میں راست کام کیا، اور اپنے باپ داؤد کی سب راہوں پر چلا، اور نہ دائیں نہ بائیں مُڑا۔
3اپنی حکومت کے اٹھارھویں برس میں یوسیاہ بادشاہ نے مِسُلّام کے پوتے اور اصلیاہ کے بیٹے شافن مُنشی کو ہمارے باپ کے گھر میں یہ کہہ کر بھیجا: 4حِلقیاہ سردار کاہن کے پاس جا اور اُس سے وہ سب روپیہ گِنوا جو ہمارے باپ کے گھر میں لایا گیا ہے، جسے دربانوں نے لوگوں سے جمع کیا ہے۔ 5اُسے اُن نگرانوں کے ہاتھ میں دے جو ہمارے باپ کے گھر کے کام پر مقرر ہیں، اور وہ اُسے اُن کاریگروں کو دیں جو ہمارے باپ کے گھر میں اُس کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمّت کرتے ہیں۔ 6یعنی بڑھئیوں، معماروں اور سنگتراشوں کو، اور اِس لیے کہ گھر کی مرمّت کے واسطے لکڑی اور تراشے ہوئے پتھر خریدیں۔ 7لیکن جو روپیہ اُن کے سپرد کیا جائے اُس کا اُن سے کوئی حساب نہ لیا جائے، کیونکہ وہ دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔
شریعت کی کتاب مل جاتی ہے
8حِلقیاہ سردار کاہن نے شافن مُنشی سے کہا، ”مجھے ہمارے باپ کے گھر میں شریعت کی کتاب ملی ہے۔“ اور اُس نے وہ کتاب شافن کو دی، اور اُس نے اُسے پڑھا۔ 9شافن مُنشی نے بادشاہ کے پاس آ کر کہا، ”تیرے خادموں نے وہ روپیہ جو ہیکل میں پایا گیا نکال کر اُن کاریگروں اور نگرانوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو ہمارے باپ کے گھر پر مقرر ہیں۔“ 10اور شافن مُنشی نے بادشاہ کو خبر دی کہ ”حِلقیاہ کاہن نے مجھے ایک طومار دیا ہے،“ اور شافن نے اُسے بادشاہ کے سامنے پڑھ کر سنایا۔
11جب بادشاہ نے شریعت کی کتاب کی باتیں سنیں تو اُس نے اپنے کپڑے پھاڑے۔ 12اور بادشاہ نے حِلقیاہ کاہن کو، اور شافن کے بیٹے اخیقام کو، اور میکایاہ کے بیٹے عکبور کو، اور شافن مُنشی کو، اور بادشاہ کے خادم عسایاہ کو یہ حکم دیا: 13”جاؤ، میرے لیے اور اِن لوگوں کے لیے اور تمام یہوداہ کے لیے ہمارے باپ سے اِس کتاب کی باتوں کے بارے میں دریافت کرو جو ملی ہے۔ کیونکہ ہمارے باپ کا غضب جو ہم پر بھڑکا ہے بڑا ہے، اِس لیے کہ ہمارے باپ دادا نے اِس کتاب کی باتیں نہ مانیں کہ جو کچھ ہمارے حق میں لکھا ہے اُس پر عمل کرتے۔“
14چنانچہ حِلقیاہ کاہن، اور اخیقام، اور عکبور، اور شافن، اور عسایاہ حُلدہ نبیّہ کے پاس گئے، جو شلّوم کی بیوی تھی، جو تِقوہ کا بیٹا اور حرحس کا پوتا اور لباس خانے کا نگہبان تھا۔ وہ یروشلیم کے دوسرے محلّے میں رہتی تھی، اور اُنہوں نے اُس سے بات کی۔
15اُس نے اُن سے کہا، ”ہمارا باپ، اسرائیل کا خُدا، یوں فرماتا ہے: اُس شخص سے جس نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے کہو کہ 16ہمارا باپ یوں فرماتا ہے: دیکھو، میں اِس جگہ اور اِس کے باشندوں پر آفت لاؤں گا، یعنی وہ سب باتیں جو یہوداہ کے بادشاہ نے اُس کتاب میں پڑھی ہیں۔ 17اِس لیے کہ اُنہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور اَور معبودوں کے آگے بخور جلایا، اور اپنے ہاتھوں کے سب کاموں سے مجھے غصّہ دلایا، اِس لیے میرا غضب اِس جگہ پر بھڑکے گا اور بجھایا نہ جائے گا۔
18لیکن یہوداہ کے بادشاہ سے، جس نے تمہیں باپ سے دریافت کرنے کو بھیجا ہے، یوں کہنا: ہمارا باپ، اسرائیل کا خُدا، اُن باتوں کے بارے میں جو تُو نے سنی ہیں یوں فرماتا ہے:
19چونکہ تیرا دل نرم ہوا اور تُو نے باپ کے حضور اپنے آپ کو عاجز کیا جب تُو نے وہ سنا جو میں نے اِس جگہ اور اِس کے باشندوں کے خلاف کہا کہ وہ ویران اور لعنت کا نشانہ ہو جائیں گے، اور تُو نے اپنے کپڑے پھاڑے اور میرے حضور رویا، اِس لیے میں نے بھی تیری سُن لی، باپ فرماتا ہے۔ 20اِس لیے دیکھ، میں تجھے تیرے باپ دادا کے ساتھ ملا دوں گا، اور تُو سلامتی سے اپنی قبر میں پہنچایا جائے گا، اور تیری آنکھیں وہ ساری آفت نہ دیکھیں گی جو میں اِس جگہ پر لاؤں گا۔“ پھر وہ بادشاہ کے پاس یہ جواب لے آئے۔